4 مارچ 2024ءکو میاں شہباز شریف نے دوسری بار وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور ان کی حکومت کا ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ ان کی ایک سالہ حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو وہ عوامی مسائل کے حل کیلئے شب و روز محنت تو کر رہے ہیں لیکن پہاڑ جتنے مسائل کے حل کیلئے مزید تگ و دو کی ضرورت ہے۔ میاں شہباز شریف کو تین بار وزیراعلیٰ پنجاب اور دو بار وزیراعظم پاکستان منتخب ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ 1950 ءکو لاہور میں پیدا ہونیوالے میاں شہباز شریف کا چار دہائیوں پر مشتمل عملی سیاست میں کیرئیر بہت شاندار ہے۔ 1985ءمیں شہباز شریف لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر منتخب ہوئے جبکہ 1988ءمیں پہلی بار پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے‘ اسمبلی کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی اسے 1990ءمیں تحلیل کردیا گیا۔ میاں شہباز شریف 1990 ءمیں ہونیوالے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1993ءکے انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے رکن بنے اور 1996ءتک پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔ 1997ءمیں شہباز شریف تیسری مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن اور پہلی بار وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے، 1999 ءمیںپنجاب حکومت مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت کے ساتھ ہی ختم کردی گئی اور میاں شہباز شریف کو قید کرلیا گیا، بعدازاں انہیں فیملی سمیت جلاوطن کردیا گیا۔ 2007ءمیں 8 برس جلا وطنی میں گزارنے کے بعد واپس پاکستان آئے ۔ 2008 ءمیں چوتھی مرتبہ ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور دوسری بار صوبہ پنجاب کے وزیراعلی بن گئے۔مئی 2013 ءکے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن بھاری مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آئی، شہباز شریف صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں (پی پی159، پی پی 161، پی پی247) اور (این اے129) کی ایک قومی نشست پر کامیاب قرار پائے تاہم انہوں نے پی پی159 کی نشست برقرار رکھی نتیجتاً وہ تیسری مرتبہ ریکارڈ حیثیت میں وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے۔ 2018ءمیں اپنے بڑے بھائی نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر منتخب ہوئے۔ 2018 ءکے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے 4 حلقوںسے الیکشن میں حصہ لیا اور رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے مقابلے میں وزیراعظم کا انتخاب لڑا ۔ اس انتخاب میں بانی پی ٹی آئی 176 ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہوئے اور شہباز شریف کو 96 ووٹ ملے، بعدازاں شہباز شریف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نامزد ہوئے۔ اپریل 2022ءمیں بانی پی ٹی آئی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پی ڈی ایم اور دیگر اتحادی جماعتوں نے شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا۔ 11 اپریل کو قومی اسمبلی نے شہباز شریف کو نیا قائد ایوان منتخب کر لیا اور اس طرح شہباز شریف پہلی بار وزیراعظم پاکستان منتخب ہوئے۔
میاں شہباز شریف کا بطور وزیراعظم پہلا دور حکومت صرف 16 ماہ تک محدود رہا۔ 8 فروری 2024ءکو ہونے والے انتخابات کے نتائج اور نئی قومی اسمبلی تشکیل ہونے کے بعد اتحادی جماعتوں کی حمایت سے وہ دوسری بار وزیراعظم منتخب ہوئے۔ میاں شہباز شریف نے جب وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا تو ملک پر ڈیفالٹ کا خطرہ منڈلا رہا تھایہ خطرہ تو شاید ٹل چکا لیکن عوام مہنگائی، بیروزگاری، بجلی کے بھاری بلوں، نظام انصاف کی پیچیدگیوںجیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں اپوزیشن کو میثاق معیشت کے ساتھ میثاق مفاہمت کی بھی دعوت دی تھی۔ان کا کہنا تھا آئیں مل کر پاکستان کی قسمت سنواریں اور اس کو درپیش چیلنجزسے اسے نکالیں۔ غربت میں کمی، روزگار کی فراہمی، معاشی انصاف، سستا اور فوری انصاف ہمارا نصب العین ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے ویزا فری انٹری کی سہولت دیں گے۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کیلئے تیل سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں فوری طور پر متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار پر توجہ دیں۔ سرمایہ کاری اور کاروبار دوست ماحول کے راستے میں حائل فرسودہ قوانین کا خاتمہ کریں گے۔ پورے ملک میں بہترین ٹرانسپورٹ کا جال بچھائیں گے۔ بجلی اور ٹیکس چوری سے نمٹنے کیلئے خود ذمہ داری ادا کروں گا۔ ایف بی آر میں خودکار نظام متعارف کرائیں گے، اب محنت کرنا ہو گی۔ یہ پورا ایوان گواہ ہے کہ ہم نے کبھی ادلے اور بدلے کی سیاست کا سوچا بھی نہیں۔ ہم نے ہمیشہ پرامن جدوجہد کی اور کبھی کوئی گملا بھی نہیں ٹوٹا، مگر قوم نے وہ دن بھی دیکھا جب 9 مئی کو قومی سلامتی کے ضامن اداروں پر حملے کئے گئے۔ ایک عام پاکستانی کبھی اس طرح کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ہزاروں شہداءکے ورثا پر کیا بیتی ہو گی جن کے پیاروں نے اس مٹی کی محبت میں دہشت گردی کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ان کا کہنا تھا پاکستان بے پناہ وسائل سے مالا مال ہے۔ اس ایوان میں چاروں صوبوں سے قابل ترین لوگ آئے ہیں، ہم ملکر ملک کی کشتی کو منجدھار سے نکال کر کنارے پر لے جائیں گے۔
میاں شہباز شریف نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعداپوزیشن کو میثاق معیشت کے ساتھ میثاق مفاہمت کی دعوت دی تھی لیکن ایک سال گزرنے کے بعد بھی حالات جوں کے توں ہیں ۔نفرت اور انتشار کی سیاست پاکستان کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے۔ ایک بار اپوزیشن اور حکومت کے مابین مذاکرات کا آغاز ہوا تو یہ امید بندھ چلی تھی کہ اب عوامی مسائل کا ادراک ہو گا اور تمام سیاسی جماعتیں سیاسی استحکام کی طرف بڑھیںگی لیکن مذاکرات کی بیل بھی منڈھے نہیں چڑھ سکی اور اپوزیشن نے اپنے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر اس عمل سے علیحدگی اختیار کر لی۔ یہ بات طے ہے کہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے اور میاں شہباز شریف سے ملک کی کشتی کو جس منجدھار سے نکالنے کی بات کی تھی اس کیلئے بھی تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھنا ہو گا لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ اعلیٰ قیادت انا کے خول سے باہر نکلے اور زمینی حقائق کا ادارک کرتے ہوئے متحد ہو کرعوامی مسائل کے حل کی جانب بڑھے۔ اس حقیقت کو جتنی جلدی تسلیم کر لیا جائے تمام فریقین اور ملک وقوم کیلئے بہتر ہو گا۔
شہباز شریف حکومت کا ایک سال اور میثاقِ مفاہمت
09:26 PM, 7 Mar, 2025