مہنگائی کے اسباب کا سدباب

09:44 PM, 7 Mar, 2025

 وزیر اعظم شہباز شرےف نے چےنی کی ذخےرہ اندوزی مےں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دےتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک مےں چےنی اور دےگر اشےائے ضرورےہ کی قےمتوں پر کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہےں کی جائے گی۔ ماہِ صےام مےں عام آدمی کی مجبورےوں سے کھےلنا وطنِ عزےز مےں مہنگائی مافےا کا شروع دن سے وتےرہ چلا آ رہا ہے۔ ےہ لوگ رمضان کا مہےنہ شروع ہونے سے قبل ہی روزمرہ کی اشےائے ضرورےہ کو ذخےرہ کر لےتے ہےں اور مارکےٹ مےں بےٹھے گراں فروش مصنوعی قلت کو جواز بنا کر روزہ داروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہےں۔ ےہ سب اےک منظم طرےقے سے ہوتا چلا آ رہا ہے جس کی وجہ سے اس مکروہ کام کی سرکوبی کرنے مےں آج تک کوئی حکومت کامےاب نہےں ہو سکی ۔ہمارے ہاں اب ےہ اےک معمول بن چکا کہ مخصوص مافےاز رمضان المبارک کی آمد سے قبل اور تاجر حضرات طلب و رسد مےں عدم توازن کا بہانہ بنا کر خود ساختہ مہنگائی کرتے ہےں۔ صنعتکار کارٹل بنا لےتے ہےں جو مل کر اپنی مصنوعات کی قےمت متعےن کرتے ہےں، ان کے نزدےک اہم ترےن اپنا منافع ہوتا ہے اور حکومتےں ہمےشہ کارٹلز کے سامنے بے بس رہی ہےں۔ کارٹلز توڑنا کوئی اتنا مشکل نہےں ہوتا لےکن سےاسی مصلحتےں آڑے آتی ہےں ورنہ کارٹلز کی اجارہ داری کو بڑی آسانی سے توڑا جا سکتا ہے اور عوام کو رےلےف دےنا ممکن ہو سکتا ہے۔ 
حالےہ دنوں مےں چےنی کی قےمت مےں بہت زےادہ اضافہ دےکھنے مےں آےا ہے، وزےرِ اعظم کا چےنی کے نرخوں کے حوالے سے بےان بڑا حوصلہ افزا ہے لےکن اس بات کو بھی نظر انداز نہےں کےا جا سکتا ہے کہ ملک کی 90 فےصد سے زائد شوگر ملےں طاقتور سےاسی خاندانوں کی ملکےت ہےں ےہی وجہ ہے کہ ےہ سرکاری خزانے سے سبسڈی لےتے ہےں جب چےنی برآمد کرنا چاہےں کر لےتے ہےں اور جب درآمد کرنا چاہےں تو کر لےتے ہےں چاہے اس کی ضرورت اور حالات ہوں ےا نہ ہوں۔اسی وجہ سے حالےہ دنوں مےں بھی چےنی کی قلت پےدا ہو گئی ہے۔ جو چےنی چند ماہ قبل تک 120روپے کلو تھی اب 180 روپے کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ جس نے بھی چےنی کی برآمد کی اجازت دی ہے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ 
اس مےں کوئی شک نہےں ہے کہ رمضان المبارک کے با برکت مہےنے مےں لوگوں کو چےزےں سستی ملنی چاہئےں لےکن مہنگائی کی ےہ صورتحال صرف ماہِ رمضان مےں ہی شروع نہےں ہوئی بلکہ عوام رمضان المبارک سے قبل ہی مہنگائی سے بہت تنگ تھے۔ قانون پر عملدر آمد نہ ہونے کے باعث ذخےرہ اندوز اور ناجائز منافع خور مافےا عوامی مفادات سے کھےل رہے ہےں اور عام آدمی اس مافےا کے ہاتھوں لٹ رہے ہےں۔ بعض سرکاری اہلکاروں اور نجی شعبے سے متعلق افراد پر مشتمل ملک مےں اےک وسےع نےٹ ورک کام کر رہا ہے جس کا طرےقہ¿ واردات ذخےرہ اندوزی کی شکل مےں اشےاءکی طلب اور رسد مےں مصنوعی عدم توازن پےدا کرنے اور سمگلنگ پر مبنی ہے۔ بد قسمتی سے سرکاری اہلکار ہی ان کی سرپرستی کرتے ہےں۔ بلےک مارکےٹنگ اور رشوت و بد عنوانی ےہ تمام اسباب مل کر اس وقت ملک مےں اےک متوازی غےر قانونی معےشت چلانے کا باعث بن رہے ہےں۔ جس سے اےک طرف غرےب، تنخواہ داراور مزدور پےشہ طبقات بری طرح پس رہے ہےں تو دوسری جانب حکومتی خزانے مےں جانے والے محاصل ان غرےب دشمن عناصر کی جےبوں مےں جا رہے ہےں۔ 
وطنِ عزےز اس وقت معاشی بقا کی اےک اےسی ہولناک جنگ لڑ رہا ہے جو اس ملک کے حکمران طبقہ، اشرافےہ اور کاروباری ٹرائےکا کی مفاد پرستی کا شاخسانہ ہے جس نے غرےب کے منہ سے نوالہ تک چھےننے کی ظالمانہ روش اختےار کر رکھی ہے۔ پاکستانی اشرافےہ اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ کرپشن اور مہنگائی مےں خواہ کتنا بھی اضافہ کےوں نہ ہوتا چلا جائے عوام رونے پےٹنے اور گرےہ و زاری کرنے کے علاوہ اور کچھ نہےں کرےں گے اور ملک کی سےاسی پارٹےاں سسٹم کی تبدےلی کے لئے کسی انقلابی اےجنڈے پر عمل کرنے کے بجائے عوام کو نان اےشوز مےں الجھا کر اپنی اپنی سےاسی دوکانےں چمکاتی رہےں گی۔
ملک بھر مےں سبزےاں اور پھل انتہائی مہنگے دام فروخت ہو رہے ہےں، اس کی بنےادی وجہ بھی ہمارے نظام مےں پاےا جانے والا اےک کردار آڑھتی ہے، جو منڈےوں مےں ناجائز منافع خوری دھڑلے سے کرتے نظر آتے ہےں، جنہےں کوئی پوچھنے والا نہےں ہے۔ ہونا تو ےہ چاہئے کہ کاشتکاروں سے گاو¿ں کی سطح پر براہِ راست خرےداری کی جائے اور اس مقصد کے لئے مےکنزم تےار کےا جائے، آڑھتےوں کے لئے بھی سرکاری رےٹ مقرر کےا جائے تا کہ کسان کو لوٹ مار سے بچاےا جا سکے۔آڑھتی کے خرےد اور فروخت کا رےٹ مقرر کر دےا جائے، اس طرح دوکاندار بھی مقررہ رےٹ پر اجناس فروخت کر سکے گا اور اگر وہ اےسا نہ کرے تو اس پر قانونی کارروائی بھی جائز سمجھی جائے گی۔ اس طرح معےشت کی ڈاکومےنٹےشن بھی ہو جائے گی اور مارکےٹ مےں استحکام بھی آئے گا، صوبائی انتظامےہ کے رےونےو مےں اضافہ بھی ہو گا۔ 
طرفہ تماشا ےہ ہے کہ انتظامےہ اپنی ہی متعےن کردہ اشےائے خورونوش کی قےمتوں کے سلسلے مےں روزانہ نرخ نامہ جاری کرتی ہےں لےکن اس پر عملدرآمد کرانے مےں عملاً بری طرح ناکام رہتی ہےں۔ کوئی بھی سبزی، پھل و پرچون فروش ےا گوشت بےچنے والا نرخ نامہ لٹکا کر اس کے بر خلاف اشےاءکی دگنی قےمت وصول کرتا ہے تو کسی گاہک کی جرا¿ت نہےں کہ وہ فروخت کرنے والے کو سرکاری نرخ نامہ کے مطابق دام ادا کرنے کی ضد کر سکے، اگر کوئی اعتراض کرتا بھی ہے تو اسے رعونت اور بدتمےزی کے ساتھ جواب ملتا ہے کہ جا کر وہےں سے خرےداری کر لےں جہاں سے نرخ نامہ جاری کےا گےا۔مسئلہ آج کی حکومت کا نہےں لوٹ مار اور ناجائز منافع خوری کا ےہ سلسلہ ہر دور مےں جاری رہا ہے۔
پاکستان مےں اب صرف دو طبقات ہی رہ گئے ہےں اےک طبقہ ستانے والوں پر مشتمل ہے، جن مےں سےاست دان، بےورو کرےٹس، جاگےردار، سرماےہ دار، ملا، بڑے بڑے بزنس مےن شامل ہےں جو تعداد کے لحاظ سے انتہائی قلےل ہےں لےکن ستانے کے تمام ہتھےاروں سے لےس ہےں اور جن کو ستانے کے لا محدود اختےارات بھی حاصل ہےں۔ ان کے اختےارات کو چےلنج کرنے کا مطلب اپنے آپ کو مزےد مشکلات مےں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ےہ سب دےکھنے مےں انتہائی مہذب، تعلےم ےافتہ اور باشعور لگتے ہےں لےکن اصل مےں اندر سے بڑے ظالم ہےں۔ جب کہ دوسرا طبقہ ستائے ہوو¿ں پر مشتمل ہے جن مےں ہم سب شامل ہےں، جو تعداد مےں 25 کروڑ ہےں۔ ان بےچاروں ، مصےبت کے ماروں پر جتنا بھی لکھا جائے کم ہی ہوگا۔ جن کے نزدےک زندگی کا مقصد صرف مصےبتےں اٹھانا اور تکلےفےں برداشت کرنا ہے۔ ان کے نزدےک روزے ، عےدسب بے معنی ہےں۔

مزیدخبریں