کسی زمانے میں ایک الیکٹرونکس کمپنی ویوز کے ڈیپ فریزر کا اشتہار بہت مشہورہوا تھا۔ بعدازاں اشتہار کی یہ ٹیگ لائن ضرب المثل بن گئی کہ نام ہی کافی ہے۔ سماجی پروگراموں اور سیاسی جلسوں میں بھی کسی مشہور شخصیت کی آمد سے قبل یہ لائن تواتر سے کہی جاتی ہے۔ لوگ شاید اس برانڈ کی کمپنی کو نہ جانتے ہوں لیکن برانڈ زبان زد عام ہو گیا۔ یہ صرف ٹی وی کا دور تھا۔ اب ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں کمپنیاں اپنے کاروباری پھیلا¶ کے لئے بے دریغ پیسے خرچ کرتی ہیں تاکہ لوگوں کو اپنے برانڈکی پہچان کرا سکیں۔اگرآپ فاسٹ فوڈ کے شوقین ہیں تو دور سے ہی مکڈونلڈکا ایم یا کے ایف سی کے بابے کو پہچان کر اپنی منزل کاتعین کر لیتے ہیں۔ ایسے ہی جب آپ نے گاڑی میں تیل ڈلوانا ہو تو اپنی پسند کی کمپنی کے پٹرول پمپ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کمپنیوں نے اپنے معیار اور زبردست اشتہاری مہموں کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں جگہ بنائی ہے۔ اس کے پیچھے ایک پوری فلاسفی کام کرتی ہے۔ پاکستان میں لوکل برانڈز کا کانسیپٹ بہت زیادہ پرانا نہیں ہے۔ لیکن کم ہی عرصے میں پاکستانی برانڈز خاص طور پرفیشن انڈسٹری نے بہت تیزی سے معیار اور مقبولیت کی منزلیں طے کی ہیں۔ فیشن برانڈ بنانا اور پھر اس کوچلانا ایک مشکل کام ہے۔ آئے روز نت نئے فیشن اورڈیزائن کی دوڑ میں ہر بار ایک نئے کانسیپٹ کے ساتھ اپنے کسٹمرز کو مطمئن کرنا پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے۔ انہی برانڈز نے پاکستان میں ٹیئر۔ ون آرگنائزڈ ریٹیل کا کانسیپٹ بھی متعارف کرایا۔ حکومت کی جانب سے پوائنٹ آف سیل کے نفاذ اور ٹیکس کمپلائنس میں بھی یہ کمیونٹی پیش پیش رہتی ہے۔ جبکہ پاکستان کی ٹیکس نہ دینے والی ریٹیل کمیونٹی کی جانب سے انھیں کم عقلی کے طعنے بھی سننے کو ملتے ہیں۔ ایک مرتبہ چین سٹور ایسوسی ایشن کے پیٹرن انچیف رانا طارق صاحب کے ہمراہ سرکاری ٹی وی کے کرنٹ افیئرز شو میں جانا ہوا۔ جہاں تاجروں ایک رہنما نے شو کے بعد بڑے فخر سے کہا کہ پی او ایس لگوانا تو بڑا بے وقوفی کا کام ہے ، ہم نے پہلے لگوایا نہ آئندہ لگوائیں گے۔ جبکہ حکومت سب کچھ جانتے بوجھتے تاجر دوست جیسی سکیموں کو کامیاب بنانے کے لئے انھی تاجروں میں سے نمائندے چن کر لگا لیتی ہے۔ یہ بلی کو دودھ کی رکھوالی کے مترادف ہے۔ آخر میں نتیجہ مکمل ناکامی ہے جس کا اعتراف ایف بی آر بھی کر چکا ہے۔ بات دوسری طرف نکل گئی۔ بات برانڈز کی پہچان کی ہو رہی تھی۔ گزشتہ دنوں پنجاب حکومت نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کے حکم پر پورے صوبے میں تجاوزات کے خاتمے کی مہم شروع کی گئی ہے۔ جو کہ کچھ انتظامی خامیوں کے باوجود ایک بہترین مہم ہے۔ پنجاب میں گلی محلوں سے لے کر بازاروں اور مین شاہراہوں تک تجاوزات کی زد میں ہیں۔ ان کے خلاف آپریشن کلین اپ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے کہ ہمارے ہاں جب کوئی قانون بنتا ہے یا سرکاری آرڈر سامنے آتا ہے تو انتظامیہ اس پراندھا دھند عملدرآمد شروع کر دیتی ہے۔ زمینی حقائق اور قانونی حقوق کو بھی مد نظر نہیں رکھا جاتا۔ اس وقت بس اس حکم نامے کو بجالانا ہی اصل مقصودبن جاتا ہے۔ تجاوزات کے خلاف اس مہم کے دوران وزیراعلیٰ آفس کی جانب سے سائن بورڈز کے ایک جیسے سائز اور رنگ اور لکھائی کی یکسانیت کو بروئے کار لانے کے لئے پورے پنجاب کے ہر ڈسٹرکٹ میں موجود ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں مشینری حرکت میں آگئی ہے۔ بنا کسی نوٹس صرف زبانی اطلاع پر بورڈز ہٹانے کی ہدایت بصورت دیگر بورڈ توڑنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔ اب یہ صورتحال کسی عام سنگل ریٹیل شاپ کےلئے تو شاید قابل قبول ہو گی لیکن برانڈز جنھوں نے دہائیوں کی محنت اور سرمایہ خرچ کر کے اپنا نام بنایا ہے۔ انھیں اگر عام ریٹیلر کی صف میں کھڑا کر دیا گیا تو برانڈ اور عام دکان میں کیا فرق رہ جائے گا۔ برانڈ کا لوگو، رنگ خاص ڈیزئن میں لکھا برانڈ کا نام یا مخفف ان کی اصل پہچان ہوتا ہے۔ اسی سے کسٹمر کی برانڈ سے وفاداری اور اعتماد وابستہ ہوتا ہے۔ ایک برانڈ جو پورے پاکستان میں اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ جن کی ڈیجیٹل پر بھی پوری برانڈنگ موجود ہے۔ وہ کس طرح ایک عام سفید بورڈ لگا کر اپنا کاروبار ٹھپ کر لے۔ کروڑوں روپے کی مارکیٹنگ کمپیئن کے ذریعے وہ اپنی مصنوعات کی تشہیر کرتا ہے۔کسٹمر گھر سے ذہن بنا کر مارکیٹ میں آئیں، ایک جیسے سائن بورڈز میں کس طرح اپنا مطلوبہ برانڈ تلاش کریں گے؟اس کاروباری نقطہ نظر کے علاوہ اس کا قانونی پہلو بھی ہے جو کہ نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان تمام پاکستانی برانڈز کے لوگو، رنگ اور لکھائی باقاعدہ حکومت پاکستان سے رجسٹرڈہیں۔ ان میں سے کئی برانڈ آئی پی اوسٹیٹس رکھتے ہیں۔ ایس ای سی پی سے رجسٹرڈ بزنسز کے طور پر مارکیٹ میں آپریٹ کر رہے ہیں۔ کئی برانڈز ایسے ہیں جو کہ اپنی انٹرنیشنل پہچان بنا چکے ہیں۔ دبئی، لندن، نیویارک سمیت دنیاکے بڑے شہروں میں سٹورز بنارہے ہیں۔ ایک جانب تو یہ بات
قابل فخرہے کہ پاکستانی فیشن برانڈز انٹرنیشنل مارکیٹ میں مقام بنا رہے ہیں۔ دوسری جانب مقام افسوس ہے کہ اپنے ہی ملک میں ان سے شناخت چھینی جا رہی ہے۔ جب میری ان برانڈ مالکان سے بات ہوئی توسخت مایوس پایا۔ ان مشکلات کے باعث بہت سے لوگ ملک سے باہر نکلنے کا سوچ رہے ہیں۔ پہلے ہی ملک سے کیپیٹل فلائٹ کررہا ہے۔ اگر حکومت نے تاجروں کی حوصلہ شکنی جاری رکھی تو ملک کیسے چلے گا؟ پالیسی لیول پر حوصلہ افزائی کی جائے تو پاکستانی فیشن پراڈکٹس کی ایکسپورٹ میں بہت زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ برسبیل تذکرہ کمزور پالیسیوں کی وجہ سے رواں مالی سال کے پہلے 8 مہینوں میں تجارتی خسارہ ایک ارب ڈالرسے زائد ہو چکا ہے۔پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔یہاں بنائی جانے والی پالیسیاں پورے ملک کی تجارت پراثر اندازہوتی ہیں۔ پنجاب حکومت کو چاہئے کہ تجاوزات کے پالیسی فریم ورک کو اسطرح سے طے کرے جس سے کاروبار متاثر نہ ہوں۔ برانڈز کی چین ایسوسی ایشن اس ضمن میں پنجاب حکومت کوسائن بورڈز پر لوگو اور برانڈنگ برقرار رکھنے کی شرط پر ری سائزنگ کے لئے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرا چکی ہے۔ اب گیند پنجاب حکومت کے کورٹ میں ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔
نام ہی کافی ہے
09:28 PM, 7 Mar, 2025