کوئی آرزو ، کوئی مقصد کسی بھی انسان کی زندگی کی آخری خواہش بن جائے تو اس کے حصول کےلئے سردھڑ کی بازی لگا دینا، جائز و ناجائز ہر حربہ بروئے کار لانا اس کا فطری عمل ہے۔بلاول کو وزیر اعظم بنانا خود اپنے بقول جناب آصف زرداری کی آخری خواہش ہے۔ اس خواہش کی تکمیل میں اگر وہ ن لیگ بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھیں تو یہ خلاف توقع نہیں ہے۔ اس لئے مریم نواز شریف کی ناکامی ان کی بے تاب آرزو کا مظہر ہو سکتی ہے۔ بلاول کے شکایت آمیز بیانات اور یوسف رضا گیلانی کی کوششوں کے باوجود پنجاب میں ایسی سیاسی سہولت جیسی وفاق میں تمام آئینی مناصب کے مزے لینے کے باوجود حکومتی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے بغیر حاصل ہے، کے حصول میں ناکامی کا ردعمل وہ ہی ہو سکتا ہے جو پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت کی جانب سے سامنے آرہا ہے۔ مریم نواز کو زیر دباو¿لانے کےلئے پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر سلیم حیدر نے قیاد ت کے اشارے پر صوبے کے انتظامی معاملات میں ٹانگ اڑانے کی کوشش کی۔ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرریوں میں رکاوٹ اس کی ایک مثال ہے جبکہ سندھ میں اس معاملے میں سارا اختیار وزیر اعلیٰ کو حاصل ہے۔گورنر کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
گورنرپنجاب شکایتوں کا پلندا لے کر صدر آصف زرداری سے ملے تو اس موقع پر انہیں پنجاب حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے اور ایکشن لینے کی ہدایت دوہرائی گئی کیونکہ یہ فریضہ وہ پہلے ہی انجام دے رہے ہیں۔ آصف زرداری نے اتحادی حکومت کے ساتھ چلنا مجبوری قرار دیا ہے۔ مجبوری دراصل مظلومیت کی ہی ایک صورت ہے۔ اب اس مجبوری یا مظلومیت کا جائزہ لیا جائے۔ وہ خود صدر مملکت کے منصب پر فروکش ہیں جس کے بعد نیب کی جانب سے ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس کی بحالی مزید التوا کا شکار ہو گئی ہے۔ قریبی ساتھی یوسف رضا گیلانی سینٹ کے چیئرمین، دوسرے رہنما قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر ، سندھ کے بعد بلوچستان میں حکومت، پنجاب اور کے پی کے میں پیپلز پارٹی کے گورنرز، قومی و صوبائی اسمبلیوں کی قائمہ کمیٹیوں میں حصہ داری، یہ ایسی ہی مظلومیت ہے جس کا اظہار عمران ریاض نے آفتاب اقبال سے گفتگومیں دکھی دل سے روہانسی آواز میں کہا، خان نے تین ماہ سے تیتر نہیں کھایا۔ آفتاب اقبال نے جواباً کہا ہاں میں نے دس تیتر شکار کرکے بھیجے تھے۔ گوگل کے ذریعہ یہ ویڈیو گفتگو سنی جا سکتی ہے۔ اس نقطہ نظر میں بہت وزن ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نے وزیر اعظم کےلئے شہباز شریف کو ووٹ دیئے تو بدلے میں صدر کے آصف زرداری نے ووٹ لے لئے،قومی اسمبلی میں ن لیگ کے ایاز صادق کو ووٹ دیئے تو سینیٹ چیئرمین کےلئے یوسف رضا گیلانی کےلئے ووٹ حاصل کر لئے، سینیٹ میں ن لیگ کو ڈپٹی چیئرمین کی نشست دی تو قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کا منصب حاصل کر لیا۔ پنجاب میں اپنا گورنر لگوالیا۔سندھ میں ن لیگ کو گورنر شپ سے محروم کرنے کےلئے ایم کیو ایم سے اندر خانے ساز باز کر لی۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو ہٹانے کی بات ہو تو ایم کیو ایم حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دے دیتی ہے۔
آصف زرداری نے جو خود اور بلاول کے پنجاب میں آکر بیٹھ جانے کی دھمکی دی ہے یہ دراصل مریم کو دباو¿ میں لانے کا حربہ ہے۔ ایک صحافتی دانشور کے مطابق ن لیگ کو دباو¿ میں لانے یا ہراساں کرنے کےلئے یہ تاثر بھی پھیلایا گیا کہ پیپلز پارٹی بلاول کو وزیر اعظم بنانے کےلئے پی ٹی آئی سے رابطے کر رہی ہے۔ کچھ مدت بعد ان صاحب سے پیش رفت کےلئے پوچھا تو جواب ملا، یہ تاثر حقیقت اس لئے نہ بن سکا کیونکہ عمران کسی صورت بلاول کو وزیر اعظم تسلیم کرنے کےلئے تیار نہیں حالانکہ اسے صدر مملکت کے سنگھاسن پر بٹھانے کی پیشکش کی گئی تھی۔ اس میں کتنی صداقت ہے وہ خود ہی جانتے ہیں البتہ پی ٹی آئی یا عمران کے حق میںبلاول، آصفہ زرداری اور پیپلز پارٹی کے کچھ رہنماو¿ں کے ایک خاص وقت میں بیانات متذکرہ تاثر کی جانب اشارہ ضرور کرتے ہیں۔
اگرچہ بادی النظر میں یہ بلیک میلنگ ہی ہے مگر میں اس کےلئے فنکاری کے الفاظ مناسب سمجھتا ہوں۔ یہ ایک ٹریک ریکارڈ ہے آصف زرداری اور بلاول نے حکومت کی ہر ضرورت سے فائدہ اٹھایا ہے مثلاً نیب قوانین میں ترمیم کی حمایت کا معاوضہ، 22 ارب روپے وصول کر لیا۔ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے مکانات بنانے کے نام پر خطیر رقم سے کتنے مکان تعمیر ہوئے ، متاثرہ علاقوں کے لو گ خود جائزہ لے سکتے ہیں۔ اب تازہ واردات یا فنکاری کا اشارہ دو ماہ کی مہلت دے دیا گیا ہے جو مریم نواز کےلئے بڑا چیلنج ہوگا۔ صدر زرداری نے گورنر سلیم حیدر کو تسلی دی ہے ، دو ماہ ٹھہر جاو¿،پنجاب میں سپیس حاصل کرلیں گے۔ اس سلسلے میں حکمت عملی یہ ہوگی۔ وفاقی بجٹ کی منظوری یعنی حمایت میں ووٹ دینے کو پنجاب میں سپیس دینے سے مشروط کیا جائے گا۔ اس سے وزیر اعظم شہباز شریف دباو¿ میں آئیں گے اور وہ مریم سے پیپلز پارٹی کو مطلوبہ سپیس دینے پر اصرار کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں میاں نواز شریف کو اس بنیاد پر قائل کر نے کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ پنجاب میں ہم نے بہت کام کر لیا ہے۔ پیپلز پارٹی کو تھوڑی سپیس دینے سے کیا فرق پڑ ے گا۔ اگر میاں نواز شریف اس پر قائل ہو گئے تو یاد رکھیں یہ اونٹ کو خیمے میں گردن ڈالنے کی اجازت جیسا ہوگا۔ دوماہ بعد کی صورتحال میرے خیال میں مریم نواز کےلئے بڑا چیلنج ہوگی وہ اس کا مقابلہ کیسے کریں گی، اس کا جواب ان کی سیاسی ذہانت سے ملے گا۔
ویسے آصف زرداری، بلاول یا پیپلز پارٹی کی فنکاریوں سے بچنے کی یقینی صورت موجود ہے لیکن یہ باعث تعجب ہے۔ میاں نوازشریف تادم تحریراس پر توجہ کیوں نہیں دے سکے۔ یہ میرا یقین نہیں گمان ہے ہو سکتا ہے آصف زرداری ، بڑے گھر، کو بھی ہمنوا بنا سکیں۔ یہ گمان کسی ایک کو مکمل طورپرپنپنے کی اجازت نہ دینے کا ریکارڈ کی بنیاد پر ہے تاہم خو، بدلنے کا قومی تاثر بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ ویسے مریم نواز کو پیش آمدہ صورتحال کا مقابلہ کرنے کےلئے ابھی سے سوچ و بچار شروع کر لینا چاہیے۔
مریم نواز کےلئے ممکنہ چیلنج کی نشاندہی میرے پانچ دہائیوں سے زائد صحافتی تجربہ، ملکی سیاست کے اسرارورموز سے دیرینہ آگاہی کا نچوڑ ہے۔ میرا ہرگز مقصد آصف زرداری ، بلاول، یا پیپلز پارٹی کی مخالفت نہیں ہے جیسا کہ شروع میں عرض کیا، کوئی آرزو، کوئی مقصد کسی بھی انسان کی زندگی کی آخری خواہش بن جائے تو اس کے حصول کےلئے سردھڑ کی بازی لگا دینا، جائز و ناجائز ہر حربے کو بروئے کارلانا اس کا فطری عمل ہے۔ لہٰذا آصف زرداری کی پنجاب کے حوالے سے حکمت عملی یا فنکاری کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔
حرف آخر ، گزشتہ کالم بعنوان ، مریم نواز ہی نشانہ کیوں، میں بعض قارئین نے کمپوزنگ کی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ایک جملہ ، جب میاں نوازشریف،میاں شہباز شریف، حمزہ شہباز اور کیپٹن صفدر ’جوان‘ تھے کی بجائے نذر زنداں تھے، دوسرا جملہ جب آصف زرداری کے بقول انسانی زندگی کی بجائے ان کی زندگی ، پڑھا جائے۔ شکریہ
زرداری کی آخری خواہش، مریم کےلئے چیلنج
09:23 PM, 7 Mar, 2025