امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کا ایران کو "انتہائی سخت" اور فیصلہ کن حملوں کا نشانہ بنانے کا الٹی میٹم

04:44 PM, 7 Mar, 2026

واشنگٹن : مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آج ہی "انتہائی سخت" اور فیصلہ کن حملوں کا نشانہ بنانے کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی و اسرائیلی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے اپنے پڑوسیوں سے معافی مانگ لی ہے، تاہم اب اسے ایسی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں ایران کے بدلے ہوئے رویے کو امریکی طاقت کی فتح قرار دیتے ہوئے کہاایران نے اپنے مشرقِ وسطیٰ کے پڑوسیوں سے معافی مانگ کر مزید حملے نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ایران کے گذشتہ 'برے سلوک' کی پاداش میں اب ان علاقوں اور گروہوں کو نشانہ بنایا جائے گا جنہیں اب تک محفوظ سمجھا جا رہا تھا۔ امریکی صدر کے مطابق یہ سب امریکہ اور اسرائیل کے مسلسل اور بے رحم حملوں کا نتیجہ ہے۔
ایرانی صدر نے ایک ریکارڈ شدہ پیغام میں پڑوسی ممالک پر حملے روکنے کی مشروط منظوری دی ہے، بشرطیکہ ان کی زمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہو۔ دوسری طرف، پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو تمام امریکی اور اسرائیلی فوجی اڈے ان کے "بنیادی نشانے" ہوں گے۔
واشنگٹن کے دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی اس دھمکی نے سفارتی کوششوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اگر آج یہ حملے ہوتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسی ہمہ گیر جنگ چھڑ سکتی ہے جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت اور امن پر مرتب ہوں گے۔

مزیدخبریں