سیکرٹری اطلاعات تحریک انصاف شیخ وقاص اکرم پشاور میں بیٹھ کر کہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو کال کوٹھری میں رکھا ہوا ہے اور ان سے تمام سہولتیں واپس لے لی گئیں ہیں اور دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کا ٹائم میگزین میں آرٹیکل بھی شائع ہو جاتا ہے تو کچھ تو گڑ بڑ ہے ۔ انڈین ڈرامے سی آئی ڈی کے ایک کردار ڈی ایس پی کو جب کسی کیس میںکوئی بات سمجھ نہیں آتی تو وہ سوچتے ہوئے ایک ڈائیلاگ بولتا ہے کہ ” دیا کچھ تو گڑ بڑ ہے “ ۔ دیا اس کے ماتحت کا نام ہے ۔ پاکستانی سیاست میں عمران خان کی آمد سے پہلے کبھی گڑ بڑ محسوس نہیں ہوئی ۔ گڑ بڑ نہ ہونے کا ہر گز ہر گز یہ مطلب نہیں کہ گڑ بڑ نہیں ہوتی تھی بلکہ جو بھی گڑ بڑ ہوتی تھی اس میں جو کچھ بھی ہوتا تھا واضح اور سامنے ہوتا تھا ۔ 1988میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف صرف ایک سال بعد ہی جب عدم اعتماد کی تحریک آ گئی تو پتا چل گیا تھا کہ کیا ہونے والا ہے اور کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ جو سیاست میں دلچسپی رکھنے والے کسی فرد کو سمجھ نہ آتی ہو اور اسے کہنے کا موقع ملتا کہ ” کہیں تو کچھ گڑ بڑ ہے “ یہی حال اس کے بعد جب 1993میں میاں صاحب کی حکومت کو گھر بھجوایا گیا تو اس وقت بھی گڑ بڑ واضح تھی اور کسی نے نہیں کہا کہ ” کچھ تو گڑ بڑ ہے “ اس لئے کہ سب کو پتا تھا کہ کچھ نہیں بلکہ سب کچھ گڑ بڑ ہے لیکن جب سے عمران خان کی سیاست میں آمد ہوئی ہے تو یہ تو پتا چلتا ہے اور وہ بھی بڑی عرق ریزی کے بعد کہ کچھ تو گڑ بڑ ہے لیکن گڑ بڑ کیا ہے اس کا سرا نہیں ملتا یعنی 90کی دہائی میں جب پتا چلتا تھا کہ گڑ بڑ ہے تو سب پر یہ بات واضح ہو جاتی تھی کہ تین بڑے یعنی صدر مملکت کہ اس وقت 58ٹو بی اور دیگر بہت سے اختیارات ان کے پاس ہوتے تھے اور صدر مملکت علامتی اور صرف آئینی عہدہ نہیں تھا بلکہ جنرل ضیاءدور میں آئین میں شامل کی گئی بہت سی غیر جمہوری شقیں صدر مملکت کو حد سے زیادہ با اختیار بنا دیتی تھیں ۔ دوسرے آرمی چیف اور تیسرے چیف جسٹس آف پاکستان تو ہر کسی کو پتا چل جاتا تھا کہ تینوں بڑے اس گڑ بڑ کے لئے متفق ہو چکے ہیں لیکن اب تو جب تک کسی کی چڑیا یا چڑیل یا اندر کی خبریں بتانے والے بابے فال نکال کر قوم کو نہیں بتاتے کہ گڑ بڑ کہاں پر ہے اس وقت تک کسی کو گڑ بڑ کا پتا نہیں چلتا اور جب پتا چلتا بھی ہے تو کسی کو یقین آتا ہے اور کسی کو یقین نہیں آتا ۔
یہ گڑ بڑ کوئی آج سے نہیں ہے بلکہ یاد کریں کہ 2014میں بھی جب خان صاحب نے اسلام آباد ڈی چوک میں دھرنا دیا تھا تو ان دھرنوں کے دوران پارلیمنٹ اور پی ٹی وی کی عمارتوں پر وہاں موجود جتھوں نے چڑھائی کر دی تھی جس کی وجہ سے حالات کافی کشیدہ ہو گئے تھے لیکن کسی نا معلوم غیر مرئی لیکن انتہائی طاقتور مخلوق نے اس وقت کی حکومت کے ہاتھ باندھ رکھے تھے کہ وہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی بے بس تھی حتیٰ کہ چینی صدر کے دورے کو منسوخ کرنا پڑ گیا لیکن ان بلوائیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکی ۔ پھر بعد میں پتا چلا کہ کہاں پر گڑ بڑ تھی ۔ 2022میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی اور جس غیر آئینی طریقے سے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے پوری حزب اختلاف کو غیر ملکی قوتوں کا آلہ کار قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا تو یقین کریں کہ اس گڑ بڑ کی بہت سی کڑیاں آج بھی غائب ہیں کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک گڑ بڑ تھی یا اسے غیر آئینی طریقے سے مسترد کرنا گڑ بڑ تھی یا بندیال کورٹ نے جس طرح قاسم سوری کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ کے باہر قیدیوں کی گاڑی پہنچا کر تحریک عدم اعتماد پر گنتی کروائی وہ سب کچھ پروجیکٹ عمران خان کا ایک حصہ ہوتے ہوئے گڑ بڑ تھی ۔ اس لئے کہ اس کے بعد سائفر لہراتے ہوئے جس طرح عمران خان کی مقبولیت کا بیانیہ بنایا گیا اور اس کے بعد دو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل اور پھر دونوں صوبوں میں 90 روز میں انتخابات کے نہ ہونے پر سپریم کورٹ کا بار بار حکم دینا اور اس پر عمل نہ ہونے پر کبھی وزارت دفاع اور کبھی وزارت خزانہ و داخلہ اور کبھی الیکشن کمیشن کو کٹہرے میں کھڑے کرنا اور حکومت کو ایک پل چین سے نہ بیٹھنے دینے یہ سب گڑ بڑ کا پتا دیتے تھے ۔
پھر اس گڑ بڑ کا کھرا ہم خیال ججز تک پہنچا تو پتا چلا کہ حکومت ہی نہیں بلکہ طاقتور حلقے بھی کہاں پر آ کر بے بس ہو جاتے ہیں ۔ اس گڑ بڑ سے نمٹنے کے لئے 26ویں ترمیم کو پارلیمنٹ سے پاس کروایا گیا اور تاریخ کے مورخ کے لئے یہ بات لکھنا مشکل ہو گا کہ موجودہ حکومت کو قرض دینے کے لئے آئی ایم ایف نے حکومت کی ناک کی زیاد لکیریں نکلوائیں یا 26ویں آئینی ترمیم پر ساتھ دینے کے لئے مولانا فضل الرحمن نے زیادہ لکیریں نکلوائیں۔ 26ویں ترمیم کے بعد اب بظاہر تو راوی حکومت کے حق میں چین ہی چین لکھ رہا ہے لیکن غور کریں کہ تحریک انصاف واویلا کرتی ہے کہ اسے مشاورت کے لئے بانی پی ٹی آئی سے تنہائی میں ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی یعنی تحریک انصاف کے وکیل ہوں یا رہنما یا ان کے فیملی ممبرز ۔ ان سب کی ملاقاتیں جیل حکام کی نگرانی میں ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ کون سے ذرائع ہیں کہ جو نظر بھی نہیں آتے اور آرمی چیف کو بھی تین تین خط لکھ دیئے جاتے ہیں اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کو تو کم و بیش ساڑھے تین سو صفحات کا خط لکھا جاتا ہے اور اب ٹائم میگزین میں حکومت نہیں بلکہ ریاست پاکستان کے خلاف ایک آرٹیکل بھی شائع ہو جاتا ہے تو 2014میں تو جو کچھ ہوا اس کے پیچھے کون تھا پتا چل چکا ہے لیکن یہ جو کچھ ہو رہا ہے تو ”کچھ تو گڑ بڑ ہے “ ۔
کچھ تو گڑ بڑ ہے
09:36 PM, 7 Mar, 2025