زندگی قدرت کا دیا ایک انمول تحفہ ہے، جسے سنوارنے اور نکھارنے کی ذمہ داری انسان پر ہے، بعض لوگ اپنی نادانی، لاعلمی، کمزوری یا وقتی تسکین کی جستجو میں ایسے راستے پر چل نکلتے ہیں جو بالآخر تباہی، ذلت اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ پاکستان کی گلیوں، بازاروں اور درسگاہوں میں ہر روز بے شمار کہانیاں جنم لیتی ہیں، کچھ کامیابی کی نوید سناتی ہیں، کچھ محبت اور قربانی کے جذبات جگاتی ہیں اور کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو سسک سسک کر دم توڑ دیتی ہیں۔ وہ کہانیاں جو منشیات کی دھند کے پار ہی کہیں کھو جاتی ہیں۔ وہ چمکتی آنکھیں جو کبھی مستقبل کے سنہرے خواب سجاتی تھیں آج ان خوابوں کی راکھ میں اپنا وجود تلاش کر رہی ہیں۔ نشہ اب محض ایک ذاتی لت نہیں رہا بلکہ یہ ایک اجتماعی المیہ بن چکا ہے، جو ہماری نسلوں کو دیمک کی مانند چاٹ رہا ہے۔ کبھی یہ زہر ویران گلیوں اور تاریک گوشوں کی داستان سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ پوش علاقوں، تعلیمی اداروں اور جدید طرزِ زندگی کے دلکش پردے کے پیچھے سرایت کر چکا ہے۔ منشیات صرف ایک زہر نہیں بلکہ ایک ناسور ہے جوآزادی اور سکون کا فریب دے کر دھیرے دھیرے جسم، ذہن، خاندان اور معاشرے کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے، لیکن اگر یہی ہاتھ زنجیروں میں جکڑ دئیے جائیں تو ترقی کا خواب محض ایک سراب بن کر رہ جائے گا۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 70 لاکھ افراد کسی نا کسی قسم کی منشیات کے عادی ہیں، جن میں 80 نوجوان شامل ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے منشیات اور جرائم سے متعلق (UNODC) ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا میں ہیروئن کے سب سے زیادہ صارفین میں شامل ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے آپﷺ کا ارشاد مروی ہے کہ ’جس شے کی زیادہ مقدار نشہ کا باعث ہو، اس کی کم مقدار بھی حرام ہے‘۔ منشیات نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں ایک وبا کا روپ اختیار کر لیا ہے جو ہر طلوع ہوتے سورج کے ساتھ بس تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً سات سو سے زائد افراد منشیات کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
ہیروئن، آئس، چرس اور دیگر نشہ آور اشیاءکھلے عام دستیاب ہیں اور قانون نافد کرنے والے ادارے یا تو بے بس ہیں یا اس کاروبار میں ملوث عناصر کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ منشیات کے سوداگر یہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ طاقتور ہوتے جا رہے ہیں، اور معاشرتی بربادی ان کے لیے محض کاروبار بن چکی ہے۔ منشیات ایک ایسا زہر ہے جو نہ صرف فرد کی جسمانی و ذہنی صحت کو تباہ کرتا ہے بلکہ معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کرتا ہے۔ یہ ایک خاموش طوفان ہے جو آہستہ آہستہ ہمارے گھروں، تعلیمی اداروں اور سماجی ڈھانچے کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ والدین کی آنکھوں کے خواب چھین لیتا ہے، بہن بھائیوں کی امیدوں کو توڑ دیتا ہے اور گھر کے آنگن میں خوشیوں کی جگہ ماتم بچھا دیتا ہے، جو راستہ ابتدا میں لطف و راحت کا فریب دیتا ہے وہی آخر کار بے بسی اور پچھتاوے میں بدل جاتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں تمام نشہ آور اشیاءکو ممنوعہ قرار دے کر انسانی شرف و قدر کا وقار برقرار رکھنے کی بہترین تدبیر کی گئی۔ شومئی قسمت کے ہمارے معاشرے میں نشہ آور اشیاءکی لت میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں کمی کے بجائے دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے، کئی گھروں کے چراغ ان اندھیری راہوں کے مسافر بنتے ہوئے گل ہو رہے ہیں۔ نفسیاتی مسائل کے ساتھ منشیات اور نشہ آور ادویات کا تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان کسی طور بھی سنگین خطرات سے خالی نہیں۔ سماجی دباﺅ، معاشی عدم استحکام، تناﺅ اور منشیات تک آسان رسائی سب ہی اس بڑھتے ہوئے مسئلے میں معاون ہیں۔ نشہ خمارِ زیست یعنی سوئی ہوئی زندگی ہے اور ایسی زندگی کا دینِ اسلام میں کوئی مقام موجود نہیں ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: اے ایمان والو! شراب، جوا، بتوں کے لیے چڑھاوے اور پانسے(یہ سب) نا پاک اور شیطانی کام ہیں، پس تم ان سے بچو تا کہ کامیاب ہو جاﺅ۔ (سورة المائدہ)۔ اس مسئلہ کی سنگینی سخت اور اس کے اثرات بہت دور رس ہیں، جو ملک کے معاشی استحکام، سماجی ہم آہنگی اور صحت عامہ کو شدید متاثر کر رہے ہیں منشیات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک فعال اور ہمدردانہ نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ نشہ آور ادویات کے استعمال نے وقت کے ساتھ پاکستانی معاشرے میں گہرائی تک رسائی حاصل کر لی ہے، جو شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں طور پر پھیل گئی ہے۔ کراچی کی سڑکوں سے لے کر خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں تک منشیات کا استعمال ہو رہا ہے، جو ہر عمر، جنس اور سماجی طبقے تک پھیلا ہوا ہے۔
منشیات کا سب سے بڑا فریب یہی ہے کہ یہ ابتدا میں چند لمحوں کے لیے دنیا کے دکھوں سے فرار، راحت، خوشی اور ذہنی سکون کا احساس دلاتی ہے، مگر یہ سکون سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ نشہ صرف چند لمحوں کا سرور نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی زنجیر ہے جو دھیرے دھیرے انسان کی زندگی، عزت اور مستقبل کو جکڑ لیتی ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا ہو گا کہ منشیات صرف انفرادی مسئلہ نہیں، بلکہ قومی بحران ہے۔ آج کہیں کوئی ماں اپنے نشے میں مبتلا بیٹے کے لیے راتوں کو جاگ کر دعا کر رہی ہے، کہیں کوئی بہن اپنے بھائی کی واپسی کے انتظار میں دروازے پر نظریں جمائے بیٹھی ہے اور کہیں کوئی باپ اپنے بگڑے ہوئے بیٹے کی تصویر ہاتھ میں لیے سوچ رہا ہے کہ آخر کہاں غلطی ہوئی۔ مگر اب بھی وقت ہے، یہ کہانی تبدیل ہو سکتی ہے، اس المیے کو روکا جا سکتا ہے۔ ہر زہر کا تریاق ممکن ہے، ہر اندھیرے کو روشنی میں بدلا جا سکتا ہے، ضرورت صرف ہمت، شعور اورمضبوط ارادے کی ہے۔ منشیات کے خلاف جنگ صرف حکومت اور اداروں کی جنگ نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی جنگ ہے جو مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ دنیا میں بے شمار لوگ نشے کی لت سے نجات پا کر نئی زندگی کا آغاز کر چکے ہیں۔ انہیں سہارا ملا، حوصلہ ملا اور سب سے بڑھ کر دوسرا موقع ملا ہمیں بھی اپنے معاشرے میں دوسرا موقع دینے کا کلچر پیدا کرنا ہو گا۔ ہر بچایا گیا نوجوان، ہر بحال ہونے والا شخص اور ہر بیدار ہونے والا ذہن یہ بات ثابت کرتا ہے کہ امید ابھی باقی ہے۔
معاشرتی سرطان
09:07 PM, 7 Mar, 2025