(گزشتہ سے پیوستہ)
وادی محسر کے سامنے سے گزرنے کے بعد ہماری بس منیٰ کیطرف رواں دواں تھی کہ گائیڈ صاحب نے بآوازِ بلند متوجہ کیا کہ دائیں طرف دیکھتے رہیے ابھی نہر زبیدہ کے آثار یا کچھ بچے کھچے حصے نظر آئیں گے۔ نہر زبیدہ کا نام سن کر مجھے پانچویں عباسی خلیفہ ہارون الرشید اور اس کی ملکہ زبیدہ جو اُس کے چچا جعفر بن منصور کی بیٹی تھی کے بارے میں پڑھی ہوئی کچھ باتیں یاد آ گئیں۔ ہارون الرشید 786 ءسے 808 ءتک تختِ خلافت پر متمکن رہے ۔ یہ عباسی خلافت کا سنہری دور تھا حکومتی خزانہ بھرا ہوا تھا ۔ ملکہ زبیدہ جو بڑی سخی اور فراخ دل تھیں رعایا کے بھلائی کے کاموں پر دل کھول کر خرچ کرتی تھیں۔ ایک بار وہ حج کے لیے گئیں تو مکہ کے لوگوں اور حاجیوں کے لیے پانی قلت کے بارے میں انہیں پتہ چلا ۔ اس پر انہوں نے حکومتی عمال کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ اس کا کوئی مستقل حل نکالیں۔ ماہر انجینئر وغیرہ سر جوڑ کر بیٹھے اور انہوں نے مکہ مکرمہ سے 35 کلو میٹر شمال مشرق میں وادی حنین میں ”جبال طاد“ کے مقام پر پانی کے چشموں سے نہر نکالنے اور مکہ کی سمت میں آگے وادی نعمان میں موجود پانی کے ذخائر کو اس میں شامل کر کے اسے مزدلفہ اور منیٰ سے گزارتے ہوئے مکہ مکرمہ تک پہنچانے کا منصوبہ پیش کیا۔ ساتھ ہی ملکہ کو بتایا کہ اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں سخت مشکلات اور رکاوٹیں ہو نگی کہ نہر گزارنے کے لیے پہاڑوں کو کئی جگہ پر کاٹنا ہی نہیں پڑے گا بلکہ اُونچی نیچی جگہوں میں سے اس کو گزارنا بھی بہت مشکل ہو گا اور اس پر کثیر سرمایہ بھی خرچ ہو گا۔ ملکہ زبیدہ جنہیں مکہ کے لوگوں سے بڑا لگاﺅ تھا اور اُن کی بڑی قدر کرتی تھیں اور انہیں حاجیوں کی تکالیف کا بھی احساس تھا نے جواب دیا کہ اس منصوبے کو ہر صورت میں پورا کیا جائے اور اگر نہر کی کھدائی کے لیے کدال کی ایک ضرب کا ایک دینار بھی دینا پڑے تووہ اس کے لیے تیار ہیں۔ اس طرح تقریباً36 کلو میٹرطویل نہرزبیدہ کی تعمیر شروع ہوئی جو دس سال کے عرصے میں مکمل ہوئی اور اس پر 17 لاکھ دینار (سونے کے سکے) جن کی موجودہ مالیت تقریباً200 کروڑ روپے بنتی ہے خرچ ہوئے۔ اپنی تعمیر کے وقت سے لے کر اگلے تقریباً1200 سال کے دوران نہر زبیدہ سے مشاعر مقدسہ (عرفات، مزدلفہ، منیٰ) اورمکہ مکرمہ کو روزانہ 600 سے 800 کیوبک میٹر پانی ملتا رہا۔ پچھلی
صدی میں 1952ءسے یہ نہر بند ہے ۔
ہماری بس منیٰ کی طرف رواں دواں تھی اور دائیں طرف پتھریلی چٹانوں کے دامن میں پتھروں سے بنی ٹوٹی پھوٹی پختہ دیواروں جن کے اندر سے نہر کا پانی گزرتا تھا کی صورت میں نہر زبیدہ کے آثار موجود ہیںکو دیکھتے ہوئے ہم گزررہے تھے۔ بس کچھ آگے بڑھی تو فائبر گلاس سے بنے خیموں کی قطاریں نظر آنا شروع ہو گئیں۔ یہ خیمے جو حج کے دنوںمیں آباد ہوتے ہیں دور دور تک نظر آ رہے تھے ۔ ان جدید اور ائیر کنڈیشنڈ خیموں کے سامنے سے گزرتے ہوئے مجھے یادآ رہا تھا کہ 1983ءجب ہم حج پر آئے تھے تو اُس وقت منیٰ میں کپڑے کے خیمے لگائے جاتے اور عارضی واش رومز بنائے جاتے تھے۔ اُس دور میں منیٰ میں حاجیوں کے خیموں میں آگ لگنے کے واقعات بھی کئی بار ہوئے جن میں کافی جانی نقصان ہوتا رہا۔ مجھے یاد ہے کہ 1980ءمیں والدِ گرامی محترم لالہ جی حاجی ملک محمد خان مرحوم و مغفور حج پر گئے تھے تو اُس سال بھی منیٰ میں خیموں میں آگ لگی تھی جس میں کافی جانی نقصان ہوا تھا ۔ لالہ جی بتایا کرتے تھے کہ آگ ان کے خیمے والے احاطے تک پہنچ گئی تھی اور انہوں نے بڑی مشکل سے وہاں سے نکل کر اپنی جان بچائی تھی۔
میں سوچ رہا تھا کہ 1983ءمیں ہم حج پرگئے تھے تو منیٰ میں ہمارا قیام کبری الملک عبدالعزیز کے قریب تھا (کبری پُل / پُلی یا اُوور ہیڈ برج کو کہتے ہیں) یہاں منیٰ سے مکہ مکرمہ کی سڑک کے نیچے مزدلفہ سے منیٰ آنے والی کئی سڑکیں اکٹھی ہوتی ہیں ۔ مجھے ابھی تک وہ وقت نہیں بھولا کہ رات مزدلفہ میں گزارنے کے بعد دسویں ذوالحجہ کو صبح صبح ہی میں ، بھائی صاحب اور بے جی مرحومہ مغفورہ مزدلفہ سے منیٰ کے لیے چل پڑے تھے۔ ڈیڑھ دو گھنٹوں کے پیدل سفر کے بعد جب کبری الملک عبدالعزیز کے نیچے جہاں مزدلفہ والی سڑکیں باہم اکٹھی ہوتی ہیں پہنچے تو وہاں بہت رش تھا۔ بے جی مرحومہ و مغفورہ کے ہاتھ ہم دونوں بھائیوں نے تھام رکھے تھے پھر ایسا کچھ ہوا کہ اُن کے ہاتھ ہم سے چھوٹ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بے جی ہجوم میں کھو گئیں۔ ہم دونوں بھائیوں کا پریشانی سے برا حال تھا۔ ہم بے جی ، بے جی کہہ کر پکار رہے تھے ، چیخ رہے تھے کبھی اِدھر ہجوم میں دیکھتے ، کبھی اُدھر پندرہ سے بیس منٹ یا اس سے کچھ زیادہ وقت ہماری یہ کیفیت رہی۔ ہم دونوں بھائی دوبارہ اس جگہ پر اکٹھے ہوئے جہاں بے جی ہم سے بچھڑی تھیں تو سامنے بے جی کھڑی تھیں ۔ ہم بے جی ، بے جی کہہ کر اُن سے لپٹ گئے اور ہماری آنکھوں سے آنسوﺅں کی لڑیاں جاری تھیں۔
اکتالیس برس بعد منیٰ سے گزرتے ہوئے میرا دل چاہ رہا تھا کہ کاش ہماری بس کبری الملک عبدالعزیز کی طرف سے گزرے تو میں اس جگہ کو دیکھ سکوں جہاں یہ واقع پیش آیا تھا لیکن ایسا ہونا اب ممکن نہیں تھا۔ بس اپنے راستے پر رواں رہی اور ہمارے گائیڈ نے بائیں طرف اشارہ کرتے ہوئے جمرات (شیطان کو کنکریاں مارنے کی تین جگہیں جہاں ستون بنے ہوئے ہیں) کا اور مسجد خیف کا مختصر ذکر کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہمیں ذرا تیزی کرنا ہو گی کہ مسجد الحرام میں ظہر کی اذان میں کچھ ہی وقت رہ گیا ہے ۔ کچھ ہی دیر میں بس منیٰ کی حدود سے باہر نکل آئی اور ہمارے گائیڈ نے دائیں طرف بنی پُر وقار عمارات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مکہ مکرمہ کی یونیورسٹی ام القرا ءکے کیمپس ہیں ۔ یہاں سے آگے نکلے تو بس جبلِ نور کے دامن میں جا کر رُکی۔ جبلِ نور مکہ مکرمہ کی مشرقی سمت میں وہ مقدس پہاڑ ہے جس میں موجود غارِ حرا میں نبی پاک پر پہلی وحی نازل ہوئی تھی۔ نبی پاک بعثت (نبوت کا اعلان کرنے ) سے قبل غارِ حرا میں کئی کئی روز تک عبادت میں مصروف رہتے تھے ۔ آپ کی عمر مبارک 40 برس ہوئی ، رمضان کا مبارک مہینہ تھا کہ حضرتِ جبرائیل علیہ السلام آپ پر قرآن ِ مجید کی سورة علق کی پہلی 5 آیات کی وحی لے کر نازل ہوئے ۔ غارِ حرا پہاڑ(جبلِ نور )کی چوٹی پر نہیں بلکہ مغرب کی سمت میں کچھ نیچے ہے اور اس تک پہنچنا کافی مشکل ہے۔سُننے میں آیا ہے کہ اب اس تک کیبل موٹر کو پہنچایا جا رہا ہے۔ غارِ حرا کی تجلیات پوری طرح سمیٹی نہ جا سکیں کہ ہمارے گائیڈ کو اب آگے پہنچنے کی جلدی تھی کچھ دیر میں ہم مکہ مکرمہ کے قبرستان جنت المعلیٰ کے سامنے سے گزر رہے تھے ۔ جنت المعلیٰ وہ قبرستان ہے جہاں نبی پاک کے دو صاحبزادوں حضرت قاسم اور حضرت عبداللہ اور آپ کی زوجہ محترمہ اُم المومنین حضرت خدیجةالکبریٰ ؓکی قبروں کے ساتھ آپ کے والدِ گرامی حضرت عبداللہ ، دادا حضرت عبدالمطلب اور چچا حضرت ابو طالب کی بھی قبریں ہیں۔جنت المعلیٰ کے بعد اگلی زیارت مسجدِ جن کی تھی لیکن بس وہاں سے بھی بغیر رُکے گزر گئی ۔ آگے بڑھے اور بائیں طرف جبلِ بو قبیس کے سامنے سے گزرتے ہوئے بس نے شارع ابراہیم خلیل کا رُخ کیا اور کچھ دیر میں ہمیں وہاں پہنچا دیا۔میں اور اہلیہ محترمہ بس سے نیچے اُترے تو مسجد الحرام میں ظہر کی اذان ہو رہی تھی ۔ (جاری ہے)
زیاراتِ مکہ مکرمہ ....تذکرہ تمام !
09:20 PM, 7 Mar, 2025