ہم بھی ایک ایسے ہی جھنجال میں پھنسا ہوا ہجوم ہیں جہاںلوگ حادثات میں مر جاتے ہیں لیکن ہم حادثاتی طور پر زندہ ہیں ۔نوحہء غم کاایسا تسلسل ہے کہ روکنے کا نام نہیں لے رہا ۔ ہماری جمہوریتیں یقینا آمریتوں کا نقاب لگا کر آتی ہیں جبکہ ہماری آمریتوں کو یہ زعم ہوتا ہے کہ اُن سے زیادہ جمہوریت پسند کوئی نہیں۔آج کل آئینی ترمیم کا شور مچا ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ اِس پر ماہرانہ رائے وہ دے رہے ہیں جنہوں نے شاید کبھی آئین پڑھنے کی تکلیف ہی نہیں کی ٗ ایسا میں نے اُن کی گفتگو سے اندازہ لگایا ۔ آئین کسی بھی ریاست کے لیے اُس کی حکومت کے بنیادی اصولوں کو قائم کرنے، اس کے مختلف اداروں کے اختیارات اور ڈھانچے کی وضاحت، شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت، اور قانون کی حکمرانی کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرنے کے لیے لکھا جاتا ہے۔ آئین مستقبل کی پیشین گوئی بھی ہوتا ہے اور مستحکم نظام بنانے میں سب سے زیادہ معاون اورمدد گار بھی ٗجومنہ زور حکومتوں کی طاقت کو محدود کرتا ہے تاکہ احتساب کو یقینی بناکرحکمرانوں کو من مرضی کی حکمرانی سے روکا جا سکے۔ آئین حکومت کے ڈھانچے کا خاکہ پیش کرتا ہے اور ریاستی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ یہ ادارے کیسے کام کریں گے ۔ یہ ایک قانونی دستاویز لوگوں کی بنیادی آزادیوں اور حقوق کی ضمانت دیتی ہے اورانہیں حکومت کی طرف سے ممکنہ بدسلوکی سے بچاتی ہے۔آئین واضح قوانین اور ضابطے قائم کرکے اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر شخص بشمول سرکاری اہلکار قانون کے تابع ہوں اور اپنے اعمال کے لیے جوابدہ بھی۔آئین سیاسی برادری کے بنیادی اقدار اور اصولوں کو بیان کرتا ہے، جیسے کہ حکومت کی قسم (مثلاً، ایک جمہوریہ، جمہوریت) اور اس کی خودمختاری کاحقیقی ماخذ ہوتا ہے۔یہ آئین ہی ہے جو ریاست کو ؒ مستحکم اور متوقع قانونی اور سیاسی ماحول فراہم کرکے استحکام اور تسلسل کو فروغ دیتا ہے۔
متوقع 27ویں آئینی ترمیم سے پہلے بھی 26ترامیم ہو چکی ہیں سو یہ کچھ ایسا نہیں جو پہلی بار ہونے جا رہا ہے ۔ حکمران اتحاد گورننس، دفاع اور وفاق کے صوبوں کے ساتھ رشتوں کو مضبوط کرنا چاہتا ہے جبکہ منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کا خیال اس سے متصادم ہے لیکن آئین میں ترامیم آئین کیلئے آکسیجن ہوتی ہے جو وقت اور حالات کی ضرورت کے مطابق ہوتی رہتی ہیں اورہونی بھی چاہئیں۔ سپریم کورٹ پر یقینا مقدمات کا وزن کم سے کم ہونا چاہیے تاکہ ریاستی معاملات کوخوش اسلوبی سے فوری طے کر لیا جائے کہ تاخیر سے کیے ہوئے ریاستی فیصلے واپس منہ پر آ لگتے ہیں ۔ 26 ویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلوں میں بہتری بھی آئی لیکن تاحال یہ بوجھ اُتنا کم نہیں ہو ا جتنا وقت کی ضرورت ہے سو اگر آئینی عدالت الگ ہوجاتی ہے تو کونسا آسمان گر پڑے گا ۔البتہ عام آدمی کو سالوں بعد تاریخ ملنا ختم ہوجائے گی ۔آئینی مقدمات کا حجم سول ٗ فوجداری اوردوسرے مقدمات کی نسبت بہت کم ہوتا ہے مگر لمبی بحثوںٗ تیاریوں اور تاخیری حربوں سے بہت زیادہ وقت ضائع ہو تا ہے ۔10فیصد آئینی مقدمات عدالت کا 50%سے بھی زائد وقت نگل جاتے ہیں جس کاخمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑجاتا ہے۔26ویں آئینی ترمیم کی وکلاء نے حمایت کی تھی اور موجودہ انتخابات میں بھی وہی لوگ کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں جو نظام کی بہتری چاہتے ہیں اور کسی سیاسی گروہ کی پسند یا نا پسند پر اپنی رائے قائم نہیں کرتے ۔ بلاشبہ 27ویں آئینی ترمیم میں بھی وکلاء کی بھرپور مشاورت کاعمل دخل ہو گا تاکہ نظام ِ عدل کو زیادہ موثر اور سود مند بنایا جا سکے۔وکلاء سیاست میں پی ٹی آئی نے 26ویں ترمیم پر تنقید کرکے اپنی سیاسی اور انتخابی بیانیے کے طور پر استعمال کیا لیکن سپریم کورٹ سے لے کر صوبائی بارکونسلز تک کے نتائج نے سیاسی بیانیہ کو یکسر مسترد کر دیا۔ خود پی ٹی آئی ٗ کے پی کے کی 28نشستوں میں سے صرف 5 جیت سکی۔ وکلاء سیاست میں سیاسی جماعت کا بیانیہ شامل کرنا بواسیر کی دوا آنکھ میں ڈال کر شفا کی امید رکھنے کے مترادف ہوتا ہے اوریہی پی ٹی آئی کے ساتھ وکلاء انتخابات میں ہوا ۔جوڈیشل کمیشن ہی ججوں کی ٹرانسفرکامجاز ادارہ ہے اوراُسی کورہناچاہیے اور اگرآئینی طور پر اسے تسلیم کرلیاجائے تو اس میں کیا برائی ہے؟ اس کمیشن میں اگر وکلا، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ طبقات کی نمائندگی بھی شامل کر لی جائے تو اس عمل میں شفافیت، توازن اور ادارہ جاتی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ بھارت کو حال ہی میں شکست دے کر پاکستان نے اپنی عسکری برتری بھارت پر واضح کر دی جس کا اعتراف دنیا نے کیا ۔جنگیں اب صرف میدان میںہی نہیں بلکہ سائبر، انفارمیشن، اور ڈیجیٹل سپیس میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ اس لیے آرٹیکل 243 کے حوالے سے ملکی سالمیت اور دفاع کو مضبوط ترین ہونا چاہیے ۔ہمارے خطے میں دوسرے ممالک نے بھی اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے حوالے سے مختلف ترامیم کی ہیں جس سے ان کی افواج اور ان کے دفاعی نظام کو تقویت ملی ہے ۔مغربی سرحد پر افغانستان کی طرف سے دراندازی کی گئی تو اس کا بھی منہ توڑ جواب دے کر سرحد کو محفوظ بنایا گیاسو ہمیں نیشنل سیکیورٹی کے معاملات پر قیاس آرائی کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔مجسٹریسی نظام کی بحالی سے جہاں عدالت کا وقت بچایا جاسکتا ہے وہیں انتظامی امور سے متعلقہ معاملات انتظامیہ کے حوالے کرکے پرائس کنٹرول سے لے کر امن عامہ تک کے معاملات کو انتظامیہ کی مؤثر نگرانی میں دیا جانا خوش آئند ہو گا۔ پاکستان میں بہت جرائم اوردہشتگردی کا گٹھ جوڑ ہے سو اگر یہ نیکسز اس طرح ٹوٹتا ہے تو بہت خوب ہے۔ تعلیم کو وفاق کے انڈر لائے بغیر یکساں نظام تعلیم کا خواب کبھی بھی پایہء تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا
۔ پاکستان ایک یونیفائیڈ نیشنل سلیبس کا شدید مطالبہ کر رہا ہے۔ پاکستان میں بہبود آبادی کے حوالے سے یکساں پالیسی کا اطلاق کیے بغیر آنے والے وقت میں اس جناتی مسئلے سے نمٹنا ممکن ہی نہیں۔ملک میں آبادی سے متعلقہ مسائل کے حل کے لیے وفاق اور تمام صوبے مل کر ایک ہی پالیسی بناکر اس پر عمل درآ مد یقینی بنائیں لیکن تمام تر تجاویز کے با وجود صوبوں سے متعلق ان تجاویز کو مشاورت اور سیر حاصل گفتگو کے بعد ہی حتمی شکل دی جائے تو بہتر رہے گا ۔پانی ایک جگہ ٹھہر ا رہے تو بدبو دار ہو جاتا ہے ۔ آئین بھی انسانی ضرورتو ں ٗ تقاضوں اور عوامی خواہشات پر بدلتا رہتا ہے سو اس میں کچھ بھی حیران کُن نہیں البتہ خوشی کی بات یہ ہے کہ اسے ایک جمہوری حکومت آئینی طور پر کر رہی ہے کیونکہ اگر مارشل لاء ہوتا تو نہ کسی نے سوال کرنا تھا اور نہ کسی کو جواب کی ضرورت محسوس ہونی تھی ۔ یہ جمہوریت کے ثمرات ہی ہیں کہ آئینی تبدیلی میں سب کی رائے لی جارہی ہے سو اس جمہوریت کو کسی ایک شخص کے خیالات یا سوچ پر تو قربان نہیںکیا جاسکتا۔
27ویں ترمیم کی باز گشت اور معروضی حالات
09:16 AM, 7 Nov, 2025