تعمیرات میں کرپشن کیوں!

09:37 PM, 7 Mar, 2025

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی تعمیر 7 اپریل 2007ءکو شروع ہوئی تھی اور بین الاقوامی اور مقامی پروازوں کے لیے 20 اپریل 2018ءکو اس کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا تھا۔ اس کی تعمیر مکمل ہونے اور اس کے آپریٹو ہونے کے ایک ہفتے بعد ہی خبر آ گئی تھی کہ بارش میں اس کی چھتیں ٹپکنا شروع ہو گئی ہیں اور یہ خبر پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیل گئی تھی۔ اب گزشتہ روز میں ایک ٹی وی چینل پر خبریں سن اور دیکھ رہا تھا تو یہ خبر سامنے آئی کہ اس ایئر پورٹ کی چھت ایک بار پھر ٹپکنا شروع ہو گئی ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایئر پورٹ انتظامیہ نے لاﺅنج میں ٹپکتی چھت کے نیچے بالٹیاں رکھ کر ٹپکتے پانی کو کنٹرول کرنے کی کامیاب یا ناکام کوشش کی۔ چھت کے ٹپکنے کی وجہ سے انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک ارائیول لاﺅنج میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی سپیل کے دوران لاہور میں ہونے والی بارش نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے قبل ریکارڈ مدت میں تیار ہونے والے قذافی سٹیڈیم کے تعمیراتی معیار کا پول کھول کر رکھ دیا تھا۔ خبر کے مطابق آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں ہونے والی بارش کے باعث ایک وی آئی پی انکلوژر کے واش روم کی چھت ٹپکنا شروع ہو گئی تھی۔
یہی نہیں سرکاری نظام کے تحت کہیں بھی کوئی عمارت بنتی ہے تو کچھ عرصہ بعد پتا چلتا ہے کہ ناقص تعمیر کی وجہ سے استعمال کے قابل نہیں ہے۔ کوئی سڑک بنتی ہے تو دو چار بارشیں اس کا سب کچھ بہا لے جاتی ہےں اور عوام کے لےے آمد ورفت کے حوالے سے مسائل برقرار رہتے ہیں۔ اس سب کی وجہ ایک ہی ہے ناقص، غیر معیاری اور غیر متناسب میٹریل کا استعمال۔ جو بھی ایسی تعمیرات کی اجازت دیتے ہےں اور جو بھی کمپلیشن سرٹیفکیٹ (Completion certificate) جاری کرتے ہےں، میرے خیال 
میں ٹھیکیداروں کے ساتھ وہ بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
یہ ایک آئینہ ہے جس میں حکمرانوں سمیت سب کو اپنا اپنا چہرہ دیکھنا چاہےے۔ جیسے ہم باقی شعبوں میں فرسٹ ہیں، ویسے ہی ہم کرپشن میں بھی آگے ہیں۔ جیسے آلودگی میں پہلے نمبر پر ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ ایسا اس لےے ہے کہ ہمارے ہاں چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نطام نہیں ہے۔ اگر کوئی چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہو، اگر غلط کام کرنے والوں کو سزا ملے اور ہم ٹھیک کام کرنا شروع کر دیں تو ہمارا ملک آج بھی بہتر ہو سکتا ہے اور اقوام عالم کے شانہ بشانہ آگے بڑھ سکتا ہے۔ 
 پاکستان میں جمہوری طور پر منتخب حکومتیں تین پرتوں پر مشتمل ہوتی ہیں، (نیچے سے اوپر) لوکل گورنمنٹ، صوبائی حکومت اور وفاقی یا مرکزی حکومت۔ ملک کی منتخب سیاسی جماعتیں ان کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جیتنے والے کونسلر، چیئرمین، ممبر صوبائی اور رکن قومی اسمبلی کے سیاسی کور گروپ کا اگر تھوڑا گہرائی تک جائزہ لیا جائے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی اکثریت ٹھیکیداری نظام سے منسلک افراد پر مشتمل ہے۔ ٹھیکیدار حضرات اپنے پسندیدہ امیدوار پر ناصرف سرمایہ کاری کرتے ہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ ووٹوں کے حصول کے لیے عوام کے اندر ان کی نیک نامی کے قصے بھی مشہور کرتے ہیں۔ اگر وہ پسندیدہ لیڈر کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر یہی ٹھیکیدار ان عوامی نمائندوں کے اثرورسوخ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس اثرورسوخ کی بنیاد پر ٹھیکے حاصل کےے جاتے ہیں اور بھاری منافع کمایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اثرورسوخ سے حاصل کےے گئے ٹھیکوں میں معیار کا کہاں خیال رکھا جاتا ہو گا۔ پتا نہیں کیوں ٹھیکہ دینے والا حکومت یا ملک کا مفاد دیکھنے کے بجائے ٹھیکیدار کا مفاد دیکھتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ ہم کوئی تماشا لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں اور کوئی بھی سرکاری ادارہ پرافٹ میں نہیں ہے۔ دراصل انہی لوگوں نے ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ اوپر سے ہم غریب عوام کو ٹیکس لے لے کر سبسڈیاں دے رہے ہیں۔ ہمارا ملک زرخیر ہے، خوش حال ہے، اسے مزید خوش حال بنایا جا سکتا ہے لیکن اس طرح کی بے ضابطگیاں جن کا ذکر میں نے کالم میں کیا ہے معاملات کو خراب کر رہی ہیں۔ ان کے سد باب کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا اور اس کے لےے انقلابی تبدیلیاں لانا پڑیں گی۔
اب جبکہ ایئر پورٹ کی چھتیں ایک بار پھر ٹپکنا شروع ہو گئی ہیں تو ضروری ہے کہ اس سارے معاملے کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور پوری انکوائری کی جائے کہ ایئر پورٹ کی ناقص تعمیر کا ذمہ دار کون ہے؟ ۔جس ٹھیکیدار نے بھی اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی عمارت تعمیر کی ہے، اسے کہا جانا چاہےے کہ اب اس عمارت کو دوبارہ بناﺅ۔ کیا پتا اس نے عمارت کی بنیادیں ٹھیک نہ رکھی ہوں، کیا پتا اس نے میٹریل ٹھیک استعمال نہ کیا ہو۔ کیا پتا ایئر پورٹ کی تعمیر کے لےے استعمال ہونے والا پیسہ کہاں کہاں اور کس کس کی جیب میں گیا ہے۔ جس نے بھی بدمعاملگیاں کیں، ان سب کو ایک کٹہرے میں لانا چاہےے۔ جب تک آپ ان لوگوں کو پکڑ کر سزا نہیں دیں گے، عبرت کا نشان نہیں بنائیں گے، ملک کے ٹھیک ہونے کی امید نہیں کی جا سکتی۔ یہ ملک کے ساتھ مالی دہشت گردی ہے۔ یہ وہ دہشت گردی ہے جو نظر نہیں آتی، جو جانی نقصان نہیں کرتی، مالی نقصان کرتی ہے اور ملک کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیتی ہے۔ ملک کا اندرون اور بیرون ملک جو امیج خراب ہوتا ہے وہ اس پر مستزاد۔ انہی وجوہات کی بنا پر ہمارے ملک کا پاسپورٹ آخری نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ دبئی جیسے مسلم ملک میں بھی پاکستان کو ویزے جاری کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے جو کسی زمانے میں Dependant ہی پاکستان پر ہوتا تھا۔ ہم نے آئینہ دکھا دیا ہے باقی یہاں کے عوام کی مرضی اور یہاں کے حکمرانوں کی مرضی۔ 

مزیدخبریں