بمباری اور میزائلوں کی بوچھاڑ: 'آپریشن وعدہ صادق 4' کی 25 ویں لہر سے خطہ لرز اٹھا

07:18 PM, 7 Mar, 2026

تہران/تل ابیب :مشرقِ وسطیٰ میں جنگی جنون عروج پر پہنچ گیا ہے۔ ایران نے اپنے بڑے عسکری مشن 'وعدہ صادق 4' کی 25 ویں لہر کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت اسرائیل اور خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر زمین، فضا اور سمندر سے بیک وقت تابڑ توڑ حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس تازہ کارروائی میں اپنے سب سے مہلک بیلسٹک میزائل 'القدر' اور ہائپر سونک میزائل 'الفتح' کا استعمال کیا ہے۔ ان میزائلوں نے اسرائیل کے اہم دفاعی حصار کو توڑتے ہوئے اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنایا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق 'الفتح' میزائل کی رفتار نے دشمن کے ریڈار نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
جنگ کا دائرہ کار پھیلتے ہی متحدہ عرب امارات میں واقع دھفر ایئربیس پر بھی میزائل گرے ہیں۔ یہ بیس امریکی فضائیہ کا اہم مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں ایئربیس کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد خطے میں موجود تمام امریکی اڈوں پر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ایرانی بحریہ نے بحیرہ احمر اور خلیج میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈرونز کے ذریعے امریکی بحری بیڑوں اور اسرائیلی ساحلی تنصیبات پر خودکش حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کا مقصد دشمن کی سپلائی لائن اور بحری نقل و حرکت کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔
ایران کے اس جارحانہ اقدام کے بعد عالمی منڈیوں میں اضطراب پھیل گیا ہے اور واشنگٹن سمیت عالمی دارالحکومتوں میں ہنگامی مشاورتی اجلاس طلب کر لیے گئے ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی 'وعدہ صادق' کے تحت ان تمام قوتوں کو جواب ہے جو خطے کے امن میں مداخلت کر رہی ہیں۔

مزیدخبریں