امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت سنبھالتے ہی دھماکہ خیز فیصلے کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ آئے روز وہ کوئی نہ کوئی ایسا اقدام یا حکم صادر کر دیتے ہیں جس سے دنیا بھر میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ ٹرمپ نے آغاز ہی بیرونی دنیا کو دی جانے والی امداد پر پابندی عائد کر کے کیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اب آنکھیں بند کر کے امداد نہیں دے گا۔ کسی کو کچھ نہیں ملے گا جب تک کہ اس کے بدلے امریکی عوام کو فائدہ نہ پہنچے۔ اسی سلسلے میں یو ایس ایڈ کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، تاہم امریکی جج نے ملازمین کی درخواست پر یو ایس ایڈ کو مکمل طور پر بند کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ نیویارک سٹی کا منہٹن میں واقع پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل کا 220 ملین ڈالر کا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ یہ ہوٹل نیویارک سٹی نے 3 سالہ معاہدہ کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کو ٹھہرانے کیلئے لیا تھا۔ ٹرمپ کے قریبی ساتھی ایلون مسک اور انڈین نزاد مشیر نے ماضی میں اس ڈیل پر کافی سخت تنقید کی تھی۔ اب ٹرمپ نے جنگ زدہ یورپی ملک یوکرین کی مالی حمایت سے بھی ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی کا وعدہ بھی کیا تھا۔ ٹرمپ کے انداز حکمرانی سے یورپ میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ٹرمپ کے اقدامات اور باڈی لینگوئج نے دنیا کے دیگر خطوں کے ساتھ ساتھ یورپ کو بھی پیغام دے دیا ہے کہ اب امریکا ان کو مشکل میں مدد کرنے نہیں آئے گا۔ یورپ بھی سر جوڑ کر بیٹھ گیا ہے کہ اب ان کو اپنی حفاظت خود کرنی چاہیے۔ اپنے دفاع کے لیے ان کو اپنے وسائل کو بروئے کار لانا چاہیے اور ملٹری پر زیادہ خرچ کرنا چاہیے۔ چند روز قبل ٹرمپ نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کو وائٹ ہاو¿س بلا کر جس طرح اس کی عزت افزائی کی ہے اس کے بعد یورپی ممالک کے کان یقینا کھڑے ہو گئے ہونگے۔ یورپ کو یقین آ چکا ہو گا کہ جیسا وہ سوچ رہے ہیں بات اس سے زیادہ آگے بڑھ چکی ہے۔ ٹرمپ اب مفت میں کسی کو بھی کچھ نہیں دے گا بلکہ امریکہ کی مدد کے طلبگاروں کو بدلے میں بہت کچھ دینا ہو گا۔ لہٰذا فوری طور پر یورپ اور یوکرین کی سلامتی کے پیش نظر یورپی سربراہ اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔ یوکرین پر فروری 2022 میں روس کے حملے سے لیکر اب تک مغربی ممالک نے 250 ارب ڈالر سے زیادہ کی فوجی، انسانی اور دیگر مالی امداد دی ہے۔ مگر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یوکرین مزید مدد کے بدلے نایاب دھاتوں کی فراہمی کی ضمانت دے۔ تاہم زیلنسکی ایسا حکم ماننے سے گریزاں ہیں، جس کی وجہ سے ان کو وائٹ ہاو¿س میں ڈانٹ ڈپٹ کھانا پڑی اور ان کو رسوا
کر کے وہاں سے نکال دیا گیا۔ ٹرمپ نے جس طرح سفارتی قدروں کا سرعام قتل کیا اس پر بعد میں بات کرتے ہیں پہلے ٹرمپ کے اس دعوے کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا واقعی امریکا نے 350 ارب ڈالر یوکرین کی مدد میں خرچ کر ڈالے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ امریکہ یوکرین کی فوجی امداد کا سب سے بڑا ذریعہ یا ڈونر رہا ہے جس میں ہتھیار، ساز و سامان اور مالی مدد شامل ہے۔ یوکرین روس کے خلاف امریکی ساختہ ATACMS میزائل استعمال کر رہا ہے جن کی رینج تقریباً 300 کلو میٹر ہے۔ جرمن تھنک ٹینک کیل انسٹی ٹیوٹ بہت پرانا اور اچھی ساکھ والا ادارہ ہے۔ یہ روس یوکرین جنگ کو پہلے دن سے بہت قریب سے دیکھ رہا ہے۔ اس کی مرتب کردہ رپورٹ کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 2022 کے آغاز سے 2024 کے اختتام تک امریکا نے 69 بلین ڈالر کی فوجی امداد دی۔ یورپی ممالک میں جرمنی سہرفہرست ہے جس نے 13 بلین ڈالر کی فوجی امداد دی۔ مزید برآں یوکے نے 10 ارب ڈالر، ڈنمارک نے 8.1 ارب ڈالر، نیدرلینڈ نے 6 ارب ڈالر، سویڈن نے 5 ارب ڈالر، پولینڈ اور فرانس نے 3 ، 3 ارب ڈالر کی امداد دی۔ اب امریکا کی جانب سے دی گئی ساری فوجی اور انسانی مالی امداد کو اکٹھا کیا جائے تو یہ 120 ارب ڈالر بنتی ہے، جو ٹرمپ کے دعوے سے یکسر برعکس ہے۔ فرانسیسی صدر میکرون نے حال ہی میں ٹرمپ سے ملاقات میں ان کے دعوے کو جھٹلاتے ہو ئے کہا ہے کہ وہ جو دعویٰ کر رہے ہیں وہ درست نہیں۔ دراصل ٹرمپ کی نظریں یوکرین کی انتہائی قیمتی دھاتوں پر ہیں جس کی امریکہ کو اپنی طیارہ سازی، ٹیک انڈسٹری میں ضرورت رہتی ہے۔ یہ 350 ارب ڈالر کی امداد کا دعویٰ اس چکر میں کیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی امداد کے بدلے یوکرین کی نایاب معدنیات کے وسائل تک رسائی ٹرمپ کے اہم مشن میں شامل ہے۔ پہلے تو زیلنسکی اس معاہدے سے کترا رہے تھے کیونکہ وہ اب کوئی ایسا سودا نہیں کرنا چاہتے تھے کہ جس سے آنے والی نسلیں مقروض رہیں۔ لہٰذا امریکا کے ساتھ معدنیات کا معاہدہ کا فیصلہ کرنا زیلنسکی کے لیے آسان نہ تھا، مگر جیسا کہ ٹرمپ نے یوکرینی صدر سے کہا کہ تمہارے پاس چوائس نہیں ہے اور تم صرف امریکا کے رحم و کرم پر ہو، تو ایسی صورتحال میں دباو¿ کا شکار زیلنسکی نے معاہدے کی حامی بھی بھر لی تھی، مگر ٹرمپ اور ڈی جے وینس کے ہاتھوں بےعزت ہونے کے بعد تاحال معاہدہ نہیں ہو سکا۔ جدید دور میں جس طرح سے ٹرمپ نے سفارتی پروٹوکولز اور اقدار کا جنازہ نکالا ہے ایسا امریکی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ ٹرمپ نے اپنے مہمان زیلنسکی کے ساتھ جو بدترین سلوک کیا ہے اس پر امریکا میں بھی ٹرمپ تنقید کی زد میں ہیں۔ پہلے زیلنسکی کے لباس پر طنز کیا گیا اور پھر کیمروں کے سامنے زیلنسکی کی دھلائی کر دی گئی۔ زیلنسکی پر الزام لگایا گیا کہ وہ تیسری عالمی جنگ چاہتے ہیں۔ امریکی تاریخ میں پہلی بار کسی سٹیٹ کے سربراہ کے ساتھ اتنا بُرا سلوک ہوا ہے۔ امریکی صدر و نائب صدر کی اس ملاقات میں کہیں پر بھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ دو مہذب قوموں کے سربراہ آپس میں مل رہے ہیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ہالی وڈ کی فلم کا کوئی منظر ہے۔ اس واقعے کے بعد یورپ نے بھی یوکرینی صدر کی حمایت میں اپنا ردعمل دیا ہے اور بتایا ہے کہ زیلنسکی اکیلا نہیں ہے۔ آج یوکرینی صدر کو اندازہ ہو رہا ہو گا کہ اگر وہ روس کی بات مان کر نیٹو میں شامل ہونے کی ضد چھوڑ دیتے تو نہ صرف وہ اپنے ملک کو جنگ کی آگ سے بچا لیتے بلکہ ان کو وائٹ ہاو¿س یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ زیلنسکی کی ضد سے لاکھوں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا۔ 350 ارب ڈالر سے زائد کی نایاب معدنیات کے حامل اس خوبصورت یوکرین کا نقشہ ہی بدل گیا ہے۔ 18 فیصد یوکرینی علاقے پر روس قبضہ کر چکا ہے۔ ٹرمپ نے بھی زیلنسکی کے ساتھ ٹرمپ کارڈ کھیلا ہے تاکہ امریکہ قیمتی معدنیات پر قابض ہو سکے۔ بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار پر براجمان ٹرمپ خود کو پہلے سے کہیں مضبوط اور خود اعتماد سمجھتے ہیں۔ عوامی طاقت کے خمار میں ٹرمپ جہاں امریکا کے لیے مشکلات پیدا کرنے والے ہیں وہیں دنیا بھی ان کے اس خمار کی قیمت چکائے گی۔ امریکی صدر کا انداز حکمرانی ایک نئے ورلڈ آرڈر کی جانب اشارہ ہے۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ یہ وہی زیلنسکی ہیں جنہیں سی آئی اے پراجیکٹ کے تحت اقتدار میں لایا گیا۔ ڈیموکریٹس پارٹی کی بائیڈن حکومت اس کی پشت پر کھڑی تھی۔ اس ساری ایکسر سائز کا مقصد یوکرین کو نیٹو میں شامل کرا کر روس کی سرحد تک نیٹو کے دائرہ کار کو پھیلانا تھا۔ پیوٹن نے زیلنسکی کو وارننگ بھی دی تھی کہ روس کو یہ کسی بھی قیمت پر قابل قبول نہیں۔ روس نے واضح کر دیا تھا کہ اگر یوکرین نے نیٹو میں شامل ہونے کی کوشش کی تو وہ حملہ کر دے گا۔ اس وقت امریکہ و یورپ نے زیلنسکی کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ امریکی پشت پناہی پر بھروسہ کرتے ہوئے زیلنسکی نیٹو میں شمولیت کی کوششوں سے باز نہ آیا۔ آج اسی امریکہ کے صدارتی آفس میں زیلنسکی کو ذلت آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ زیلنسکی سے ہونے والے سلوک میں یقینا ان سمیت ایسے تمام ممالک کیلئے سبق ہے جو بغیر کچھ سوچے سمجھے ان بڑی طاقتوں کے مفادات کے کھیل کا بڑی خوشی سے حصہ بن جاتے ہیں جس کا نتیجہ بالآخر اپنے ہی ملک و قوم کی تباہی کی صورت میں ملتا ہے۔
ٹرمپ زیلنسکی ملاقات۔ دنیا کیلئے کیا سبق؟
09:06 PM, 7 Mar, 2025