مطلب کی ڈیل

09:05 PM, 7 Mar, 2025

یوکرین کبھی امریکہ کا پہلا عشق تھا، آج وہ اس کے خلاف کھڑا ہے۔ اسے ڈرا رہا ہے، دھمکا رہا ہے اور احسان جتلا رہا ہے کہ ہم نے تم پر اربوں ڈالر لٹا دیئے، ہماری مدد تمہارے ساتھ نہ ہوتی تو روس تمہیں تین روز میں ہڑپ کر چکا ہوتا چونکہ تمہاری مدد اور تمہاری جنگ میں ہمارے بہت خرچے ہو چکے ہیں لہٰذا تم اپنے معدنی ذخائر ہمارے ہاتھ اونے پونے فروخت کرو۔ یوکرین کی مدد کیلئے پورے یورپ کو ساتھ کھینچ لانے والا امریکہ آج یوکرین پر حملہ کرنے اور اس کے بیس فیصد حصے پر قبضہ کر لینے والے روس کے ساتھ کھڑا ہے۔ یوکرین نامی ہیروئن حیرت سے دونوں کو دیکھ رہی ہے اور سوچ رہی ہے۔ دونوں ہی ولن تھے ایک اس کی عزت لوٹنا چاہتا تھا دوسرے کی نظر اس کے اثاثوں پر تھی لیکن اس حقیقت کے آشکار ہونے کے باوجود اس نے خود سپردگی کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ دونوں کے سامنے تن کر کھڑا ہو گیا۔ اس کا طرزعمل دیکھ کر یورپ کے اہم ملکوں نے اس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے، یہاں سے یہ جنگ ایک نیا رخ اختیار کرے گی۔ یوکرین اور روس ازل سے متحارب نہیں ہیں۔ روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد امریکی خلائی مخلوق نے اپنی ضرورت کے مطابق ایک گھوڑا تلاش کیا، جس کا تعلق شوبز سے تھا۔ وہ سٹیج اور ٹی وی پر پرفارم کرتا تو قہقہے بکھر جاتے۔ عوام میں اس کی پذیرائی دیکھ کر امریکی خلائی مخلوق نے اس کی سرپرستی کرنے کا فیصلہ کیا۔ معاشرے میں اس کا تشخص ابھارا پھر اسے انتخابات کے لئے ہر طرح سے تیار کر کے میدان میں اتارا اور یوکرینی حکومت کا سربراہ بنا دیا۔ یوکرین کے پاس نیوکلیئر ہتھیار موجود تھے، اسے باور کرایا گیا کہ اسے اب ان ہتھیاروں کی ضرورت نہیں، اس کی حفاظت کیلئے امریکہ اور یورپ موجود ہیں۔ یوکرینی سربراہ حکومت ان کے جھانسے میں آگیا اور یہ ہتھیار تلف کرا دیئے گئے۔ اب اسے روس کے خلاف میدان جنگ گرم کرنے کیلئے تیار کیا گیا۔ امریکہ نے بذات خود اور اس کے کہنے پر یورپ نے اس کی مدد جاری رکھی۔ منصوبہ یہ تھا کہ امریکہ کو افغانستان میں جس طرح الجھایا گیا اسی طرح وہ روس کو یوکرین جنگ میں الجھا کر اپنے کئی مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ امریکہ کی خلائی مخلوق کا خیال تھا روسی بھی اتنے ہی احمق ہونگے جتنے امریکی تھے لیکن ایسا نہ ہوا روسی قیادت اور بالخصوص پیوٹن کو اس کھیل کی بروقت سمجھ آگئی۔ امریکہ نے اس پر نظر رکھنے کیلئے یو این فورسز اس کے سر پر لا کر جمع کیں تو اس نے صرف ایک وارننگ دی اس کے بعد اینٹ کا جواب پتھر سے دینا شروع کیا۔ امریکہ اور یورپ کی اینٹیں ختم ہونے لگیں۔ روس کے پتھروں کے انبار ختم نہ ہوئے۔ روس نے واضح کر دیا کولیشن فوجیں پیچھے نہ ہٹیں تووہ نیوکلیئر ہتھیار استعمال کر گزرے گا، اس کے ساتھ ہی نیوکلیئر میزائل ان ممالک کی طرف سیدھے کر دیئے گئے اور یورپ کو جانے والی گیس پائپ لائن آف کر دی جس سے یورپ اوندھے منہ آگرا، اس کو معیشت کے لالے پڑنے لگے، چیخ و پکار شروع ہو گئی۔ امریکہ یورپ اور یوکرین سب شکست سامنے دیکھ کر بوکھلا اٹھے۔ بائیڈن چلا گیا ، اس کی عزت بچ گئی، وہ ہوتا تو شکست اس کے گلے کا طوق ہوتی، ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کا کیا دھرا اس کے اکاﺅنٹ میں ڈالا اور اقتدار میں آنے سے قبل ہی یہ جنگ بند کرانے کا نعرہ لگا دیا یہاں تک تو دنیا میں خوب خوب واہ واہ ہوئی لیکن تاوان جنگ یوکرین سے طلب کرنے اور اس کے معدنی اثاثے اینٹھنے کی بات کھلی تو امریکہ کے اتحادی یورپی ملک اس کا ساتھ چھوڑ گئے۔ ٹرمپ نے ماضی میں جو کچھ پیوٹن کے بارے میں کہا اس نے جو کچھ زیلنسکی کیلئے کہا آج اسے یاد دلایا گیا تو اس نے حیرت سے مقابل کا منہ دیکھا اور کہا اچھا میں نے کبھی ایسا کہا تھا، مجھے یاد نہیں پڑتا۔ ٹرمپ نے طاقتور دشمن کو گلے لگا لیا ہے جبکہ کمزور دوست کو گلے سے اتار پھینکا ہے۔ کمزور ملکوں اور ان کے سربراہوں کیلئے اس طرزعمل میں ایک پیغام ہے ان ممالک کیلئے اور بالخصوص نیوکلیئر پاکستان اور اس کی قیادت کیلئے اہم اشارہ ہے کہ نیوکلیئر طاقت کی اہمیت کیا ہے۔ اگر آدھی دنیا ہماری حفاظت کی ذمہ داری قبول کر لے اور تمام دنیا کی دولت ہمارے قدموں میں ڈھیر کرنے کے بعد فرمائش کرے کہ اپنے نیوکلیائی ہتھیار ضائع کر دیں تو انہیں کرارا جواب دیا جائے لیکن یہ جواب وہی دے سکتا ہے جسے ہر دو ماہ بعد کشکول اٹھا کر عالمی دورے پر نہ نکلنا پڑے۔ بھکاریوں کی دنیا میں کوئی عزت کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ یہ جانتے تو سب ہیں مگر اس بات کا پاس کون رکھے گا اور کون نہیں رکھے گا۔ یہ بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے، اب تو کچھ بھی راز نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل برطانوی اور فرانس کے سربراہان مملکت سے جس انداز میں ملاقات کی وہ مختلف تھا، جس طرح زیلنسکی کی مدارت کی اسے بھی دنیا نے دیکھا۔ اوول آفس کی تاریخ میں یہ ہتک آمیز طرزعمل پہلی مرتبہ اختیار کیا گیا ہے جسے مہذب ملکوں میں ناپسند کیا گیا ہے۔ زیلنسکی کے ساتھ یہ بے عزتی پروگرام طے شدہ تھا، اسی لئے ٹرمپ نے اپنے نائب صدر جے ڈی وینس کو ساتھ بٹھایا۔ امریکی نائب صدر، برطانیہ فرانس جرمنی اور بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ملاقاتوں میں یوں ساتھ نہ بیٹھے نہ ہی انہوں نے مہمان پر بار بار حملہ آور ہونے کی کوشش کی، وہ چاہتے تھے کہ زیلنسکی کو گھائل کر کے اپنے باس ڈونلڈ ٹرمپ کے قدموں میں ڈال دیں۔ زیلنسکی کو پہلے دس منٹ میں نہیں بلکہ پہلے منٹ میں اندازہ ہو گیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے زیلنسکی کا استقبال کرتے ہوئے اس کے لباس پرطنز کیا پھر میڈیا کے سامنے ایک صحافی نے طے شدہ سوال پوچھا اور ایک مرتبہ پھر زیلنسکی کے لباس کا مذاق اڑایاجس پر زیلنسکی نے کہا وہ اور ان کا ملک حالت جنگ میں ہیں، جب یہ جنگ ختم ہو جائے گی تو میں یہ جنگی لباس اتار کر ایسا سوٹ پہنچ لوں گا جو شاید تمہارے سوٹ سے زیادہ اچھا زیادہ مہنگا اور عین ممکن ہے اس سے سستا ہو۔
میڈیا ٹاک کے بعد مذاکرات کا ہونے والا دور امریکی صدر کی ہدایت کے مطابق منسوخ کر کے یوکرینی صدر اور ان کے وفد کو پیغام دیا گیا کہ وہ جا سکتے ہیں۔ سفارتی آداب مہمان نوازی کی دھجیاں اڑاتے ہوئے انہیں ڈنر بھی نہیں دیا گیا۔
زیلنسکی ہنگامی طور پر اپنا دورہ ختم کر کے لندن پہنچ گئے ہیں جہاں اہم یورپی ممالک نے ان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ یوکرین اور زیلنسکی کا ساتھ دینا یورپ کی مجبوری ہے۔ ان کے اور روس کے درمیان صرف یوکرین ہی ہے جو ”بفرزون“ کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ روس اور امریکہ کے درمیان وسیع سمندر ہے جو امریکہ کو قدرتی دفاع مہیا کرتا ہے یوں امریکہ کو روس سے کوئی خطرہ نہیں۔ اگلے مرحلے میں ٹرمپ کی کوشش ہو گی کہ یورپی ممالک کو روس سے ڈرایا جائے اور مطلب کی ڈیل یورپ اور یوکرین دونوں سے حاصل کر لی جائے، یعنی سب کی جیبیں کاٹ کر اپنی خالی جیب بھر لی جائے۔

مزیدخبریں