تہران/ واشنگٹن : مشرقِ وسطیٰ میں جنگی بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو براہِ راست چیلنج کر دیا ہے جس میں انہوں نے امریکی بحریہ کے ذریعے آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کو گزارنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ایرانی حکام نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگر ہمت ہے تو امریکی جنگی جہازوں کی حفاظت میں آئل ٹینکرز نکال کر دکھائیں۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند نہیں کیا، تاہم اسرائیل اور امریکہ کے کسی بھی بحری جہاز کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے منگل کو بیان دیا تھا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ تیل کی سپلائی کو یقینی بنائے گی، جس کے جواب میں ایران نے اپنی عسکری قوت کا مظاہرہ کرنے کا چیلنج دیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں ناکامی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 9 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔قطری وزیرِ توانائی نے صورتحال کو "انتہائی خطرناک" قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی یہ جنگ عالمی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو خلیجی ممالک چند ہفتوں میں تیل کی پیداوار روک سکتے ہیں۔خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز میں ٹکراؤ کی صورتحال: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا صدر ٹرمپ کو کھلا چیلنج
09:17 AM, 7 Mar, 2026