پاکستان کی سیاست میں کسی سیاسی جماعت کا دھٹرن تختہ اسطرح نہیں ہوا جس طرح پی ٹی آئی اپنی جماعت کا دھڑن تختہ کرنے پر گامزن ہے ، یہ عمل کہیں باہر سے نہیں ہورہا جماعت کو غیر معروف کرنے میں اسکے خودساختہ لیڈران نہایت تندہی سے مصروف ہیں ، پی ٹی آئی کی پیدائش کچھ غیر سیاسی لوگوں کے ہاتھوں ہوئی جن کا ارادہ صرف اور صرف ملک کے جمہوری ماحول کی فضا کو گند ہ کرنا تھا ، جمہوری اقدار ، جمہوریت کی مضبوطی ایک طرف نوجوانوں اور اپنے پیروکاروںکی زبانوںکی غلاظت سے بھر دیا ، خاص طور اس نے اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان ، پاکستان کی عسکری قیادت کے خلاف جو زہر اگلا اور یہ عمل تاحال جاری ہے یہ طرز عمل کسی محب وطن کی جماعت کانہیں ہوسکتا ۔ روز روز کے دھرنے ، ہڑتالوں سے جب عوام تنگ آگئے ، اور ان دھرنوں سے جماعت کی مقبولیت میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوسکا بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ نقصان در نقصان ہو، اڈیالہ کا باسی دیسی مرغی کے مزے لیکر عوام کو لڑنے کی تقلید کرتا رہتا ہے ، جماعت میں موجود وکیل گروپ بھی ان سڑک کے احتجاجوں سے تنگ ہے ۔ اب بات یہاں تک آپہنچی کہ کپتان کی بہن جماعت کے مرکزی عہدیداروں سے شاکی ہے ،کپتان کی ”خاتون اول “ کپتان کی بہنوں اور مرکزی عہدیداروں سے شاکی ہے جب ایک سائنسی حقیقت کہ جب کوئی مسئلہ طویل عرصے تک اپنے حل کو نہ پہنچے تو وہ مسئلہ نہیں رہتا روز کا معمول بن جاتا ہے ، اب اڈیالہ کی رہائش ایک عام بات ہوچکی ، پہلے دھرنوں میں لوگ آتے تھے مگر حکومت کے کریک ڈاﺅن کے وقت جب کارکنوںنے مرکزی عہدیداروںکو چھپ کر بھاگتے دیکھا تو انہوںنے بھی تہیہ کرلیاکہ ہم کیوں اپنا روزگار داﺅ پر لگا کر جیل کی سختیاں برداشت کریں؟؟یہاں تک کہ اپنے آخری احتجاج میں جس واحد صوبے میں انکی حکومت ہے اور وہاں کے ذرائع استعمال کرکے وہ اسلاآباد میں چڑھائی کرتے تھے وہ ان تمام سہولیات کے باوجود وہ KPK میں عوام کو باہر نہیں نکال سکے جبکہ وہاں کے وزیراعلیٰ بڑے ” سخی ہیں وہ تو اکثر کارکنوںکو نقدی بھی تقسیم کرتے تھے غرض یہ سب تدابیر عوام کو کسی بھی شہر میں نہیں نکال سکیں ۔ اب کپتان جو کسی سیاسی جماعت ، مثال کے طور پر وزیر اعظم ،صدر کو تو کسی گنتی میں نہیںلیتے ، انہوںنے براہ راست عسکری قیادت کی طرف نظر کی پہلے انکے خلاف غلیظ زبان استعمال کر کے انہیں متنفر کیا پھر ان سے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی( انوکھا لاڈلہ کھیلن کو مانگے چاند ) ملاقاتوں کی خواہش خود ظاہر کر کے پراپیگنڈہ کیاگیا کہ عسکری ادارے خوف رابطہ کررہے ہیں مگر ”بہادر “ کپتان خود نہیں مان رہا وہ کہتاہے مجھے جیل میں مرنا پسند ہے مگر معافی نہیں مانگونگا جینے مرنے کی اس خواہش کے ساتھ ساتھ بہادری کاجھوٹا پراپیگنڈہ کر کے عسکری قیادت کوخط و کتابت شروع کردی پہلاخط تو کمال تھا جس میں بہ حیثیت سابق وزیر اعظم عسکری قیادت کو ہدایات جاری کی گئی تھیں انہیں کیا کیا کرنا چاہئے ، ایک خط ، دو خط تین خط بالآخر فوجی قیادت کو کہنا پڑا کہ ہمیں نہیں سیاسی آدمی وزیر اعظم کو خط لکھیں۔ دراصل جیسا میں نے اوپر تحریر کیا ہے اس جماعت کا وجود ہی اسوقت کی عسکری قیادت کے مرہون منت تھا اسلئے اس جماعت کا تاحال یہ تاثر ہے کہ عسکری قیادت ہی ہمارے مسائل حل کرسکتی ہے ، جبکہ یہ قیادت 2013-14 والی قیادت نہیں ، نہ ہی اسوقت کے جج ہیں جو پانامہ کے مقدمہ پرگرفتاری کراکر وزیر اعظم کو اسلئے نااہل کر دیتے کہ بیٹے سے تنخواہ کیوں نہیں لی ۔زیادہ پرانی بات نہیں ہے آج کے ترقی یافتہ دور میں کہانی سے پردے جلد ہی اٹھ جاتے ہیں اور کردار از خود طوطے کی طرح بولنے لگتے ہیں۔ احتجاجی ، توڑ پھوڑ کی سیاست کے بعد اب رخ کرلیا ہے نئے امریکی صدر کی طرف وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے نو منتخب صدر KPK سے ہیں وہ جلد رہا کراسکتے ہیںامریکی انتخابات سے قبل AI کے ذریعے ٹرمپ کا ویڈیو بھی بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کردیا تھا جس میں وہ کہہ رہے تھے میں اقتدار میں آکر عمران کو رہا کراﺅنگا ،پی ٹی آئی کے معصوم کارکن ا س آس میں بیٹھے رہے کہ اب ٹرمپ میانوالی آئے گا ہم اسکا استقبال کرینگے اس آس میں بھی چند ماہ نکل گئے ،یور پ اور امریکہ میں بہت سے ڈالر خرچ ہوئے کہ اب کوئی رکن پارلیمنٹ ہی عمران کی رہائی کی بات کرلے وہ کرا لی گئی۔ ٹرمپ اور یورپی پارلیمنٹ کو خط لکھ کر پاکستان ، پاکستان کے سیاسی نظام ، بہادر عسکری قیادت کے متعلق منفی باتیں کی گئیں جو اس جماعت کی ”محب وطنی “ کا ثبوت ہے خط براہ راست نہ پہنچ سکے شائد ڈاکیا مسلم لیگ ن کا تھا اسلئے اب کپتان کو مشہور رسالے ٹائم میں مضمون لکھ کر، (جسکے لئے بھاری ڈالر استعمال ہوئے ہونگے ) غرض ٹائم میں لکھے جانے والا مضمون ایک مایوس شخص کی تحریر لگتا ہے ابھی تک ایسی کوئی تصدیق شدہ اطلاع نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جیل سے خط بھیجا ہو۔ تاہم، خان نے اپنی قید کے دوران بین الاقوامی برادری سے فعال طور پر رابطہ کیا ہے۔ مضمون میںtime یہ بھی لکھتا ہے کہ ڈیپ فیک ویڈیوز گردش کر رہی ہیں، جن میں ٹرمپ کو خان کی رہائی کو محفوظ بنانے کا وعدہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان ویڈیوز کو تنقیدی طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ خلاصہ یہ کہ، اگرچہ قید کے دوران خان سے ٹرمپ سے کوئی مصدقہ خط و کتابت نہیں ہوئی، صورت حال اندرونی حرکیات اور بین الاقوامی
تناظر دونوں سے متاثر ہو کر ابتر ہوتی جارہی ہے۔جس طرح سوشل میڈیا میں منفی پروپگنڈہ کی روک تھام نہ کرنے والے بیرون ملک سفارت خانے یا قونصل خانہ ذمہ دار ہیں اسی طرح تمام تر پابندیوںکے باوجود time magazine کے سوالات اڈیالہ میں عمران تک کیسے پہنچے؟؟؟ یہ ہمارے کسی سفارت کار کی ذمہ داری ہے کہ وہ میگزین انتظامیہ سے پوچھے کہ یہ تحریر از خود میگزین کے صحافی کی ہے یہ عمران خان کی تحریر ہے ۔مضمون عمران خان کے حوالے سے لکھتا ہے وہ اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے اپنی باقی زندگی جیل میں گزاریں گے، ا گر یہ طے کرلیا ہے تو پھر خط کتابت کا کیا فائدہ؟؟۔ غرض چھٹی سیاںجی کے نام لکھنے سے خان کے مقدمات پر کوئی چھوٹ نہیںہوگی، نہ ہی رہا ہونے جارہے ہیں، سیاسی جماعت ہے تو اسمبلی میںبیٹھے ہیں نشستیں بھی ہیں ، اپنا کیس بیان کریں ، مگر وہاں مجبوری ہے کسی بل پر اگر حکوت کو حمایت چاہئے تو پی ٹی آئی کے اراکین ”مک مکا“ کر کے حکومت کی مدد بھی کر لیتے ہیں، بیرون ملک خطوط لکھنے سے ملک کی بدنامی ہے اسی ملک کی جس میں انہوں نے کل حکومت کی تھی اور آنے والے کل میں بھی شائد حکومت کرنے کے خواہش مند ہیں، تو ملک تو اپنا ہے۔ حکومت کو بھی چاہئے عوام کو سہولیات پر کام کرے، وزراءعمران کی تسبیح پڑھنا کم کریں ۔
سیاں جی کے نام خط ،بلاوجہ دل کا حال لکھ دیا
09:34 PM, 7 Mar, 2025