یارو وہ بھی کیا زمانہ تھا! کچھ نہ کچھ رنگ بازی چلتی رہتی تھی، ہلکی پھلکی تھاپ پر دھرنے، جلاؤ گھیراؤ، ہڑتالیں، موج مستی شور شرابہ، کبھی کسی چوک میں ہنگامہ کبھی کسی سڑک پر تماشا۔ آئے دن جی ٹی روڈ بلاک، موٹر وے بند۔ کنٹینر والوں کا کاروبار خوب چمکتا تھا۔ سڑکوں کی توڑ پھوڑ سے کبھی کبھار ٹھیکیداروں کی آنکھیں بھی چمک اٹھتی تھیں۔ ادھر اس کے ہاتھ ماچس لگی یا لائٹر آیا اْدھر میٹرو اسٹیشن نے آگ پکڑ لی۔ کہیں کوئی لفٹ جلا دی گئی تو کہیں ڈھول کی تھاپ پر کوئی گاڑی نذرِ آتش کر دی گئی۔ بھئی کیا رنگا رنگی تھی۔
ہمیں یاد ہے عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا تھا۔ ملک میں عجیب و غریب نوعیت کی جھڑپیں شروع ہو چکی تھیں۔ عالمی سٹے باز پاکستان کے دیوالیہ ہونے پر شرطیں لگا رہے تھے۔ شرطیں اس بات پر نہیں لگائی جا رہی تھیں کہ ملک دیوالیہ ہو گا یا نہیں بلکہ زور اس بات پر تھا کہ کتنے دنوں میں ہو جائے گا۔ سری لنکا پہلے ہی ایک تماشا پیش کر چکا تھا جہاں لوگ کوٹ مار اور خانہ جنگی میں مصروف ہو گئے تھے۔ کہیں خوراک کے پیچھے لڑائی دیکھنے میں آرہی تھی تو کہیں پیٹرول کے حصول کی خاطر۔ سازشی دماغوں نے پاکستان کے لیے بھی ایسے ہی منصوبے بنا رکھے تھے۔ سیاسی استحکام کی صورت حال یہ تھی کہ تاریخ کا بد ترین پروپیگنڈا عروج پر تھا۔۔میڈیا، سوشل میڈیا کا حال یہ تھا کہ ہر طرف لوگ مشتعل نظر آتے تھے۔ نہ سرکاری املاک محفوظ نظر آتی تھیں نہ آئینی ادارے۔ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت ہمیں عالمی سطح پر ایک کمزور، خستہ حال اور ناکام ریاست ثابت کرنے کے درپے تھا۔ اسرائیل کی حرکتیں دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ یاہو نے اپنے گریٹر اسرائیل کے نقشے کو خوشی خوشی کشادہ کر لیا ہو گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے دشمن ملک کے اندر اور ملک سے باہر ہر سطح ہر محاذ پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے تھے۔
ملک کے دارالحکومت کی اہم سڑکوں پر اکثر سڑکوں پر شغل لگا رہتا تھا۔ آپ انصاف کیجئے اتنے ہنگاموں سے بہلنے والا نادان دل کہاں سکون کی دنیا میں کوئی ٹھکانہ تلاش کرے۔
یہ کیفیت علامہ اقبالؒ نے مکالمہ ابلیس و جبریل میں ابلیس کے بیان کی ہے جسے ہنگاموں کی رونق سے الگ تھلگ جنت کی پر سکون، خاموش اور آرم دہ زندگی میں کوئی کشش نظر نہیں آتی۔ ابلیس جبریل کو اپنی مجبوری بتاتا ہے۔
آہ اے جبریل تو واقف نہیں اس راز سے
کر گیا سرمست مجھ کو ٹوٹ کر میرا سبو
اب یہاں میری گزر ممکن نہیں ممکن نہیں
کس قدر خاموش ہے یہ عالم بے کاخ و کو
جس کی نومیدی سے ہو سوز درون کائنات
اس کے حق میں تقنطو اچھا ہے یا لاتقنطوا
کیا دن آ گئے۔ رونق میلا ختم ہو گیا ہے۔ شنید ہے کہ معیشت اڑان بھر رہی ہے سیاست استحکام پا رہی ہے، جنگ جیتی جا چکی ہے۔ فیلڈ مارشل نے پہلے ہی جس خارجی دشمن کی نشاندہی کی تھی وہ تھیلے سے باہر آ چکا اور منہ کی کھا چکا۔
چند مشکل فیصلوں کے بعد اچانک یہ کیا ہوا کہ صورت حال تیزی سے بدلنے لگی۔ پاکستان میں سیاسی استحکام دیکھنے میں آیا پھر معاشی حالت بہتر ہونے لگی۔ مہنگائی کی شرح پر قابو پایا گیا۔وہ بھارت جو پاکستان کو کمزور سمجھ کر شیخی بھگار رہا تھا اس کو جدید جنگ میں تاریخی شکست دے کر دنیا بھر میں رسوا کر دیا گیا۔ چائنہ کے ساتھ تاریخ ساز تعاون دیکھنے میں آیا۔ یہ کیا ہوا کہ سی پیک پھر سے زندہ ہونے لگا اور حد تو یہ ہے کہ پاکستان کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے مشرق وسطی میں پاکستان سے تعاون مانگا جانے لگا۔ سعودی عرب نے پاکستان کی دفاعی طاقت کو دنیا کی مضبوط ترین اور مؤثر ترین دفاعی طاقت کے طور پر قبول کیا۔
عجیب بات ہے کہ ملک برآمدات ، ٹیکنالوجی ، توانائی، ماحولیات، ڈیجیٹل اکانومی میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں اور بہت سے ممالک سٹریٹجک تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے حصول کے لیے بھی کئی ممالک پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ایسی صورت میں نہ صرف اس خطے میں بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوتی جائے گی۔ اس سے زیادہ بڑی کامیابی ہم نے ملک کے اندر حاصل کی ہے۔ ریاست کی ناکامی کی تمام خبروں کو عملاً مسترد کیا ہے اور کم و بیش ہر پہلو سے کم ترین وقت میں ترقی ثابت کی ہے۔ خصوصاً پنجاب میں کئی ایسے اہم اقدامات کیے گئے ہیں جن کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ماضی میں کئی حکومتوں نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کی کوششیں کیں جو کہیں نہ کہیں سیاسی مصلحت کا شکار ہو کر دم توڑ جاتی تھیں لیکن اس بار یہ بظاہر نا ممکن نظر آنے والا کام بھی حکومت نے ممکن کر دکھایا اور صوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تجاوزات کو ان کی غلط فہمیوں سمیت اکھاڑ کر پھینک دیا۔ صفائی ستھرائی کا ایسا موثر نظام متعارف کروایا گیا جس نے پورے شعبے کو فعال کر دیا۔ اسی طرح بہت سے انتظامی شعبوں میں سی۔ایم۔ پنجاب کے وژن کے مطابق بہت سی متاثر کن تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔
عجیب بات ہے! پاکستان میں فیکٹریوں سے لے کر کھیل کے میدان تک آباد ہیں۔ حالیہ دنوں ساؤتھ افریقہ کی ٹیم کا پاکستان میں کامیاب دورا ملک میں امن و امان کے قیام، خوشی اور عالمی برادری کے مضبوط اعتماد کی علامت ہے۔ ہمیں یہ اعتماد ہمارے مضبوط اداروں خصوصاً سپہ سالار کی بدولت ملا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ یارانِ جہاں کوشش اکثر سکون سے تنگ آ کر پوچھتے ہیں کہ آخر فیلڈ مارشل چاہتے کیا ہیں؟؟؟؟۔
فیلڈ مارشل آخر چاہتے کیا ہیں؟؟
09:17 AM, 7 Nov, 2025