ہماری تعلیمی صورتحال پر بہت سے لوگ تبصرے کرتے نظر آتے ہیں اور بہت سے لوگ رنگ برنگی تھیوریز پیش کرتے اور مغربی اصطلاحات کی مدد سے نت نئے تدریسی ماڈل پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمیں ان سے اختلاف نہیں ہے لیکن ان باتوں میں سب سے پہلے سب سے زیادہ اہم اور سادہ عمل کو شامل کر لیا جائے تو ان باتوں کا کوئی مطلب واضح ہو جائے گا۔ یہ سادہ اور اہم عمل کتاب بینی یعنی کتاب پڑھنے کا عمل ہے۔ یعنی کوئی تھیوری کوئی ماڈل پیش کیجئے لیکن اپنے لوگوں ہر طالب علم اور استاد کو کتاب بینی کا عادی بنائیے۔ عام طور پر یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ زندگی بہت مصروف ہو گئی ہے کتاب کے لیے وقت ہی نہیں نکلتا۔ جب کہ ہم سے زیادہ مصروف زندگی گزارنے والے ممالک میں صورت حال اس سے مختلف ہے۔ پاکستان میں، ایک سروے کے مطابق پڑھنے لکھنے والے لوگوں میں سے 73فیصد ایسے ہیں جو نصابی کتاب ہے علاوہ کوئی کتاب نہیں پڑھتے۔ یہاں زیادہ زور امتحان پاس کرنے اور ڈگری حاصل کرنے پر دیا جاتا ہے۔ ہم اگر کتاب بینی کا رجحان دیگر ممالک میں دیکھیں تو سوئٹزرلینڈ میں 80 فیصد ، ڈنمارک میں 72فیصد جب کہ ناروے میں 71فیصد لوگ سالانہ کتابیں پڑھتے ہیں۔ پاکستان میں یہ شرح خاصی کم پائی جاتی ہے۔
یہاں چوں کہ بہت سے ناشر آئی ایس بی این رجسٹر ہی نہیں کراتے اور نہ اپنی تمام کتب لائبریری میں جمع کراتے ہیں اس لیے بہت سے اعداد وشمار اکٹھے کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ یہاں ترقی یافتہ ممالک کی نسبت کتابیں کم چھپتی ہیں اور چھپنے کے بعد ان کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے اکثر مصنفین اپنی کتاب چھپوا کر خود تمام جاننے والوں میں مفت تقسیم کرتے ہیں اور ساتھ منت سماجت بھی کرتے ہیں کہ پڑھ لیجیے گا۔
اگرچہ بعض کتب غیر معیاری ہونے کی وجہ سے نہیں پڑھی جاتی لیکن تمام کتب کے بارے میں ایسا نہیں کہا جا سکتا۔ ہمارے ایک دوست شاعر اور افسانہ نگار تھے جنھوں نے کئی ایوارڈز بھی حاصل کیے اور پاکستان کے کم و بیش تمام ادبی حلقوں میں خاصے مشہور رہے۔ میں نے ایک بار مال روڈ سے انار کلی تک واک کے دوران ان کی ایوارڈ یافتہ کتب زمین پر پڑی دیکھیں جو ردی کے بھاو¿ بک رہی تھیں۔ ایسی جگہوں پر اور بھی بہت سے تخلیق کاروں کی کتب کے ساتھ یہی سلوک ہوتے دیکھا۔ یہ میں نے ان صاحب کا ذکر کیا ہے جن کی کتب کو کسی بھی ادبی حلقے میں کبھی غیر معیاری نہیں کہا گیا۔
2023 میں ایک انگلش ناول نگار دوست سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے تازہ ناول کی امریکہ میں چھ لاکھ کاپیاں فروخت ہوئی ہیں۔ ساتھ ہی پبلشر نے کہا ہے کہ اگر آپ اپنے دستخط کے ساتھ یہ کتب فراہم کریں گے تو آپ کو ایک ڈالر اضافی دیا جائے گا۔ اندازہ کیجیے کہ اس مصروف دور میں بھی ترقی یافتہ ممالک میں نہ صرف کتاب پڑھنے کے لیے بلکہ فکشن سے دل لگی کے لیے بھی وقت میسر ہے۔
ہمارے ملک میں کتاب بینی اب تک ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ہم جتنے مرضی جدید ادارے قائم کر لیں اور جتنے چاہے اعلیٰ انفراسٹرکچر پر مبنی عمارتیں بنا کر بچوں کو داخل کر لیں ، جب تک اپنے معاشرے میں کتاب بینی کے عمل کو فروغ نہیں دیں گے اور اسے عادت نہیں بنائیں گے تب تک نہ تو زندہ دماغ پیدا کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی معاشرے کو حقیقی معنوں میں پڑھے لکھے افراد فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
اپنے بچوں کو بتائیے کہ کتاب صرف امتحان پاس کرنے کے لیے نہیں پڑھی جاتی۔ اس سے نئی لفظیات ملتی ہیں اور آسانی سے اپنے خیالات بیان کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوتی ہے۔ کتاب پڑھنے کا عمل تصور کرنے اور سوچنے کی صلاحیت کے ساتھ تخلیقی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ اس کی بدولت سماجی ذہانت یعنی معاشرے کی بہتر سمجھ بوجھ بھی عطا ہوتی ہے۔ انسومنیا کے مرض میں مبتلا افراد کو یہ بتانا چاہیے کہ کتاب پڑھنے سے نیند بہتر ہوتی ہے۔ ایمنیشیا کے مرض کے شکار افراد اگر کتاب پڑھیں تو انھیں فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس عمل سے یادداشت بہتر ہوتی ہے اور دماغ مضبوط رہتا ہے۔ سڑیس اور انزائڑی ڈس آرڈر کا شکار لوگ کتاب بینی کو اپنے معمولات میں شامل کر لیں تو خاصی بہتری محسوس ہو گی۔ اسی طرح کاگنیٹو امپیئرمنٹ کی صورت میں بھی اگر کوئی شخص کتاب دوستی کر لے تو کم فعال دماغ یا سست دماغ کو تیز اور فعال دماغ میں بدلا جا سکتا ہے۔ اپنے بچوں کو ڈگری یا سرٹیفکیٹ سے زیادہ کتاب کی طرف راغب کیجئے۔
ایک افسوس ناک رویہ تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ملازمت حاصل کرنے کے بعد پڑھنے کا عمل مکمل طور روک دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان لوگوں میں آگے بڑھنے کی خواہش باقی نہیں رہتی۔ اگر آپ انھیں پروموشن کے لیے دوڑ دھوپ کرتے دیکھیں تو محسوس ہو گا کہ یہ ایک سکیل اوپر جانے کے لیے دن رات تڑپ رہے ہوتے ہیں۔ مسئلہ اس تصور کا ہے جسے ترقی کی شناخت سے جوڑ دیاگیا ہے۔ تعلیم کے میدان میں ترقی گریڈ یا سکیل سے نہیں ہوتی۔ قابلیت سے ہوتی ہے۔ اگر بغیر قابلیت کے اونچے سکیل پر قابض ہو بھی گئے تو نہ ان کی عزت باقی رہے گی نہ سکیل کی۔ ان کی مثال ایسی کرنسی کی ہو گی جس کی مقدار تو زیادہ ہو لیکن "انٹرنسک ویلیو" کوئی نہیں ہوتی۔ اس سے کچھ حاصل نہیں کر پاتے۔ یا اگر ایک سکیل اوپر ہو کر تنخواہ میں اضافہ ہی مطلوب ہے تو یہ مقصد کسی بھی چھوٹی موٹی سرگرمی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اصولی طور پر تعلیم کے شعبے کا انتخاب انھی لوگوں کو کرنا چاہیے جنھیں کم از کم مسلسل پڑھنے کا شوق ہو اور "ریڈنگ" ان کے روز مرہ میں شامل ہو۔ اگر استاد خود پڑھنے کے عمل سے بیزار ہو گا تو طالب علم میں یہ عادت کیسے پیدا کر سکتا ہے۔
میرے خیال سے ہمیں ہر سطح کے تعلیمی اداروں میں ایسی پالیسی بنانی چاہیے جو "ریڈنگ" کو فروغ دے۔ طلبا میں کتاب بینی کی عادت پیدا کرے اور پڑھنے لکھنے کے مشاغل کو عام کرے۔
کتاب تھراپی سے پیچیدہ امراض کا علاج
09:06 AM, 8 May, 2026