اڑان 

09:43 PM, 7 Mar, 2025

ہمیں ایک ہی عمل کئی بار شروع کرنے کے لیے کئی بار ہمت باندھنا پڑتی ہے۔ تاریخ کے پنوں پر ہماری حقیقت نپولین کومتاثر کرنے والی چیونٹی کی حکایت سے بھی زیادہ متاثر کن محسوس ہونے لگی ہے، جو بار بار اوپر چڑھنے کی کوشش میں نیچے گرتی تھی لیکن ہار نہیں مانتی تھی۔ ہمیں مملکت کے اس سفینے کو سنبھالا دینا پڑھتا ہے جو حشرات کی بسیار خوری کو ڈگمگانے لگتا ہے۔ روز ورق الٹیے کچھ نئی خبریں آپ کی منتظر ہوتی ہیں۔ بس دیکھنا یہ ہے کہ کون سی خبریں اخبار میں ساکت رہ جاتی ہیں اور کون سی تاریخ کا حصہ بنتی ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 31 دسمبر 2024 کو "ا±ڑان پاکستان" کے نام سے پانچ سالہ قومی اقتصادی پروگرام کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد ملک کی معیشت کو مستحکم کرنا اور ترقی کی راہ پر گامزن اس پروگرام کے تحت 2024 سے 2029 تک کئی اہم اہداف مقرر کیے گئے ہیں ان میں شرح نمو میں اضافہ یعنی پانچ سال میں مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کی شرحِ نمو کو 6 فیصد تک پہنچانا شامل ہے جو لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ ساتھ ہی سالانہ برآمدات کو 30 ارب ڈالر سے بڑھا کر 60 ارب ڈالر تک لے جانا بھی اڑان کے اہداف میں شامل ہے۔ اسی طرح آئی ٹی شعبے کی ترقی کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانا اور اس شعبے میں 2 لاکھ گریجویٹس تیار کرنا مزید برآں سرمایہ کاری سرمایہ کاری کو جی ڈی پی کے 17 فیصد تک لے جانا بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ ان کے علاوہ ترسیلات زر کو 39.8 ارب ڈالر تک بڑھانا، تعلیم پر جی ڈی پی کا 4 فیصد خرچ کرنا۔ غربت کی شرح کو 21.4 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد تک لانا، جیسے اہم مقاصد اڑان کا حصہ ہیں۔ 
اس پروگرام کا محور برآمدات پر مبنی ترقی ہے، جس کے ذریعے حقیقی معاشی استحکام کے بعد ترقی کی جانب بڑھنا ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان نے اس ضمن میں کہا کہ ہمیں ماضی سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہو گا اور کاروبار دوست ماحول بنانا ہوگا تاکہ ایکسپورٹ میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ 
ا±ڑان پاکستان پروگرام کے تحت توانائی، انفراسٹرکچر، ماحولیات اور روزگار کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ ملک کی معیشت کو مضبوط اقتصادی پلیٹ فارم مہیا کیا جا سکے۔ 
وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی، پروفیسر احسن اقبال، "ا±ڑان پاکستان" پروگرام میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس پروگرام کی کامیابی کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں پالیسی سازی کے علاوہ، کمرشل بینکوں کے صدور سے ملاقاتیں اور مشاورتی ورکشاپس کا انعقاد شامل ہے۔ 
احسن اقبال نے اس پروگرام کے تحت سندھ کی ملکی ترقی میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا ہے اور زور دیا ہے کہ "ا±ڑان پاکستان" کے اہداف کے حصول میں سندھ کا کردار نہایت اہم ہے۔ 
انھوں نے کہا ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے پاکستان ایک طویل عرصے بعد ترقی کے سفر پر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے اور اگر استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل یقینی بنایا گیا تو پاکستان دنیا میں تیز تر ترقی کرنے والی معیشت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ احسن اقبال نے "ا±ڑان پاکستان" پروگرام کے تحت پورے ملک کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے ٹھوس اقدامات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ 
لیکن اس سب کے بعد ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے جو پالیسیوں کے تسلسل سے متعلق ہے۔ اگر ہمیشہ کی طرح پالیسیوں کا تسلسل قائم نہ رہا تو پاکستان کے درجنوں "سینٹرز آف ایکسیلنس" کی طرح ایسے بہت سے منصوبے خطرے میں پڑ جائیں گے جن سے آنے والے دور میں ملک کی معیشت مشروط ہے۔ ہمیں یہ بات سمجھنا ہو گی کہ نفرت اور تعصب سے گریز کرنا اور ملکی مفادات کو مد نظر رکھ کر مستقبل کے فیصلے کرنا کس قدر ایک ہو چکا ہے۔ جدید دنیا ہمیں بار بار سنبھلنے کا موقع دینے کے لیے ہر گز تیار نہیں ہے۔ ہمیں ماضی کی خوفناک غلطیوں سے نکل کر بہترین تدبیر کی جانب قدم بڑھانا ہو گا اور جہاں کہیں بہتری کی گنجائش موجود ہے وہاں حکمت کے ساتھ اپنی مخلصانہ کوشش کرنا ہو گی۔ یہ کسی ایک ادارے یا کسی ایک فرد کا فرض نہیں ہے بلکہ ہر خاص و عام کو اس ذمہ داری کا احساس ہونا ضروری ہے۔ ہمارے سامنے بد ترین حالات سے دوچار ہونے والے ممالک کی مثالیں بھی موجود ہیں جو یقیناً اپنے موجودہ حالات کے لیے تیار نہیں تھے۔ ساتھ ہی بلا تعصب یہ بات بھی کھلے دل سے قبول کر لینی چاہیے کہ پاکستان نے ایک خطرناک موڑ پر سنبھلنے میں کامیاب ہوا ہے۔ یہ سنبھالا اگرچہ نا کافی ہے اور اسی پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا لیکن ماضی کے حالات و واقعات کو نظر میں لائیں تو یہ کسی نعمت سے کم معلوم نہیں ہو گا۔ بات اب آگے بڑھاتے ہیں۔ سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ قوموں کو آگے بڑھنے کے لیے کن رویوں کی ضرورت پڑتی ہے، کن ترجیحات کے ساتھ آگے کا سفر طے کیا جا سکتا ہے اور کن سوچوں کے ساتھ اڑان بھری جا سکتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ایک بار اڑان بھر لی گئی تو پہلا پڑاو¿ شفق پر ہو گا۔
آخر میں حسن ارشاد کے اشعار ملاحظہ ہوں 
صبح کی مانگ میں بھرے ہیں ہم
 بن کے سورج نکل پڑے ہیں ہم
 تو نہ آیا مگر خزاو¿ں سے
آخری پھول تک لڑے ہیں ہم

مزیدخبریں