”دہشت گردی کی اجازت نہیں دی جائے گی“ گو کہ دہشتگرد کو کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دہشت گرد ایک بے رحم قاتل ہوتا ہے جو اپنے مقتولین اور اُن کی قتل گاہ کا انتخاب خود کرتا ہے ۔ دہشت گرد ی وہ جرم ہے جو ماسٹر مائنڈ کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ دہشت گردی کے نتائج اتنے خوفناک اور بھیانک ہوتے ہیں کہ چھوٹے مقاصد اور معمولی مفادات کیلئے اس بدنما اور بدترین فعل کو سرانجام ہی نہیں دیا جاسکتا ۔دہشتگرد کا بنیادی مقصدر ریاست کو کمزور اورحکومت کو نااہل ثابت کرنا ہوتا ہے جس کے بعد اُس کا اصل ایجنڈا ریاست میں بسنے والوں کے سامنے آتا ہے۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ ہمارے سیاسی ” قائدین “ تک کے اس مکروہ فعل میں ملوث ہونے کے نا قابل ِ ِتردید شواہد موجود ہیں۔ ہمارے سامنے ہے کہ سیاسی افراد کے معاملات عرصہ دراز عدالتوں میں چلتے رہتے ہیں لیکن مجھے یہ لکھتے ہوئے کسی قسم کا کوئی خوف نہیں کہ دہشت گردی سے زیادہ دہشت گردی پر سماجی مکالمہ دہشت گردوں کیلئے زیادہ فائدہ مند اور اُن کے مقاصد کے حصول کیلئے اہم ہوتا ہے ۔ جس ریاست میں روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی کے واقعات رونما ہونے شروع ہو جائیں وہاں ہمیں جنگ کا طریقہ کار بھی بدلنا ہو گا۔ جنرل ضیاءالحق سے تمام تر سیاسی و نظریاتی اختلافات کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ اُس نے روس کی جنگ میں جانے کا جو فیصلہ کیا تو سب سے پہلے اُس نے پاکستان کے اندر سے روسی حمایت کو ختم کیا ۔ 5 جولائی 1977ءسے لے کر 27 دسمبر 1979 ءتک پاکستان بھر کے سوشلسٹ ¾ کیمونسٹ ¾ ترقی پسند ¾ لیبرل ¾ ریشنلسٹ ¾ ڈیموکریٹس یہاں تک کہ جمہوریت پسند بھی ضیاءالحق اور اُس کے جرنیلوں کے زیرعتاب رہے ۔ سمری ملٹری کورٹ کا لکھا فوجی میجر کا فیصلہ سننے کی تاب پاکستان کی اُس وقت کی سپریم کورٹ میں نہیں تھی ¾ یہ کھیل تماشے 27 دسمبر 1979ءسے لے کر 19 دسمبر 1984ءتک ضیاءالحق کے ریفرنڈم تک چلتے رہے ۔ ہزاروں پاکستانی قید و بند کی اذیتیں کاٹنے کے علاوہ اسلامی کوڑوں کی سزا سے بھی مستفید ہوتے رہے۔ لوگوں کے خاندانوں کے خاندان تباہ ہو گئے لیکن عالمی سرمایہ داری کی اُس جنگ سے ضیاءالحق اوراُس کے جرنیلوں نے روس کو افغانستان سے نکلنے نہیں دیا ۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور اُس کے اتحادی فتح کے شادیانے بجاتے ہوئے واپس لوٹ گئے اور ہماری بربادی کا سفر شروع ہو گیا ۔ ضیاءالحق کے طیارے کو پیش آنے والا حادثہ دراصل سرداور افغان جنگ کے خاتمے کا ہی اعلان تھا ۔ خدانخواستہ میں کبھی ضیاءالحق اور اُس کے جرنیلوں کا ثنا خواں نہیں رہا بلکہ ہمیں تو یقینِ کامل تھا کہ افغانستان کی جنگ ایک دن ہمارے گلی کوچوں میں ضرور آئے گی اور پھر ہم نے پاکستان کے چاروں دارالخلافے مرکزی دارالخلافہ سمیت خود کش بمبار کے رحم و کرم پر دیکھے ۔
جنرل پرویز مشرف کی سب سے بڑی غلطی یہی تھی کہ اُس نے دہشت گردوں کی سماجی اورفوجی حمایت ختم کیے بغیر امریکہ کی افغان جنگ کا حصہ بننا قبول کیا جس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ افواج پاکستان ایک طرف دہشت گردوں سے نبرد آزما تھیں تو دوسری طرف افواجِ پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا جاری تھا ۔ حالتِ جنگ میں دشمن کے بیانیے کی حمایت کرنا دشمن کی مدد ہی ہوتی ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ ڈرون حملوں کے نتیجہ میں یتیم ہونے والے بچے یہ دہشت گردی کر رہے ہیں لیکن حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ لاہور ¾ پشاور ¾ کوئٹہ ¾ سندھ اور اسلام آباد میں یتیم ہونے والوں میں سے کسی یتیم نے پلٹ کر دہشتگردوں کی پناہ گاہوں پر حملہ نہیں کیا بلکہ ” پنجابی طالبان “ کی نئی ٹرمینالوجی ہمارے سامنے تھی اور ہم ” خود ہی قاتل اورخود ہی مقتول “ کے معمہ میں الجھ کررہ گئے تھے ۔آج پاکستان ایک بار پھر دہشتگردی کی زد میں ہے ۔ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے دہشتگردانہ حملے یقینا بلا وجہ نہیں ہو رہے ۔ کہیں تقسیم کے منحوس نعرے سنائی دے رہے ہیں اور کہیں افغانستان کے بارڈز پرہمارے جوانوں کو طالبان کے ساتھ گھنٹوں چاند ماری کرنا پڑ رہی ہے ۔ افغان حکومت کا پاکستان کو اشتعال دلانا یقینا کسی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے لیکن لاکھوں افغان آج بھی پاکستان میں رہ کرزندگی کی ہر سہولت سے مستفید بھی ہو رہے ہیں اور طالبان کے موقف کو جائز بھی سمجھتے ہیں لیکن اُن کے خلاف ابھی تک کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا گیا ¾ ریاست ابھی تک اپنی اصل شکل میں اُن کے سامنے نہیں آئی۔ میا ں شہباز شریف کا یہ کہنا کہ ” ملکی ترقی خوارج کے خاتمے تک ناممکن ہے “ شکر ہے کہ وہ اس بات کو تو سمجھتے ہیں کہ امن ہی بہترین معیشت کی ضمانت ہوتا ہے لیکن مجھے افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ ہماری موجودہ حکومت اور اُن کے ترجمان ابھی تک دنیا کو یہ بات باور کرانے میں بُری طرح ناکام ہیں کہ پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے ۔ خوارج طالبان کی ہی بدلی ہوئی شکل ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے خلاف تو بیانات داغ رہے ہیں لیکن خوارج کے حوالے سے اُن کے بیانات بالکل ایسے ہوتے ہیں جیسے یہ کوئی گلی محلے کا معمولی جھگڑ ا ہو ۔ حکومت کو بے رحم آہنی ہاتھوں سے ایک بار تو سب کچھ بالائے طاق رکھتے ہوئے فتنہ خوارج اور اُس کے حمایتیوں سے نمٹنا ہو گا ۔ میاں شہباز شریف کو بحیثیت وزیر اعظم یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہم حالت ِ جنگ میں ہیں اور حالت جنگ میں حکومت کو اپنی ریاست کے ساتھ مکمل کھڑا ہونا پڑتا ہے ۔ عطا تاڑر بہت با صلاحیت ہوں گے لیکن بغیر کسی معذرت کے لکھ رہا ہوں کہ حافظ گل بہادر جو 2006ءسے لے کر آج تک کبھی امن کے گیت گا کر حکومتِ پاکستان سے معاہدے کرتا رہا ہے اور کبھی اُن معاہدوں کو توڑ کر پاکستان میں ڈرون
حملوں کی مخالفت ۔ 2021ءکے بعد حافظ گل بہادر گروپ جو کبھی گڈ طالبان میں شمار ہوتا رہا ہے اب اپنے تئیں ایک ہزار سے پندرہ سو دہشت گردوں کے ساتھ پاکستان میں اپنی حکومت بنا کر بیٹھا ہے۔ ریاست کو کسی چھوٹے دہشت گرد گروپ کے ساتھ کبھی معاہدہ نہیں کرنا چاہیے کہ فوج ایک ریاستی دبدبے کا نام ہوتا ہے ¾ ایسے دہشت گردوں کے ساتھ معاہدے کرنے سے اُس کا وہ دبدبہ جاتا رہتا ہے جس سے ایسے دہشت گرد گروپوں کو افرادی قوت میسر آتی رہتی ہے۔ پاکستانی طالبان سے لے کر افغان طالبان تک ¾ القائدہ سے لے کر لشکرِ اسلام تک اورحقانی نیٹ ورک سے لے کر گمنام دہشت گردوں تک نہ جانے کتنے گروپ حافظ گل بہادر گروپ کے اتحادی ہیں ۔یو این او اور پاکستان کا اعلان کردہ دہشت گرد گروپ ہونے کے باوجود ہم ابھی تک اِن کا سدِ باب نہیں کرسکے ۔ میرے شہری اور فوجی جوان مجھے اپنی جان سے عزیز ہیں اور یہی جذبہ حکومت کا بھی ہونا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کے قاتلوں کا تعاقب جہنم کے دروازے تک کریں گے کہ ہمارے پاس اِس کے علاوہ کوئی آپشن ہی موجود نہیں ۔
دہشتگردوں کے حمایتیوں سے نرم رویہ کیوں ؟
09:40 PM, 7 Mar, 2025