پاکستان کی عسکری تاریخ میں "معرکہءحق" محض ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ یہ قومی غیرت، پیشہ ورانہ برتری اور دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کی وہ داستان ہے جس نے خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ اس معرکے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر پاک افواج، بالخصوص پاک فضائیہ کا پیغام اس عزم کا اعادہ ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں اور اس کی فضائی حدود ناقابلِ عبور ہیں۔
معرکہءحق کی پہلی سالگرہ ہمیں اس روشن باب کی یاد دلاتی ہے جب پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کے نام نہاد "سرجیکل سٹرائیکس" کے دعووں کو چند گھنٹوں کے اندر ہی جھوٹا ثابت کر دیا۔ فروری کے ان یادگار دنوں میں جب دشمن نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بزدلانہ دراندازی کی کوشش کی، تو پاک فضائیہ نے 'آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ' کے ذریعے دن کے اجالے میں وہ جواب دیا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ پاک فضائیہ کے ترجمان کا حالیہ پیغام محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک نئی سٹرٹیجک حقیقت کا اعلان ہے کہ پاکستان اب "نِچ" (Niche) ٹیکنالوجی، سمارٹ سسٹمز اور ملٹی ڈومین آپریشنز میں مہارت کے ذریعے مستقبل کی جنگوں کے لیے مکمل طور پر لیس ہو چکا ہے۔ یہ پیشہ ورانہ مہارت ہی ہے جس نے پاکستان کو دنیا کی بہترین فضائی قوتوں کی صف میں پہلی صف میں کھڑا کر دیا ہے۔
پاکستان کی اس عظیم دفاعی قوت کا اعتراف اب صرف دوست ممالک ہی نہیں بلکہ عالمی طاقتیں بھی کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تذکرہ انتہائی ضروری ہے۔ ٹرمپ، جو اپنی "پیس تھرو اسٹرینتھ" یعنی طاقت کے ذریعے امن کی پالیسی کے لیے مشہور ہیں، کئی بار پاکستانی قوم کی جرا¿ت اور اس کی عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے معترف نظر آئے۔ ٹرمپ کے ماضی کے بیانات اور ان کی حالیہ جیو پولیٹیکل سوچ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ پاکستان کو ایک مضبوط اور ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ٹرمپ نے بارہا یہ اشارہ دیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج خطے میں استحکام کا سب سے بڑا ضامن ہیں اور دہشت گردی کے خلاف ان کی کامیابیاں کسی معجزے سے کم نہیں۔ امریکہ کے سیاسی حلقوں میں یہ بحث اب عام ہے کہ پاکستان کی دفاعی خود مختاری اور جدید جنگی نظام نے اسے ایک ایسی طاقت بنا دیا ہے جسے عالمی سطح پر نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔ ٹرمپ کا پاکستان کے بارے میں مثبت رویہ دراصل پاکستان کی اس فوجی برتری کا بالواسطہ اعتراف ہے جو "معرکہءحق" جیسے آپریشنز سے ثابت ہوتی ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کی اس دفاعی کامیابی نے بھارت کو ایک ایسی بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے جس کا علاج شاید دہلی کے حکمرانوں کے پاس بھی نہیں۔ معرکہءحق کے دوران جب پاک فضائیہ نے دشمن کے دو طیارے گرا کر ان کے پائلٹ کو گرفتار کیا، تو اس وقت سے بھارتی عسکری قیادت کا مورال زمین بوس ہو چکا ہے۔ بھارتی میڈیا اور حکومت، جو مودی کی قیادت میں اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھ رہی تھی، اب اپنے دفاع میں کھوکھلی تاویلیں تلاش کر رہی ہے۔ بھارت نے روس اور فرانس سے اربوں ڈالر کے رافیل طیارے خریدے، ایس-400 میزائل سسٹم نصب کیا، لیکن معرکہءحق نے یہ ثابت کیا کہ جنگیں صرف مہنگی مشینوں سے نہیں بلکہ ان جذبوں، تربیت اور مہارتوں سے جیتی جاتی ہیں جو پاک فضائیہ کے جوانوں کا خاصہ ہیں۔ بھارت کی بوکھلاہٹ کا یہ عالم ہے کہ وہ اب اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے آئے روز کبھی فالس فلیگ آپریشن کا شوشہ چھوڑتا ہے تو کبھی بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ابھینندن کی گرفتاری اور چائے کا وہ کپ بھارتی تکبر کے تابوت میں وہ آخری کیل تھی جس کی گونج صدیوں تک بھارتی سورماو¿ں کے کانوں میں سنائی دے گی۔
پاک فضائیہ کا "سیکنڈ ٹو نن" (Second to None ) کا نعرہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ آج پاک فضائیہ مصنوعی ذہانت (AI)، سائبر وارفیئر اور جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی میں جس تیزی سے سرمایہ کاری کر رہی ہے، اس نے دشمن کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ جے ایف-17 تھنڈر بلاک 3 جیسے جدید طیاروں کی شمولیت اور مقامی سطح پر دفاعی پیداوار میں خود کفالت نے پاکستان کو کسی بھی بیرونی امداد سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق، پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور ہماری تمام تر تیاریاں خطے میں امن و استحکام کے لیے ہیں۔ لیکن یہ امن کسی کی خیرات نہیں بلکہ ہمارے وقار اور خودمختار برابری سے جڑا ہے۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، کیونکہ کسی بھی مہم جوئی کا جواب پہلے سے زیادہ شدت، درستگی اور طاقت کے ساتھ دیا جائے گا۔
عالمی مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ معرکہءحق نے پاکستان کے دفاعی نظریے کو نئی جدت دی ہے۔ اب دشمن یہ جان چکا ہے کہ پاکستان کی حدود میں داخل ہونا تو شاید ان کے لیے ممکن ہو، مگر وہاں سے صحیح سلامت واپس جانا نامکن ہے۔ پاک افواج کی جدید سٹرٹیجک سوچ، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دشمن کی ہر چال سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رہنا اس بات کی ضمانت ہے کہ قوم کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ پاکستانی مسلح افواج نے ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف روایتی جنگ بلکہ 'ففتھ جنریشن وارفیئر' میں بھی دشمن کو شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
آج جب پوری قوم معرکہءحق کی پہلی سالگرہ منا رہی ہے، تو ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہے کہ اس کی افواج نہ صرف سرحدوں کی محافظ ہیں بلکہ وہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور ایمانی جذبے سے لیس ایسی قوت ہیں جس کا لوہا پوری دنیا مانتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے عالمی قد آور لیڈروں کی تعریفیں، روس اور چین کے ساتھ بڑھتا ہوا عسکری تعاون اور بھارت کی مسلسل بوکھلاہٹ اس بات کی تصدیق ہے کہ پاکستان ایک عظیم دفاعی قوت بن کر ابھر چکا ہے۔ پاکستان کے لیے امن ہمیشہ سے اولین ترجیح رہا ہے، لیکن یہ امن غلامی کی قیمت پر کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔
ان شاءاللہ، پاکستان کی یہ عظمت تاقیامت قائم رہے گی اور پاک فضائیہ ہمیشہ اس عظیم قوم کے لیے فخر، طاقت اور اعتماد کی علامت بنی رہے گی۔ ہماری عسکری قیادت کا عزم اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت یہ پیغام دے رہی ہے کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر تھا۔ ہے۔ اور ہمیشہ رہے گا۔ دشمن یاد رکھے کہ ہر اگلی مہم جوئی کا انجام وہی ہوگا جو اس نے "معرکہءحق" کی عبرتناک شکست میں دیکھا تھا۔ آج رات پوری قوم اپنے ان غازیوں کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے آسمانوں پر پہرہ دے کر ہمیں پرسکون نیند فراہم کی۔
فولادی عزم: جب غرورِ ہند خاک ہوا
09:04 AM, 8 May, 2026