ملکی استحکام کے لئے ہم آہنگی کی فضا ناگزیر

09:17 AM, 7 Nov, 2025

اس وقت پاکستان بہت سنگین صورتحال سے گزر رہا ہے۔ واقعات سے واضح ہے کہ بھارت سرکار اور افغان طالبان کی عبوری حکومت کے درمیان پاکستان مخالف یک نکاتی ایجنڈے پر مکمل اتفاق ہو چکا ہے۔ ایک طرف بھارت کی جنگی تیاریاں اور دوسری طرف طالبان اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات معاملات کی سنگینی کی خبر دے رہے ہیں۔ پاکستان میں جاری دہشت گردی میں اندرونی و بیرونی قوتوں اور خفیہ ہاتھوں کے علاوہ " را" اور" موساد" کی جانب سے تخریبی کارروائیاں اور اس میں ملوث گروہوں کی مالی، عسکری اعانت اور سرپرستی بھی شامل ہے۔ بھارت کے ساتھ امریکہ کے دفاعی معاہدے میں دس سالہ توسیع اور بھارت اسرائیل کے درمیان جاری تزویراتی تعاون کے بعد افغان طالبان حکومت کسی خوش فہمی کا شکار ہیں۔ 
ملک کی مغربی سرحدوں سے خوارج در اندازیوں کی کوشش میں ہمارے غیور محافظوں اور جوانوں کے ہاتھوں جہنم واصل ہو رہے ہیں۔ ہماری سیاسی و عسکری قیادت نے ملک دشمن قوتوں کو باور کرا دیا ہے کہ ہماری سرزمین پر حملہ ناقابلِ برداشت ہے اور اس کے پیچھے جو بھی ہے اسے سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس ضمن میں ہمارے اربابِ اختیار نے باوقار انداز اور خود مختار قومی رویہ اپنایا ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہئے تھا۔ لیکن ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے موجودہ صورتحال بڑی گھمبیر ہے کیونکہ باوجود اس کے عسکری اعتبار سے افغانستان کا پاکستان سے کوئی مقابلہ نہیں ہے پاکستان افغانستان میں اپنی مرضی کے اہداف کو بڑی آسانی کے ساتھ نشانہ بنا سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان معاملات کو اس نہج پر لے جا سکتا ہے اور فرض کیا کہ اگر ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے تو پھر آگے کیا ہو گا؟ کیا کسی نے کبھی اس بات کو سوچا ہے کہ یہ کس قدر مشکل بات ہے۔ معاملات اتنے سادہ نہیں ہیں جس طرح بیان بازی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے معاملات کو بڑی گہرائی کے ساتھ دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات ہمیں بھولنی نہیں چاہئے کہ جیسا کہ اوپر بھی ذکر کیا ہے کہ بہت ساری قوتیں ہمارے ارد گرد جالے بن رہی ہیں۔ ہندوستان، اسرائیل بلکہ امریکہ بھی وہ دو مسلمان ملکوں کو الجھانا چاہتے ہیں افغان طالبان تو یہ بات سمجھ نہیں سکتے، وہ دہائیوں سے جنگ لڑ رہے ہیں، پاکستان کو زیادہ عقل مندی اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اس لئے پاکستان کو فوجی حل کو ایک آپشن کے طور پر سمجھنا چاہئے۔ بس اس آپشن کو ڈیٹرنس کی شکل میں رکھنا چاہئے اور اس کا ذکر کرتے رہنا چاہئے۔ پاکستان دنیا میں ایک ترقی کرتی معیشت ہے اس کا ہر اعتبار سے نقصان زیادہ ہی ہو گا۔ 
سچی بات یہ ہے کہ ہمیں کھلے ذہن سے حالات کا تجزیہ کرنا چاہئے۔ حکومتیں تو آنی جانی چیز ہیں، یہ وطن ہمارا ہے، ہمارے بزرگوں نے یہ بڑی قربانیوں سے حاصل کیا اور ہمارے بزرگ یہیں پر مدفون ہیں۔ ہماری آئندہ نسلوں کو بھی اس ملک کی مٹی کا بستر نصیب ہونا ہے۔ میں یہ سطور خلوصِ نیت کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ اگر اب بھی ہم نے اپنے حالات کو نہ سمجھا اور ملکی افق پر لہرانے والے خطرات کا ادارک نہ کیا تو پاکستان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں دہشت گردی، معاشی ابتری اور سیاسی بحران ہے۔ ہمیں سب سے پہلے سیاسی بحران پر قابو پانا ہو گا۔ 
ملک کو ان تمام درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے قومی وحدت ایک ناگزیر امر کا درجہ رکھتی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو قومی اتحاد کے حصول کے لئے تمام لیڈروں کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اس محاذ پر ساری قوم متحد ہو گی تو معاملات بہتر کرنے میں زیادہ آسانی ہو گی جیسا کہ ہم 1965ء کی جنگ میں دیکھا تھا۔ موجودہ سنگین حالات میں ملک بھر کی سیاسی و مذہبی طاقتیں اور عوامی حلقے حساس ایشوز پر ہم آہنگی اختیار کریں گے تو ہی ملک کو درپیش مسائل کا کوئی حل نکالا جا سکے گا اور چیلنجوں سے نمٹا جا سکے گا۔ ماضی کے حالات و واقعات کو مدِ نظر رکھا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ مختلف امور پر اتفاقِ رائے پیدا نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں قومی سطح پر ناقابلِ تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان پالیسی کے حوالے سے اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن جہاں ملکی مفاد کی بات ہوتی ہے وہاں یہ اختلافات ختم کر دئے جاتے ہیں اور قوم کے بہترین مفاد میں ایک دوسرے کو گلے لگا لیا جاتا ہے۔ اس وقت پاکستان کو جن اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے اس کا تقاضا ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی قوتیں ملک کے استحکام اور اسے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ایشوز پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گی کہ وقت اسی کا متقاضی ہے۔

مزیدخبریں