بلوچستان میں امن کیسے قائم ہو گا؟

09:43 PM, 7 Mar, 2025

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے جغرافیائی لحاظ سے ہندوستان، افغانستان، ایران جیسے ممالک کا ہمسایہ ہونے کے ناتے دہشت گردی، دہشت گرد تنظیموں اور انتہا پسندوں کے خلاف پچھلی کئی دہائیوں سے مسلسل جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔ پاکستان کا صوبہ بلوچستان جو سی پیک اور گوادر بندرگاہ جیسے منصوبوں کی وجہ سے وطن عزیز کی ترقی اور روشن مستقبل کا ضامن ہے یہاں بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچستان ری پبلکن آرمی (BRA)، بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF)، بلوچ لبریشن ٹائیگرز (BLT) جیسے دہشت گرد گروہ خاص طور پر پاکستان کے داخلی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ ان تنظیموں کے شدت پسند اور دہشتگرد عناصر سکیورٹی فورسز، بے گناہ شہریوں اور ترقیاتی منصوبوں پر حملے کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ان ملک دشمن اور دشمنوں کی آلہ کار دہشت گرد تنظیموں کے حملوں میں خاص طور پر بلوچستان کے کچھ علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جہاں یہ دہشت گرد گروہ چند ڈالروں کے لیے اپنے بیرونی آقاو¿ں کے اشاروں پہ ناچتے ہوئے بلوچستان کی علیحدگی کی ناپاک کوششیں کر رہے ہیں۔
حال ہی میں ان تنظیموں نے صوبہ میں مختلف مقامات میں متعدد دہشت گردانہ حملے کیے ہیں۔ 2024 کے آغاز میں بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) نے کوئٹہ کے قریب ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس میں کئی فوجی اہلکار شہید ہو گئے۔ اس کے علاوہ، بلوچستان ری پبلکن آرمی (BRA) نے مارچ 2024 میں ایک اہم سڑک پر بم دھماکے کیے، جس کے نتیجے میں کچھ نہتے شہری شہید اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ بھی مختلف مقامات پہ متعدد بار حملے کیے گئے اور آدھی رات کو نہتے شہریوں کو مسافر بسوں سے اتار کر صرف اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ پنجاب کے رہائشی اور شناختی کارڈ کے حامل تھے۔ بلا شبہ ان کالعدم گروپوں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے پاکستان کی معیشت اور داخلی امن پر گہرا منفی اثر پڑ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں بلوچستان میں بیرونی سرمایہ کاری لانے میں مشکل درپیش ہے۔
یہیں اسی عرصے میں پاکستان کی بہادر سکیورٹی فورسز نے ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کئی کامیاب آپریشنز بھی کیے ہیں اور ان کے کئی نامور دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں، تاہم، بھاری نقصان پہنچنے کے باوجود ان دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیاں 
نئی حکمت عملیوں کے ساتھ ابھی تک جاری ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ ان دہشت گرد گروپوں کے عالمی سطح پر نیٹ ورکس بھی موجود ہیں، اور ان کی نام نہاد قیادت کرنے والے حربیار مری، مہران مری، براہمداغ بگٹی، اللہ نذر بلوچ جیسے دہشت گرد بیرون ممالک بیٹھ کر ان نیٹ ورکس کو آپریٹ کر رہے ہیں۔ جس سے پاکستان کے لیے ان کا خاتمہ یا ان کی گرفتاری اور قانون کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔
ایسے حالات میں ان دہشت گرد گروپوں کے ملک کے اندر اور ملک سے باہر موجود نیٹ ورکس کو توڑنے اور ختم کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز اور وفاقی حکومت کو چند ایک اہم اقدامات فوری طور پہ کرنا ہوں گے۔ جن میں جدید ترین ٹیکنالوجی کو زیر استعمال لاتے ہوئے انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے طریقے، مستقل سیٹلائٹ مانیٹرنگ کی مدد سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا پتہ لگانا، انٹرپول کے ذریعے بیرون ممالک میں مقیم بھگوڑے دہشتگردوں کی واپسی، صوبے کے عوام کی ترقی کے لیے اقدامات وغیرہ شامل ہے۔
یقیناً وقت کے بدلتے تصاضوں کے ساتھ اب پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ان ملک دشمن عناصر سے نپٹنے کے لیے اپنی جوابی حکمت عملی میں جدید ٹیکنالوجی کو شامل کر لیا ہے، جس سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی نگرانی میں مدد مل رہی ہے۔ سال 2024 کے دوران، سکیورٹی فورسز نے اسی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے متعدد دہشت گردوں کو سرحدی علاقوں میں پکڑنے اور جہنم رسید کرنے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھاتے ہوئے پاکستانی سکیورٹی ادارے اب ڈرونز کی مدد سے ان دہشت گرد اور کالعدم تنظیموں کے نا صرف پہاڑوں میں موجود خفیہ ٹھکانوں کی نشاندہی کر رہے ہیں، بلکہ ان پر فضائی حملے کر کے ان کو تباہ بھی کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر جدید سسٹمز کے ذریعے ان گروپوں کی مالی معاونت اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات سے سکیورٹی فورسز ان تنظیموں کے ذرائع آمدن اور بیرون ملک پاکستان دشمن قوتوں سے روابط کو بھی بے نقاب کر رہی ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر تعاون حاصل کرنے کو بھی ترجیح دینا ہو گی۔ اس سلسلے میں انٹرپول جیسے عالمی ادارے پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے لیے ایک اہم معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ انٹرپول کے ذریعے دنیا بھر کے پولیس فورسز کے درمیان معلومات کا تبادلہ ممکن ہے، جس سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی عالمی سطح پر شناخت اور ان کی گرفتاری کی کوششیں کی جا سکتی ہیں۔ 2024 میں ہی حکومت پاکستان کی درخواست پہ انٹرپول نے بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے بیرون ممالک میں مقیم کئی دہشتگردوں کے خلاف عالمی سطح پر گرفتاری کے وارنٹس جاری کیے ہیں، جس سے ان تنظیموں کے نیٹ ورکس کو مزید ٹریک کرنے میں مدد ملی ہے۔
اسی طرح پاکستان کو اپنی سفارتی حکمت عملی کو بھی مزید مستحکم کرنا اور مو¿ثر بنانا ہو گا تاکہ عالمی سطح پر ان ملک دشمن دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے دوسرے ممالک کا تعاون حاصل کیا جا سکے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں ان تنظیموں کے ارکان کی موجودگی اور ان کی مالی معاونت اور پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا بھی ضروری ہے تاکہ ان گروپوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی جا سکے اور ان دہشت گردوں کو عالمی سطح پر پکڑ کر واپس پاکستان کے حوالے کیا جا سکے۔
یہیں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت کو بلوچستان کے عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کے لیے تمام تر وسائل استعمال کرنا ہوں گے اور بلوچستان کے محب وطن اور غیور عوام کے ساتھ مل کر ان تنظیموں کے خلاف مقامی سطح پر بھی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔ بلوچستان میں عوامی فلاحی منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام کر کے مقامی آبادی کا ان دہشت گرد گروپوں سے تعلق کمزور کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ مقامی و اعلیٰ عدالتوں میں ان دہشت گردوں کے زیر التوا مقدمات کے بروقت فیصلے ہوں تاکہ صوبے میں انصاف اور سزا و جزا کا نظام مضبوط ہو سکے اور مقامی عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
اس کے علاوہ، حکومت اور سکیورٹی اداروں کو اس ضمن میں بھی سوچنا ہو گا کہ کس طرح ان تنظیموں کے بے بنیاد نظریات اور جھوٹے پراپیگنڈے کا مقابلہ کیا جائے۔ جہاں سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پر ان تنظیموں کی تشہیر کو روکنا ہو گا وہیں بلوچ نوجوانوں کو ان کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے تعلیمی اور معاشی مواقع فراہم کرنا بھی اشد ضروری ہو گیا ہے۔
آخر میں ریاست پہ اب یہ فرض ہو چلا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی حکمت عملی کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالتے ہوئے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید مستحکم کرے تاکہ ان دہشت گرد تنظیموں کے عالمی سطح پہ موجود نیٹ ورکس کو بے نقاب کرتے ہوئے مستقل بنیادوں پہ توڑا جا سکے۔ کیونکہ ان دہشتگرد اور کالعدم تنظیموں کا خاتمہ نہ صرف پاکستان کی سلامتی و ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ عالمی امن کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے۔

مزیدخبریں