امریکہ اور امریکی صدور کی تاریخ بربریت اور مفاد پرستی سے اٹی پڑی ہے۔ آپ اسے ”عظیم ریاستہائے متحدہ امریکہ“ کی مفاداتی ریاستی پالیسی بھی کہہ سکتے ہیں۔ دنیا پر پہلا اور تاحال آخری ایٹم بم گرانے سے لے کر افغانستان، عراق، شام، الجزائر، لیبیا اور فلسطین سب بالواسطہ یا بلا واسطہ امریکہ کے زیر عتاب رہے۔ دو عالمگیر جنگوں کو نکال بھی دیں تو امریکی پالیسیوں کی وجہ سے زمین پر ہزاروں نہیں لاکھوں انسان لقمہ اجل بنے ہیں لیکن امریکہ تو ”عظیم“ ہے اور ابھی ”مزید عظیم“ بنانے کیلئے امریکی عوام نے ٹرمپ نامی شخص کو اپنا صدر چن لیا ہے جو ایک بار اپنے پہلے ٹنیور میں ناکامی کی وجہ سے ہار گئے تھے۔ جوبائیڈن کے بعد ٹرمپ کو دوبارہ موقع دینا یقینا امریکی عوام کا ہی اختیار تھا لیکن عالمی میڈیا سے ملنے والی اطلاعات اور ٹرمپ کے اپنے بیانات بتا رہے تھے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ اور ٹرمپ کے درمیان تعلقات انتہائی نا خوشگوار تھے جس کا اظہار ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد اہم ریاستی عہدوں سے لوگوں کو برخاست کرنے یا ہٹانے سے بھی ہوا۔ سُپر پاور دنیا میں کوئی بھی ہو اُسے سُپر پاور ہونے کا زعم لازمی ہوتا ہے۔ سو ٹرمپ جو اپنی اسٹیبلشمنٹ سے لڑ کر یہاں تک پہنچا ہے اُس کو تو یہ زعم دوسرے صدور کی نسبت کہیں زیادہ ہو گا۔
دنیا بھر کا میڈیا اس وقت یوکرائنی صدر کی ٹرمپ سے ہونے والی انتہائی ناخوشگوار ملاقات، دونوں صدور کی تلخ کلامی اور امریکی میزبانی کو موضوع بنائے ہوئے ہے۔ زیلینسکی کو امریکی صدر نے صرف تھپڑ نہیں مارا ورنہ زبان سے جو کچھ کسی عام آدمی کو کہا جا سکتا تھا وہ سب امریکی صدر اور نائب صدر نے کہنے میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا۔ یوکرائن اور روس کی جنگ کو سمجھنے کیلئے اِس کے ماضی میں جھانکنا ہو گا تاکہ اس مسئلے کو سمجھا جا سکے۔ 1989ءمیں گوربا چوف نے جرمنی کو متحد کرانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔ اُس وقت یہ طے ہوا تھا کہ مشرقی یونین کو نہ تو نیٹو میں لیا جائے گا اور نہ ہی وارسا پیکٹ میں لایا جائے گا۔ جرمنی کے متحد ہونے کے بعد 1994ءمیں نیٹو ایکسٹینشن شروع ہوئی تو روس کا واضح موقف تھا کہ پولینڈ، چیک، سلواک اور یوکرائن ہمارے بارڈرز پر ہیں اور ہمارا اُن سے جھگڑ ا بھی چلا رہا ہے کیوں کہ روسی زبان بولنے والے آزادی مانگ رہے تھے لیکن امریکہ اور یورپی یونین نے یوکرائن کو بیک کیا اور 12 جون 2020ءکو یوکرائن کو نیٹو میں شامل کر لیا گیا جس میں امریکہ اور سارے یورپ کا بیک اپ اُسے حاصل تھا اور یہی بات یوکرائن اور روس کے درمیان جنگ کی فوری وجہ بنی اور ایک خونریز جنگ میں تبدیل ہو گئی جسے امریکہ اور یورپی ممالک مکمل حمایت حاصل تھی لیکن یہ کھیل تماشے جوبائیڈن کے دور حکومت میں تو ہوتے رہے لیکن ٹرمپ نے اپنی الیکشن مہم میں نو مور وار کا نعرہ لگا کر امریکیوں سے ووٹ لیا جس کے بعد اب اُس کی ذمہ داری اُس جنگ کو روکنا تھا جو ٹرمپ سے پہلے امریکی صدر کے آشیر باد سے شروع ہوئی تھی۔ کسی نے سچ کہا ہے ”آپ کسی کو بندوق اپنی مرضی سے دے سکتے ہیں لیکن اُسے واپس کرنا بندوق لینے والے کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے“۔ یہی سب کچھ دنیا نے ٹرمپ اور زیلنسکی کی ملاقات میں دیکھا۔ امریکی صدر نے تمام سفارتی آداب بالائے طاق رکھتے ہوئے یوکرائنی صدر کے ساتھ وہ سلوک کیا جو دنیا نے اس سے پہلے کسی ریاستی سربراہ کے ساتھ کسی میزبان حکمران کو کرتے نہیں دیکھا تھا۔ اُس کی کوریج کیلئے میڈیا کو خصوصی طور پر بلایا گیا تاکہ ہر ایکشن براہ راست دنیا بھر کے حکمرانوں اور عوام تک پہنچے کہ امریکہ جب کسی کو بے عزت کرتا ہے تو کیسے بیچ چوراہے میں لا کر بھی کر سکتا ہے۔ جذباتی ٹرمپ روس سے رسم و راہ بڑھانے کے لیے اس حد تک آگے چلا گیا کہ اُس نے 190 ملین ڈالر کو بھی 350 ملین ڈالر بنا دیا۔ وسائل کے حوالے سے یوکرائن بہت امیر ملک ہے لیکن جب وسائل ابھی زمین پر ہوں اور آسمانی آفتیں ٹوٹ پڑیں تو پھر قوموں اور اُس کے حکمرانوں کا وہی حال ہوتا ہے جو زیلنسکی کے ساتھ ہوا۔ اُسے تیسری عالمگیر جنگ کے آغاز کا خطرہ بتانے کے علاوہ اُس کے لباس پر اعتراض کیا گیا۔ یوکرائنی صدر کو بتایا گیا کہ آپ امریکی اسلحہ کے بغیر ایک ہفتہ جنگ نہیں لڑ سکتے تو جواب میں زیلنسکی نے کہا تین دن نہیں لڑ سکتے۔ امریکہ اپنے عوام کے پیسے عوام پر خرچ کرنا چاہتا ہے۔ جنگوں اور دوسرے پروجیکٹ پر ڈالر لگانا بند کرنے کا خواہشمند ہے سو امریکہ نے یوکرائن کو سبز جھنڈ ی دکھا دی ہے لیکن یورپی ریاستیں یوکرائن کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ روس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کیلئے ٹرمپ نے سارے یورپ کو بھی یہ پیغام دے دیا ہے کہ اگر ہم یوکرائن کے ساتھ نہیں تو جو اُس کے ساتھ ہے وہ ہمارے ساتھ نہیں، تصور ہو گا۔ ٹرمپ اپنے امیر لوگوں کو ریلیف دینا چاہتا ہے جبکہ برطانیہ میں امیروں پر ٹیکس لگانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اس معاشی صورت حال میں کون کس کے ساتھ کتنی دیر چلتا ہے یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا۔ امریکہ کسی بھی قیمت پر ٹرمپ کی قیادت میں روس سے تعلق قائم کر کے چین کے ساتھ معاملات سیدھا کرنے کا خواہشمند ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں جتنا اُسے مسٹر ٹرمپ سمجھ رہے ہیں۔ جدید دنیا میں اس وقت چین کی عسکری شکل روس اور روس کا معاشی چہرہ چین بن چکا ہے سو کسی جی تھری کا بن کر دنیا پر حکومت کرنے کا کوئی موقع بطاہر نظر نہیں آ رہا لیکن ٹرمپ امریکہ کے روس مخالف بیانیے کو دفن کر کے امریکی اسٹیبلشمنٹ کی بلیک میلنگ ختم کرنے کا خواہشمند ہے جو اتنا آسان نہیں جتنا مسٹر ٹرمپ نے سمجھ لیا ہے۔ دوسری طرف روس خود جنگ عظیم دوم کا امریکہ کے ہاتھوں زخم خوردہ ہے اور چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کے باعث امریکی صدر کو اپنے سونے کے ذخائر دیکھنے کیلئے ایلون مسک کو بھیجنا پڑ گیا ہے۔ اوول آفس کی میٹنگ
دیکھ کر مجھے عمران نیاز ی کا دورہ امریکہ یاد آ گیا جس کے بعد بھارت نے 5 اگست 2019ءکو اپنی آئینی شقیں ختم کر کے کشمیر کو ریاست ہندوستان میں شامل کر لیا تھا۔ میں یہی سوچ رہا تھا کہ اگر دنیا بھر کے کیمروں کے سامنے یہ سب کچھ یوکرائنی صدر کے ساتھ ہو سکتا ہے تو بند کمرے میں عمران نیازی کے ساتھ کیا ہوا ہو گا کہ اُس نے کشمیر کے بھارت میںضم ہونے کے بعد اپنے امریکی دورے کو ”ورلڈ کپ جیتنے“ سے بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔ ممکن ہے یوکرائن کا جلد ہی سیز فائر ہو جائے کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ امریکہ کی اتنی کھلی مخالفت کے بعد کوئی یورپی ملک یوکرائن کی مدد کرنے کا رسک لے۔ قابض علاقوں پر روس کا قبضہ رہے گا۔ حقیقت تو یہی ہے جو روس کو اپنے لیے کرنے میں نہ جانے کتنی دیر لگانا تھی ٹرمپ نے منٹوں میں کر دیا لیکن کیا ٹرمپ کو اس کے بدلے میں وہ سب کچھ مل سکے گا جس امید پر اُس نے یہ سب کچھ کیا ہے؟ تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ اپنی موت کے پروانے پر کبھی دستخط نہیں کرے گی کہ سپر پاور کے سامنے مخالف قوت کھڑی نہ ہو تو وہ اپنا وجود کھو دیتی ہے۔
روسی دوستی امریکی اسٹیبلشمنٹ کو قابل قبول ہو گی؟
09:16 PM, 7 Mar, 2025