وفاقی کابینہ میں اچانک توسیع کر دی گئی ہے حالانکہ ہونی کمی چاہئے تھی ، ممکن ہے اضافہ یہ سوچ کر کیا گیا ہو نااہلی دکھانے کے لئے زیادہ سے زیادہ وزیر ہونے چاہئیں ، وزیراعظم نے فرمایا ہے وفاقی کابینہ کی کارکردگی کا جائزہ اب میں خود ل±وں گا ، اللہ جانے وفاقی کابینہ کی کارکردگی کا جائزہ پہلے کون لیتا تھا جو کہ اب وزیراعظم خود لیں گے ؟ اور اگر جواباً وفاقی کابینہ نے ا±ن کی کارکردگی کا جائزہ لینا شروع کر دیا میرے خیال میں پھر معاملہ یہ طے پائے گا ”کوئی ایک دوسرے کی کارکردگی کا جائزہ نہیں لے گا“ ، پاکستان میں کارکردگی کی کوئی اہمیت نہیں ”اصل کارکردگی“ کی اہمیت ہے اور”اصل کارکردگی“ صرف یہ ہے اپنے اپنے آقاو¿ں کی جی بھر کے خوشامد کی جائے ، اس اصل کارکردگی میں اگر کوئی ڈنڈی مارے گا جواباًا±سے ڈنڈا مار کر فارغ کر دیا جائے گا ، نئے وفاقی وزراءکو”آداب خوشامدی“ ملخوظ خاطر رکھنا ہوں گے ، پاکستان کی صرف سیاست میں نہیں ہر شعبے میں ترقی کا بس یہی ایک فارمولہ ہے ، جسے اس معاملے میں تجربہ ہے ا±س کے لئے کسی اور اہلیت کی کوئی ضرورت ہی نہیں ، ایک بار ایک اعلیٰ افسر کو کسی ڈویژن کا کمشنر لگانے کے لئے وزیراعلیٰ نے ب±لایا ا±س سے پوچھا آپ اس سے پہلے فیلڈ میں کہاں کہاں تعینات رہے ؟ وہ بولے”سر میں آپ کا دیوانہ ہوں ، جہاں بھی رہا آپ ہی کے ویژن کے مطابق کام کیا ، حتی کہ جب آپ جیل میں تھے میرا جی چاہتا تھا اور میں یہ دعا بھی کرتا تھا کاش مجھ سے کوئی ایسا ج±رم سرزد ہوجائے میں بھی جیل میں چلے جاو¿ں تاکہ وہاں آپ کی کچھ خدمت کر سکوں اور آپ کی صحبت میں رہ کر آپ سے بہت کچھ سیکھ سکوں“ ، وزیراعلیٰ بولے”اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہوا آپ بہت اعلیٰ کردار کے مالک بہت ایماندار اور اہل افسر ہیں اور آپ کو فیلڈ کا اچھا خاصا تجربہ بھی ہے ، اب آپ خود ہی بتا دیں آپ نے کس ڈویژن میں کمشنر لگنا ہے ؟ ویسے صلاحیتیں آپ میں چیف سیکریٹری لگنے کی ہیں وہ بھی بعد میں ہم آپ کو لگا دیں گے“ وفاقی کابینہ میں 27 نئے چہرے شامل کئے گئے ہیں ان کے محکموں کے اعلان فی الحال نہیں ہوئے ، عموماً ایسے ہی ہوتا ہے وفاقی کابینہ یا وفاقی کابینہ میں توسیع کے وقت محکموں کا اعلان نہیں کیا جاتا ، اس کی منظوری وزیراعظم کو شاید الگ سے لینی پڑتی ہے ، اب پ±رانے وفاقی وزراءکچھ دنوں یا کچھ وقت کے لئے شاید پریشان رہیں گے کہ ا±ن کے پاس جو اچھے یعنی جو ”کماو¿ محکمے“ ہیں وہ کہیں نئے وزراءکے سپرد نہ کر دئیے جائیں اور نئے وزراءبھی کچھ دیر یا کچھ وقت کے لئے شاید پریشان رہیں گے کہ ا±نہیں ایسے تھکے محکمے نہ دے دئیے جائیں جن میں ناجائز کمائی کا کوئی موقع ہی نہ ا±نہیں مل سکے ، میرا خیال ہے جب تک یہ کالم شائع ہوگا نئے وزراءکے محکموں کا اعلان ہو چکا ہوگا ، پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ میں شامل نہ ہونے کے اعلان پر ابھی تک قائم ہے، صدر مملکت اور گورنروں کے عہدے حاصل کرنے کے باوجود اور وفاقی حکومت کے ہر غلط فیصلے کی تائید و حمایت کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی اگر یہ سمجھتی ہے صرف وفاقی کابینہ کا حصہ نہ بن کر نون لیگی حکمرانوں کے کچھ انتہائی غلط فیصلوں کے اثرات سے وہ محفوظ رہے گی یہ ممکن ہی نہیں ہے ، چنانچہ ہمارا مشورہ ہے وفاقی کابینہ میں توسیع کے دوسرے مرحلے میں پیپلز پارٹی بھی اپنا حصہ بقدر جثہ قبول فرما لے ، بلاول بھٹو زرداری کو ایک بار پھر وزیر خارجہ بنایا جانا چاہئے کیونکہ داخلی و خارجی امور کے جتنے وہ ماہر ہیں شاید ہی اور کوئی ہوگا ، عمران خان کے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کے حالیہ پیارے پرویز خٹک کو مشیر بنایا گیا ہے ، وزیراعظم کو چاہئے ا±ن کے مشوروں پر سوچ سمجھ کر عمل کریں کیونکہ بیشمار معاملات میں عمران خان کو بھی ا±ن ہی کے مشوروں نے مروایا تھا ، جو شخص ایک صوبے کا وزیراعلیٰ ا±س کے بعد وفاقی وزیر دفاع رہا ہو ا±س کا اب بے محکمہ مشیر بنایا جانا ا±س کے ساتھ زیادتی ہے ، اس عمر میں ا±ن کے ساتھ یہ زیادتی عمران خان بھی شاید نہ کرتے ، ا±نہیں شاید ا±ن کی جسامت کے مطابق عہدے سے نوازا بلکہ شہبازا گیا ہے ، سیاسی وزن تو اب ا±ن کا شاید کبھی نہیں بڑھے گا ، جسمانی وزن تھوڑا بہت وہ بڑھا لیں ممکن ہے ا±س کے بعد ا±ن کے مشیر کا عہدہ ا±ن کے وزن کے مطابق وزیر کے عہدے میں تبدیل کر دیا جائے ، راولپنڈی سے حنیف عباسی کو بھی وزیر بنایا گیا ہے ، پتہ چلا ہے وہ ریلوے کا محکمہ لینا چاہتے ہیں ، حالانکہ ا±نہیں ا±ن کی طبیعت کے مطابق انسداد منشیات کا محکمہ ملنا چاہئے ، لیکن اگر ریلوے کا مزید بیڑا غرق کرنا مقصود ہو پھر ریلوے بھی ٹھیک ہے ، طلال چودھری کو وزیر مملکت بنایا گیا ہے ، ا±نہیں جو محکمہ بھی دیا جائے اضافی ذمہ داری کے طور پر نون لیگ کی تنظیم سازی بہرحال ا±نہیں ہی کرنی چاہئے ، یہ کام ا±ن سے بہتر اور کوئی کر ہی نہیں سکتا ، مجھے نہیں معلوم نئے اور پ±رانے وفاقی وزیروں مشیروں کی ک±ل تعداد اب کتنی ہوگئی ہے ؟ شاید اتنی ضرورہوگئی ہوگی سارے وزیروں کے نام یاد رکھنا وزیراعظم کے لئے بہت مشکل ہوگا ، ان حالات میں وہ اگر طلال چودھری کو عون چودھری یا عون چودھری کو طلال چودھری کہہ دیں دونوں اس کا ب±را نہ منائیں ورنہ وزیراعظم شہباز شریف بھی ب±را منا جائیں گے ، نئے وزراءکو محکمے الاٹ ہونے کے بعد شاید ہی کوئی محکمہ بچے گا ، اس کے باوجود اگر وزیر بنانا پڑیں محکموں کے ٹوٹے چلائے جا سکتے ہیں ، مثال کے طور پر محکمہ زراعت کو تین ٹوٹوں میں تقسیم کر کے ایک کو وزیر برائے م±ونجی یعنی چاول ایک کو وزیر برائے گندم اور ایک کو وزیر برائے مکئی و گنا وغیرہ بنا دیا جائے ، اسی طرح خارجہ امور کے بھی تین ٹوٹے کر کے ایک ر±کن قومی اسمبلی کو وزیر خارجہ برائے مڈل ایسٹ ، دوسرے کو وزیرخارجہ برائے یورپ برطانیہ و آئرلینڈ ، تیسرے کو امریکہ کینیڈا اور چوتھے کو آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ اور انڈونیشا وغیرہ کا وزیر بنا دیا جائے ، البتہ دفاع کا ایک ہی وزیر ٹھیک ہے کیونکہ ا±س نے صرف اپنا دفاع کرنا ہوتا ہے۔
وفاقی کابینہ میں اضافی بھرتی
09:22 PM, 7 Mar, 2025