میں پہلے بھی کئی بار عرض کر چکا ہوں رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں، رشتے صرف خون کے اگر ہوتے کبھی ہمیں اس طرح کی خبریں سننے یا پڑھنے کو نہ ملتی کہ بیٹے نے پسند کی شادی کی اجازت نہ ملنے پر اپنے باپ کو مار دیا ،کسی بدبخت نے بیوی کے کہنے پر ماں کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا،کسی بھائی نے جائیداد کے لیے اپنے بھائی کو مار ڈالا،اْدھر کتنے بھائی اپنی سگی بہنوں کا جائیداد میں سے حصہ دبا کر بیٹھے ہوئے ہیں ،بہنیں بیچاری کئی کئی سالوں سے عدالتوں میں ذلیل ہوتی پھرتی ہیں اور بھائی وراثتی جائیداد کا جائز حصہ بھی اْنہیں نہیں دے رہے ،کیا خونی رشتے ایسے ہوتے ہیں ؟ ابھی کچھ عرصہ پہلے مجھے ایک ضلع کے ڈی پی او نے ایک ایف آئی آر بھجوائی جس میں ایک پینسٹھ سالہ بدبخت بوڑھے نے اپنی سگی نواسی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا،کیا خونی رشتے ایسے ہوتے ہیں ؟ اب احساس کے رشتوں کا بھی ذرا سن لیں ،کل ایک عزیز مجھے بتا رہے تھے اْنہوں نے اپنے کسی ضرورت کے لیے اپنے ایک دوست سے قرض لیا، قرض کی واپسی کی جو تاریخ مقررہوئی اْس پر وہ رقم کا بندوبست نہ کر سکے ، اگلے روز اس دوست کا فون آگیا جس سے اْنہوں نے قرض لیا ہوا تھا، مقروض نے شرمندگی سے کہا ’’میں بڑی معافی چاہتا ہوں فی الحال میں قرض کی واپسی کا بندوبست نہیں کر سکا ، میرے حالات ایسے نہیں ہیں‘‘ ، دوست نے کہا’’میں نے آپ کو اس لیے فون نہیں کیا آپ سے قرض کی واپسی کا تقاضا کروں ، میں نے فون اس لیے کیا ہے آپ کی خدمت میں یہ عرض کروں مجھے اپنی رقم کی کوئی پرواہ یا ضرورت نہیں ہے ،آپ اس وجہ سے پریشان نہ ہوہئے گا ،آپ کے لیے جب آسانی ہو واپس کر دیجئے گا اور نہ بھی کر سکیں میں کبھی آپ سے شکایت نہیں کروں گا نہ تقاضا کروں گا‘‘، میرے پاس اس طرح کے کئی واقعات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے’’رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں‘‘ ، یہ احساس ہی کا رشتہ تھا ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب اچانک ایک بْرے خواب سے میں ہڑبڑا کر اْٹھا، ایک چکر سا آیا اور میں بیڈ سے نیچے گر گیا ، باہر اْس وقت شدید طوفان تھا ساتھ بارش بھی تھی ، بیگم گھبرا گئی، اْس نے مجھ سے پوچھا کیا ہوا ؟ میں نے اْسے خواب نہیں سنایا ، کہتے ہیں خواب نہیں سنانے چاہئیں، اور بْرے خواب تو بالکل ہی نہیں سنانے چاہئیں، سو میں نے بات ٹال دی ، میں نے کہا ’’باہر طوفانی بارش کی آواز سے میرا دل ذرا گھبرا رہا ہے، پھر رات کے پچھلے پہر کتنی دیر تک ہم ادھر اْدھر کی باتیں کرتے رہے، مگر دل میں مسلسل بے سکونی تھی ، میں دوسرے کمرے میں چلے گیا ،کچھ دیر بعد فجر کی اذانیں شروع ہوگئیں، میں نے اپنا کام کیا اور سورۃ رحمن سننے لگا ، دل کی بے چینی مگر ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ، میں باہر لان میں گیا ، بارش تھوڑی تھم سی گئی تھی ، میں نے پرندوں کو دانہ ڈالا اور واپس اندر آگیا ، سات بجے کے قریب ایک دوست کی کال آئی، اْس کی آواز میں گھبراہٹ تھی ، جیسی میرے دل میں تھی ، اْس نے بتایا’’احمد کو گولیاں لگ گئی ہیں اور وہ جان بحق ہو گیاہے ‘‘مجھے اپنا وہ بْرا خواب یاد آگیا جو کچھ دیر پہلے میں نے دیکھا تھا ، مجھے اپنی وہ بے چینی یاد آگئی جو کتنی دیر سے جاری تھی ،اب مجھے پتہ چلا یہ بے چینی کیوں تھی ، ہاں رشتے واقعی خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں‘‘ ، احمد کے ساتھ میرا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا ، وہ میرے بھائیوں سے بڑھ کر عزیز دوست میاں عادل رشید کا چھبیس سالہ انتہائی خوبصورت اکلوتا بیٹا تھا، ابھی چند برس پہلے اْس کی شادی ہوئی تھی اور وہ دو سالہ بیٹے کا باپ تھا، بڑا اچھا بچہ تھا ، ایک خرابی تو اْس میں یہ تھی وہ بڑا ہوگیا تھا ، اس خرابی کے بارے میں ہماری ممتاز ادیبہ بانو قدسیہ مرحومہ نے کتنی خوبصورت بات لکھی تھی’’بچے اچھے ہوتے ہیں مگر اْن میں ایک خرابی ہوتی ہے وہ بڑے ہوجاتے ہیں‘‘، دوسری خرابی اْس میں یہ تھی، اور یہ اس دور کی سب سے بڑی خرابی ہے جس سے میں بھی آج کل بچنے کی پوری کوشش کرتا ہوں ، وہ خرابی یہ ہے اْس کے دوست بہت زیادہ تھے اور دوستوں کی اکثر لڑائیاں وہ اپنے کھاتے میں ڈال لیتا تھا بعد میں اْسے پتہ چلتا جن دوستوں کی خاطر اْس نے لڑائیاں لڑیں اْنہوں نے آپس میں صلح کر لی اور وہ بے چارہ اْن کی دشمنیاں بْھگتا رہا، آج کل کے دوست بس ایسے ہی ہوتے ہیں،کتنا خوبصورت شعر ہے
موسم تیرے آون نال
موسم تیرے جاون نال
بندہ کلا رہ جاندا اے
بوہتے یار بناون نال
ہمارا احمد بھی ’’بوہتے یاروں‘‘کی بھینٹ چڑھ گیا، اْس کے اکثر دوستوں نے اْسے اپنی دوستی کے لیے کم اور اپنی دشمنی کے لیے زیادہ استعمال کیا، ابھی مئی میں بیرون مْلک جانے سے پہلے میری اْس سے ملاقات ہوئی، مجھے کیا پتہ تھا یہ میری اْس سے آخری ملاقات ہے ، اْس روز اْس کا فون آیا، میں دفتر میں تھا ، کہنے لگا ’’انکل میرے کچھ دوست آپ سے ملنا چاہتے ہیں، آپ کے ساتھ تصویریں بنانا چاہتے ہیں ، کچھ دوست گجرات سے بھی آئے ہیں‘‘، میں نے کہا’’بیٹا میں اس وقت کالم لکھ رہا ہوں آپ ان سب کو ساڑھے بارہ بجے دوپہر میرے دفتر لے آئیں‘‘وہ اپنے دوستوں کو لے کر ٹھیک ساڑھے بارہ بجے میرے دفتر آگیا ،بہت وقت میں نے اْن کے ساتھ گزارا ، کچھ سبق آموز اور کچھ ہنسی مذاق کی باتیں ہوتی رہیں ، پھر وہ سب مجھ سے کہنے لگے ’’انکل آپ ہمارے ساتھ کیفے الانتو چلیں ، ہم نے آپ کے ساتھ لنچ کرنا ہے‘‘، مجھے اْس روز ایک سینئر بیوروکریٹ نے لنچ کی دعوت دے رکھی تھی، میرے لئے یہ بڑی آزمائش تھی ، ایک طرف بیٹوں کی طرح عزیز میرے بچے مجھے کھانے پر ساتھ لے جانا چاہتے تھے ، دوسری طرف ایک فیڈرل سیکرٹری نے بلایا ہوا تھا، میں نے بچوں کا دل رکھ لیا، میں نے سیکرٹری صاحب کو کال کی، اْن سے جھوٹ بولا، اْنہیں کسی ایمرجنسی کا بتایا اْن سے کہا’’میں آج نہیں آسکوں گا ، آپ کوئی اور دن مقرر کر لیں‘‘، انہوں نے اگلے ہفتے کا ایک دن مقرر کر لیا اور میں اس شرط پر اْن بچوں کے ساتھ چلے گیا کہ اس لنچ کو میں ہوسٹ کروں گا ، ریسٹورنٹ میں بھی بڑے مزے کی باتیں ہوتی رہیں ، واپسی پر احمد نے تمام دوستوں کو رخصت کیا ، میرا خیال تھا وہ بھی دوستوں کے ساتھ چلا گیا ہے ،کچھ دیر بعد وہ میرے دفتر میں داخل ہوا اور کھڑے ہو کر میرا شکریہ ادا کرنے لگا، میں نے اْسے بیٹھا لیا، میں اْس سے کچھ ضروری باتیں کرنا چاہتا تھا ، میں نے اپنے دفتر کے مددگار سے کہا اب اندر کسی کو مت آنے دینا.۔( جاری ہے )
میاں احمد جاوید
09:25 AM, 7 Oct, 2025