عالمی توانائی کا بحران: خام تیل کی قیمتوں میں 9 فیصد ریکارڈ اضافہ، عالمی معیشت کے لیے 'ریڈ الرٹ' جاری

09:26 AM, 7 Mar, 2026

لندن/ دوحہ: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، سپلائی چین میں تعطل اور جنگی حالات کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں یکمشت 9 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی منڈی میں قیمت 93 ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر گئی ہے۔
مارکیٹ میں 88 ڈالر فی بیرل کی سطح پر فروخت ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں مشکلات نے عالمی سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جس کا براہِ راست اثر قیمتوں پر پڑا ہے۔قطری وزیرِ توانائی نے عالمی معیشت کو لاحق خطرات پر بات کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ  خلیجی ممالک جنگی حالات کے پیشِ نظر آئندہ چند ہفتوں یا دنوں میں تیل کی پیداوار مکمل طور پر روک سکتے ہیں۔اگر جنگ فوری طور پر ختم بھی ہو جائے، تب بھی توانائی کی ترسیل کو معمول پر آنے میں کئی ہفتوں سے مہینوں تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

قطری وزیر کے مطابق اس صورتحال سے عالمی معیشت پر پڑنے والا دباؤ ناقابلِ تلافی معاشی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

مزیدخبریں