کتنا مشکل تیری آنکھ کے قابل ہونا....

09:49 PM, 7 Mar, 2025

انسانی زندگی جانوروں کی طرح محض چندجبلتوں کا مجموعہ نہیں اس کی نفسیات اس قدر مہین ہے کہ زندگی کی ہردہائی ایک نئے انکشاف کے ساتھ کھلتی ہے اور اپنا خراج وصول کرتی ہوئی اگلی دہائی میں ٹوٹا پھوٹا وجود منتقل کرجاتی ہے ۔
ہم خود سے آشنانہیں ہوتے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی شخصیت کی ایسی ایسی پرتیں کھلتی ہیں کہ دنگ رہ جاتے ہیں آئینہ کے سامنے سبکی محسوس ہوتی ہے اور دل پکار اٹھتا کہ یہ ہم ہیں اتنے کمزور اتنے بے بس ....
زندگی میں معاملات کی درستی پہ مذہب زیادہ زور دیتا ہے کیونکہ یہ ایسا دقیق اور مشکل کام ہے جس کی تعریف اور معانی بار بار کسوٹی پردھرے لرزتے رہتے ہیں۔ 
زندگی کی پہلی دہائی لاڈناز نخرے کی ہوتی ہے دوسری میں امتحانات اور پہلے دوسرے تیسرے نمبر کی کھینچا تانی سکھا دی جاتی ہے کون اول ہے کون دوم یہ درجہ بندی سکول دے دیتے ہیں۔ وہیں سے کلاس سسٹم شروع ہوتا ہے جو اگلی دہائیوں میں تمام تر محنت کے باوجود آپ کی اصل اوقات سیٹ کرکے رہتا ہے آپ کہاں پیدا ہوگئے تھے وہ ملک مذہب گھر اور اقتصادی حالت آپ کی آنے والی زندگی کے 75%کا فیصلہ کردیتا ہے۔ باقی پچیس فیصد زندگی آپ اپنے پر لگے غربت ذات علاقے اور سٹیٹس کے ٹیگ کو ہٹانے میں گزار دیتے ہیں۔ 
صوفیوں کی ویسے تو آج کل عجیب وغریب تعریف وتوجیہات پیش کی جانے لگی ہیں پربندہ صوفی بنا پھرتا اور ہرخاتون صوفی ملنگ مگر حقیقتاً ایسا نہیں ہم لوگ سخت دنیا دار ہیں سارے کے سارے تصوف ہمیں چھو کر نہیں گزرا مگر سب کا پسندیدہ موضوع یہی ہوتا اور پسندیدہ ترین مرکزی نکتہ اپنی ذات ....اکثریت اپنی ذات کو سٹینڈرڈ بناکر پورے معاشرے کے لیے فتوے جاری کرتی رہتی ہے لوگ سمجھتے ہیں زیادہ اعتماد پڑھے لکھے انسان میں ہوتا ہے مگر ایسا نہیں اصل میں زیادہ کانفیڈنس کیلئے کم پڑھا لکھا ہونا اور کم علم ہونا ضروری ہے عالم بندہ ڈرتاہی رہتا ہے کہ کوئی غلطی نہ کردے کوئی کوتاہی نہ ہوجائے مگر کم علمی کو اپنے استدلال پر قوی یقین ہوتا ہے مزید برآں وہ اپنی زندگی کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے یا غلط کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی میں جوہوتا ہے اسی کو حتمی سمجھتے ہیں۔ 
میرے نزدیک سمجھ بوجھ والا بندہ آئینے میں بدلتے ہوئے اپنے عکس کاجائزہ لیتا رہتا ہے۔ زندگی میں کیسے کیسے کس بل نکلتے ہیں سب جائزہ لیتا ہے سوچ کی غار میں متمکن ہوکر تخلیہ میں جب خود کو دیکھتا تو پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے۔ 
زندگی کی دوسرے دہائی ڈبل سٹینڈرڈز اور فیورٹ ازم سے آشنا کرادیتی ہے یہ سلسلہ گھرہی سے شروع ہوجاتا ہے جہاں پر بچے کا الگ الگ مقام اور حیثیت اسے بتادی جاتی ہے ایسا نہ ہوتا تو کچھ بچے لاڈلے اور کچھ تنقید کا نشانہ بنے رہ کر اور بھی بگڑ جاتے ہیں بگڑے لاڈلے بھی ہیں سیکنڈ پوزیشنوں میں بددیانتی سارے معاشرتی تضادات کو انسانی ذہن کا حصہ بنادیتی ہے اور ان بے انصافیوں کا شکار ہونے والے بعد ازاں جس بھی سیٹ پر متمکن ہوتے ہیں انصاف نہیں کرتے ....اس لئے کہ انصاف کے معافی ان کیلئے کھوچکے ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس وصف کی عملی شکل نہیں دیکھی ہوتی....لہٰذا وہ عمر بھر اپنے اداروں میں اسے منطبق نہیں کرسکتے ....
زندگی کی تیسری دہائی مزید کلاس سسٹم اور رنگ ونسل کے بھی فیصلے ہونے کی دہائی ہے شادیاں اور رشتے رنگ نسل امارت غربت ذات پات قد کاٹھ کی بنیاد پرہوتے ہیں مکمل طورپر اقصادی لین دین والی شادیوں سے خلوص کی توقع بھی لگائی جاتی ہے۔ 
یہ دوطرفہ تجارتی معاہدہ مکمل طور پر لین دین کی بنیادوں پر کیا جاتا ہے اور مضحکہ خیز بات یہ کہ اس میں محبت کی بھی توقع کی جاتی ہے۔
زندگی کی چوتھی دہائی میں محبت بھی اپنے رنگ دکھا چکی ہوتی ہے اس کی اصلی مدت کو کھینچ کر بے مزہ الگ کیا جاتا ہے اور توقعات کی بھیڑ الگ بیڑہ غرق کرتی ہے ۔
میرا خیال تھا کہ محبت محض ایک کھلی کھڑکی ہے ایک امید ہے ایک آسرا ہے اک خیال ہے اک وہم ہے بس ....
جس میں آخرالذکرسے متفق ہوں
کیسے جائے گا اب مرے دل ملے
 وہم اور وہم بھی محبت کا
زندگی کی پانچویں دہائی کڑی مشقتوں، دھوکوں بے وفائیوں سے لبریز گزررہی ہوتی ہے ذمہ داریوں کا بوجھ رشتوں کے عریاں چہرے اولاد کی نافرمانیاں ٹوٹتے ہوئے مان اور آتی ہوئی بیماریاں لیبارٹری میں غیرمتوازن بلڈ رپورٹس ادویات اور باقی زندگی ٹونے ٹوٹکے مشورہ جات کی نذر....
زندگی کی چھٹی دہائی قدرے ذمہ داریوں سے تو عہدہ برآ ہونے کی دہائی ہے مگر اختیار کے چھن جانے کی بھی ہے اولادیں کاروبار پر قبضہ کرنے کیلئے والد کو حج کروا کر اللہ توبہ پر بٹھا دیتے ہیں اور ماو¿ں کو چولہے چوکے سے مکتی کے پردے میں یادوں والی تسبیح پکڑاکر اللہ اللہ کرنے کیلئے بٹھا دیا جاتا ہے۔ عورتوں پر یہ مقام ذرا جلدی آجاتا ہے پنتیس چالیس سال کی عمرہی سے اگر وہ گھٹنوں کے درد کی شکایت نہ کرے تو بے پروااور مشکوک ہوجاتی ہے۔ 
ہمارے خطے میں ایک خاص طرز کے بزرگوں کو ہی پذیرائی ملتی ہے باریش سفید داڑھی مسجد کے اردگرد نظر آنے والے اور خواتین کے ساتھ یہاں بھی تخصیص ہے انہیں ساتھ میں بیماریاں اور موٹاپااگر نہ ہو تو ”ماں جی“ کا درجہ نہیں ملتا ....
یہاں صحت مند ہٹی کٹی عورت کو بدکردار سمجھتے ہیں عورتیںخود تیز تیز چلنے والی عورت کو دیکھ کر کہتی ہیں ”لتھی نہ چڑھی....مرن مٹی چڑھی ہوئی اے ....
یہاں بیمار بھدے لوگ چاک وچوبند زندگی کے خواہاں لوگوں سے نفرت کرتے ہیں خود کو گھر اولاد کیلئے وقف کرنے کے انعام میں بیماریاں اور موٹاپے کو سرٹیفکیٹ سمجھتے ہیں۔ 
یہ معاشرہ جوان نظر آنے کو بے حیائی سمجھتا ہے جو مرد بزرگ سرخ ٹی شرٹ جاگرزپہن کر صحت بنارہے ہوتے ہیں ان کی سرگرمیوں پر جگتیں کی جاتی ہیں جو خواتین بن سنور کر نکلیں فوری عمر کا طعنہ دیا جاتا ہے ذرا سی بڑھتی عمر میں ہلکے رنگ مخصوص کردیے جاتے ہیں کہ جو خواتین تیز رنگ پہن لیں انہیں ”بڈھی گھوڑی لال لگام کہا جاتا ہے یعنی حدہے اس علاقہ میںصاف ستھرا رہنے والا مشکوک اور گندہ رہنے والا نیک شریف ہے ہماری ہاں مکان بننے کے عرصہ میں لگے ہوئے مزدوروں کی بہنیں آتی تھیں جو سلائی کڑھائی کرتی تھیں میں نے انہیں کچھ کپڑے پہننے کیلئے دے دیئے جو انہوں نے شکریے کے ساتھ رکھ لیے انہیں میں ایک نیا جوڑا بھی تھا جو انہوں نے واپس کردیا میں نے وجہ پوچھی تو بی بی نے کہا میں بیوہ ہوں ”نواں جوڑا پاءکے ویہڑے اچ گت پچھے جھاڑوبننی اے “ (نیا جوڑا پہن کر چٹیاکے پیچھے جھاڑوبندھوانی ہے) اندازہ کریں کس خطہ¿ ارضی کے ہم لوگ ہیں....
زندگی سے مخاطب ہوکر ہی کبھی لکھا تھا
اک نئے خوف کی دہلیز میں داخل ہونا
 کتنا مشکل ہے تیری آنکھ کے قابل ہونا

مزیدخبریں