جیت بھی زندگی ہے

09:18 PM, 7 Mar, 2025

اٹلی کے کسی ساحل پرطوفان آ گیا طوفان جب تھما تو ساحل پر بےشمار مچھلیاں پڑی تھیں یہ نیم مردہ مچھلیاں تھیں اور ساحل کی ریت پر پڑی بُری طرح تڑپ رہی تھیں اگلی صبح ایک بچہ ساحل پر پہنچا اور اس نے ایک ایک مچھلی اٹھا کر سمندر میں پھینکنا شروع کر دی وہ شام تک سمندر میں مچھلیاں پھینکتا رہا ایک اطالوی بوڑھا فلوٹنگ چیئر پر بیٹھ کر بچے کو دیکھ رہا تھا شام کو جب بچہ سستانے کے لیے رکا تو بوڑھا اٹھ کر اسکے پاس آیا اور اس نے پوچھا ”بیٹا آپ کیا کر رہے ہو“ بچے نے مسکرا کر بوڑھے کی طرف دیکھا اور شائستگی سے بولا ”میں مچھلیوں کو مرنے سے بچا رہا ہوں“ بوڑھے نے بچے کی بات سنی، ایک لمحے کے لیے کچھ سوچا اور اسکے بعد بولا ”ادھر ساحل کی طرف دیکھو“ بچے نے ساحل کی طرف دیکھا ساحل پر دور دور تک لاکھوں مچھلیاں تڑپ رہی تھیں، بوڑھے نے بچے کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اس کے بعد بولا ”بیٹا ساحل پر لاکھوں مچھلیاں پڑی ہیں، تم ان میں سے کتنی مچھلیوں کو بچا لو گئے، تمہاری اس کوشش سے کیا فرق پڑے گا“ بچے نے بابا جی بات سنی، قہقہہ لگایا وہ بھاگ کر ساحل پہ گیا، ریت پر جھکا، ایک مچھلی اٹھائی، بھاگتا ہوا پانی کے پاس گیا مچھلی کو احتیاط کے ساتھ پانی کے پاس رکھا اور بھاگتا ہوا بوڑھے کے پاس آیا اور مسکرا کر بولا ”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، ہو سکتا ہے میری اس کوشش سے واقعی کوئی فرق نہ پڑے لیکن میں نے کم از کم ایک مچھلی کی زندگی میں فرق تو پیدا کر دیا“ بچہ رکا اور دوبارہ بولا”یہ مچھلی جب پانی کے پاس اتری ہو گی اسکی ملاقات دوسری مچھلیوں سے ہوئی ہو گی تو اس نے ان سے کیا کہا ہو گا ہم انسانوں کے بارے میں غلط فہمی کا شکار تھیں ہم انہیں ظالم، قاتل، مفاد پرست اور وحشی سمجھتی تھیں لیکن یہ تو بہت ہمدرد، بے غرض اور مخلص ہیں“ وہ رکا اور پھر بولا ”میں نے انسان کے بارے میں سمندری مخلوق کے خیالات تبدیل کر دئیے اور یہ بھی ایک بہت بڑا فرق ہے“۔ بوڑھے نے بچے کی بات سن کر قہقہہ لگایا اور وہ بھی اس کے ساتھ مل کر مچھلیاں سمندر میں پھینکنے لگا۔ قارئین ایک واقعہ اور پڑھیے اور زندگیوں کو خود خوشحال بنانے کی کوشش کیجیے۔۔ مسیحا کی تلاش چھوڑ دیجیے۔ محنت، لگن، حوصلہ اور ایمانداری کو اپنا شعار بنائیے پھر دیکھیے آپ کی زندگی میں معاشی اور سماجی تبدیلیاں کیسے رونما ہوتی ہیں۔ 5 سال کی عمر میں اس کے والد کا انتقال ہو گیا، 16 سال کی عمر میں اس نے سکول چھوڑ دیا، 17 سال کی عمر تک اس نے چار ملازمتیں کھو دیں، 18 سال کی عمر میں اس نے شادی کر لی۔ 18 سے 22 سال کی عمر کے درمیان، وہ ایک ریلوے کنڈیکٹر رہا لیکن ناکام رہا۔۔۔
19 سال کی عمر میں وہ باپ بن گیا، 20 سال کی عمر میں اس کی بیوی نے اسے چھوڑ دیا اور بیٹی کو لے گئی۔ وہ فوج میں شامل ہوا لیکن نکال دیا گیا۔ اس نے قانون کی پڑھائی کے لیے درخواست دی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔ وہ ایک انشورنس سیلز مین بن گیا لیکن ایک بار پھر ناکام ہوا۔۔ وہ ایک چھوٹے سے کیفے میں ایک باورچی اور بیرا بن گیا۔ اس نے اپنی بیٹی کو اغوا کرنے کی ناکام کوشش کی لیکن آخر کار وہ اپنی بیوی اور بیٹی کو گھر واپس لانے میں کامیاب ہو گیا، 65 سال کی عمر میں اس کی سبکدوشی کے موقع پر حکومت کی طرف سے اسے صرف 105 ڈالر کا ایک چیک ملا۔ اسے لگا حکومت اس چیک کے ذریعے اسے ایک نا اہل انسان ثابت کرنا چاہتی ہے۔۔۔
اس نے خود کشی کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ اتنی بار ناکام ہوا تھا کہ اب وہ مزید زندگی گزارنے کے قابل نہیں تھا۔ وہ اپنی وصیت لکھنے ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا، لیکن وصیت لکھنے کے بجائے، اس نے یہ لکھا کہ زندگی میں اس نے کس کام میں مہارت حاصل کی۔ اس نے لکھا کہ وہ صرف ایک کام دوسروں کے مقابلے میں بہتر کر سکتا ہے اور وہ ہے کھانا پکانا۔۔۔ تو اس نے اپنے چیک کے عوض 87 ڈالر ادھار لیے اور کچھ چکن خریدا۔ ایک خاص مسالا استعمال کر کے اس نے چکن کو تل لیا اور کینٹکی میں اپنے پڑوسیوں کو فروخت کرنے کیلئے گھر سے نکل پڑا۔۔۔ یاد رکھیں 65 سال کی عمر میں وہ خود کشی کے لیے تیار تھا لیکن 88 سال کی عمر میں وہ یعنی کرنل سینڈرز، کینٹکی فرائیڈ چکن (KFC) سلطنت کا بانی اور ایک ارب پتی بزنس مین تھا۔ کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ انسان ناکام تب ہوتا ہے جب ہار مان لیتا ہے۔

مزیدخبریں