اِسلام روحِ فطرت ہے اور تصوف روحِ اسلام۔ جس طرح کوئی غیر فطری کام اسلام کا حصہ نہیں ہو سکتا، اس طرح کوئی غیر اسلامی عمل بھی تصوف کا حصہ نہیں ہو سکتا۔
یہ بحث اب سمٹ چکی، کہ شریعت اور طریقت میں کیا فرق ہے؟ کیا تصوف دین اسلام کے متوازی کوئی ”دین“ ہے؟ کیا تصوف اسلام سے ماورا ہے، یا ماسوا ہے؟ .... عوامی حلقوں میں ابھی تک یہ سوالات زیرِ بحث ہیں، کہ ظاہر پرستی عوام کی فطرتِ ثانیہ ہوا کرتی ہے، لیکن اہل علم کے ہاں یہ paradox کب کا سلجھ چکا ہے۔ جس طرح علوم فقہ اور علوم حدیث کے اصول عہدِ رسالت کے کچھ عرصہ بعد وضع کیے گئے، اسی طرح تزکیہِ نفس کے اصول و مبادیات بھی امت میں قرآن و حدیث، سیرتِ محمدی اور اصحابِ رسول کے اقوال و کردار کی روشنی میں کچھ عرصہ بعد طے پائے گئے۔ جب رسولِ کریم اپنے امتیوں کے درمیان بالوجود جلوہ افروز تھے، اس وقت علوم و تربیت کے سب سامان ایک وحدت کی صورت میں موجود تھے .... علم، عمل، کردار، تزکیہ نفس، تصفیہ قلب، تجلیہ روح اور جہاد بالنفس سے لے کر جہاد بالسیف تک، سب کامل و مکمل تھا اوراپنے درجہ کمال پر تھا۔ اس دور میں مختلف علوم آج کی طرح مختلف شعبہ جات میں منقسم نہ تھے، کہ ہر خاص و عام جس بارگاہ ناز میں مراحلِ تربیت طے کر رہا تھا، وہاں ہر صفت اپنے مرکز سے براہ راست منسلک ہونے کی وجہ سے اپنے نقطہ معراج پر تھی۔ ازاں بعد جس طرح احادیث پر مشتمل علوم کو علم الحدیث اور قوانین شریعت پر مشتمل علوم کو فقہ کا نام دیا گیا، اس طرح تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور تجلیہ روح پر مشتمل علوم و تربیت کو تصوف کا نام دے دیا گیا۔
دراصل تصوف اصحاب صفہ کا ورثہ Legacy ہے۔ خود کو شہر علم اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو باب العلم قرار دے کر رسولِ کریم نے رہتی دنیا تک متلاشیان علم کا قبلہ درست کر دیا۔ دوسری صدی ہجری تک لفظ ”صوفی“ مسلم معاشرے میں مستعمل ہو چکا تھا۔ جن لوگوں نے اپنا دامن سیم و زر کی ہوس سے آلودہ نہ ہونے دیا، لوگوں نے انہیں صافی اور صوفی کہنا شروع کر دیا تھا۔ یہ بحث عبث ہے کہ تصوف اہل عجم کی کوئی بدعت ہے۔ دراصل خلافت راشدہ کے فوراً بعد جب ملوکیت کا دور دورہ ہو گیا اور عوام نے ملوکیت کو ٹھنڈے پیٹوں قبول کر لیا تو حریت فکر دب کر رہ
گئی۔ روح اسلام ہجرت کر گئی اور فقط عبادات کا اہتمام اسلام ٹھہرا۔ ایسے میں میرِ عرب کو جہاں سے ٹھنڈی ہوا آئی، وہ دیارِ عجم تھا .... روح اور ریح یوں بھی مترادفات ہیں۔ اسلام آفاقی دین ہونے کے ناتے عرب و عجم کی تخصیص سے بے نیاز ہے۔
مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے: ”طریقت درحقیقت شریعت بالمحبت ہے“۔ یاد رہے کہ اہلِ تصوف کے ہاں شریعت کی ظاہری ہیئت میں بال برابر فرق نہیں، فرق بسا اوقات ان کے بیان میں نظر آتا ہے، اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کے بعد انہی عبادات کی بجاآوری میں ان کے ہاں کیفیت، خشوع اور تضرع میں فرق آ جاتا ہے۔ مبتدی بھی یہی نماز پڑھتا ہے اور منتہی بھی یہی .... ایک عام مسلمان کا روزہ بھی یہی ہے اور ایک صوفی بھی یہی روزہ رکھتا ہے۔ بس باطنی کیفیت اور تقاضے بدل جاتے ہیں۔ اہل تصوف کے ہاں رائج سب علوم اور تربیتی مراحل کی اساس قرآن اور حدیث ہے۔ ان کے ہاں کچھ بھی قرآن و حدیث سے باہر نہیں۔ فرق .... تفہیم اور تخصیص کا ہے۔ فرق حالات اور زمینی حقائق کے مختلف ہونے کا ہے۔ ایک عام آدمی اگر سن لے کہ کوئی شخص کسی خوشبو لگانے سے منع کر رہا ہے تو وہ طیش میں آ جائے گا، وہ سوچے گا، خوشبو لگانا سنت ہے اور یہ شخص سنت کے منافی چل رہا ہے .... اگر مخاطب کی حالت اس کے مشاہدے میں ہو، تو ممکن ہے اس کو یہ بات سمجھ میں آ جائے کہ اس حکم کا مخاطب حالت احرام میں ہے .... اور یہ بھی ایک بابِ شریعت ہے۔ حالت احرام میں خوشبو لگانا منع ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی حکیم اپنے مریض کو روزہ رکھنے سے پرہیز کا مشورہ دے رہا ہے، تو ظاہر پرستی کا خوگر شخص مریض اور اس کے حکیم دونوں پر گمراہی کا فتویٰ لگائے گا، کہ ظاہر پرست تو شریعت کی صرف ایک پرت دیکھتا ہے، لیکن تفقہ فی الدین رکھنے والا، روح دین سے تمسک رکھنے والا شخص، عمومیات سے استثنیات تک سب امکانات پر نگاہ رکھتا ہے .... اس کے لیے صوفیاءکا طریق کار عین شریعت محمدی کے مطابق ہے۔
طریقت دراصل ایک طریقہ کار ہے .... احکامِ شریعت کو روحِ شریعت کے مطابق اپنے جسم و جاں پر نافذ کرنے کا۔ اس کے لیے کتاب کافی نہیں، بلکہ کتاب پر عامل ایک گوشت پوست کی زندہ شخصیت کا تعاون اور رہنمائی درکار ہے جس نے اپنے حواسِ خمسہ پر شریعتِ محمدی اور کردارِ محمدی نافذ کر کے دکھائی ہوتی ہے .... یہ زندہ شخصیت اپنے کردار کے زور پر ماضی کو حال سے متصل connect کر سکتی ہے۔ صوفی صفا سے ہے۔ صوفی وہ ہے جس کے بشری تقاضے مدھم اور تہذیب یافتہ ہو چکے ہوں اور روحانی جہت اس کی بشریت پر غالب آ چکی ہو .... تا آن کہ وہ راہروانِ حق کو حق سے کما حقہ آشنا کر سکے۔ صوفی ہر دور کے طلب اور تقاضوں کے مطابق روح دین کی اپنے معاشرے میں ایسی ترجمانی translate کرتا ہے، جو ایک عام آدمی کی فہم سے قریب تر ہو جاتی ہے .... یوں وہ پرانے پیغام کو نئی طشتریوں میں پیش کرتا ہے، تاکہ وہ قابلِ قبول بھی ہو جائے اور قابلِ تفہیم بھی۔
صوفی اس بندہِ مومن کو کہیں گے جو بندہِ اخلاص بھی ہے اور بندہِ اخلاق بھی۔ اس کے ہاں مدعائے عبادت معرفت ہے۔ حور و قصور اس کی اطاعت کا مدعا نہیں۔ وہ سائل کی سطح سے گزر کر طالب بن جاتا ہے .... اور طالب حق .... دیدار حق کے سوا کچھ اور طلب نہیں کرتا۔ اس کا جرم، جرم محبت ہے .... اور اس جرم کی سزا طواف کوئے ملامت ہے۔
اخلاص ایک خوشبو کی طرح ہے، اسے خوشبودار لوگ ہی پہچان پاتے ہیں۔ اپنے مفاد اور مزاج کے بندی خانے کا اسیر اس خوشبو سے ناآشنا ہوتا ہے جو صرف ایک بندہ آزاد کا نصیبہ ہے۔
ہمارے ہاں تعلیم یافتہ لوگوں میں بھی ایک عجب فکری جھول پایا جاتا ہے۔ وہ اسلام کے بارے میں مستشرقین کی رائے کو اہم سمجھتے ہیں۔ ایک کلمہ گو اور غیر کلمہ گو کے روحانی شعور میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ہم اس فرق کو جب تک ملحوظِ خاطر نہیں رکھیں گے، مستشرقین کی رائے ہمارے مشاہیر کے بارے میں یا ہماری تاریخی واقعات کے بارے غیر معتبر رہے گی۔ سادہ سی مثال ہے، پروفیسر آرنلڈ نکلسن جب ”کشف المحجوب“ کا ترجمہ کرتے ہیں تو ”فقر“ کا ترجمہ "poverty" لکھ جاتے ہیں .... مستشرقین کی یہی غربتِ فکر poverty ہمیں دیگر اصطلاحات اور شخصیات کے بارے میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایسے ترجمہ و تفہیم میں رسولِ کریم کے فرمان”الفقر فخری“ کا بھلا کیا مفہوم لیا جا سکتا ہے۔ اپنوں کو غیر کی نظر سے دیکھنے کی روش نے نظر اور پس منظر کو دھندلا دیا۔ جس طرح مسلم کا طرزِ فکر ایک غیر مسلم نہیں جان سکتا ہے اور مومن کا فکر غیر مومن پر آشکار نہیں ہوتا، اسی طرح محسن کا حسن خیال اس شخص پر نہیں کھلتا جو کبھی وادی احسان کا راہرو نہ رہا ہو۔ از روئے قرآن .... جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوتے .... دیکھنے والا، نہ دیکھنے والے کے برابر نہیں ہوتا .... پس شاہدین پر غیر شاہد کی گواہی قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔ شاہد کہلانے کا حق صرف عینی شاہد کو حاصل ہوتا ہے۔
( بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں دو روزہ انٹرنیشنل تصوف کانفرنس میں پڑھا گیا)
طریقت اور شریعت
09:26 PM, 7 Mar, 2025