اصلی فائنل کال، نیا 9 مئی منصوبہ، گرینڈ الائنس ناکام

09:04 PM, 7 Mar, 2025

کھیل زوروں پر ہے، پہلے ذکر چیمپینئز ٹرافی کا، ٹرافی کے لیے الٹے لٹک کر لپکنے والے ہمارے کھلاڑی اناڑی ثابت ہوئے، ناکام و نامراد گھر لوٹ آئے شادیوں نے بیڑا غرق کر دیا، سب آﺅٹ آف فارم بھارت سے خوفزدہ، نیوزی لینڈ سے مرعوب چیئرمین کی عزت داﺅ پر لگا دی، میزبان ملک کی سبکی ہوئی، کرکٹ کے بجائے اشتہارات میں ماڈلنگ پر توجہ، بیٹنگ، باﺅلنگ فیلڈنگ تینوں ناکام، کپتان بزدلوں کی طرح رو دئیے، خوفزدہ ٹیموں کا یہی حشر ہوتا ہے کھیل ختم کروڑوں روپے ہضم، اقتدار کا کھیل، اقتدار سے محرومی کا کھیل شروع ”جب تک رہے گا رسہ، رسہ کشی رہے گی کب تک رہے گا رسہ کسی کو معلوم نہیں“ نامی گرامی تجزیہ کار ٹامک ٹوئیاں مار کر گزارا کر رہے ہیں ”روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر“ ملک اسٹیبلشمنٹ کی آشیرواد اور حکومت کی شبانہ روز کوششوں کے باعث معاشی طور پر ترقی کی جانب گامزن، مہنگائی 28 فیصد سے کم ہو کر 2.4 فیصد رہ گئی۔ اثرات عوام تک نہیں پہنچے، پہنچ جاتے تو لوگ وزیر اعظم شہباز شریف کے ہاتھ پاﺅں چومتے خان کو بھول جاتے۔ مگر سیاسی عدم استحکام اور سیاسی بحرانوں نے بہت سی رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ حکومت مقتدرہ ون پیج تعلقات پر مطمئن، اقتدار سے محرومین کا تقریروں، بیانات اور ٹوئٹس پر گزارا، یو ٹیومرز (یو ٹیوبرز) قابو میں نہیں آ رہے۔ پیکا ایکٹ اب تک اپنا رنگ نہیں جما سکا، خان کے ایک شکست خوردہ مرید خاص مہر شرافت نے 25 فروری کو اپنی ٹوئٹ میں خان پر سختیوں کی دہلا دینے والی تصویر کشی کی (رضی دادا نے احمد فراز کے شعر کی تضمین کی۔ سنا ہے دن کو اسے مکھیاں ستاتی ہیں سنا ہے شب کو اسے مچھر آ کے کاٹتے ہیں) اس ٹوئٹ کو 3 لاکھ 38ہزار افراد نے پڑھا اور پھر کمنٹس کیے دو گھنٹے بعد ہی ایک اور ٹوئٹ میں مہر شرافت نے کہا میری انفارمیشن جھوٹ نکلی میں سب سے معافی مانگتا ہوں جھوٹوں پر اللہ کی لعنت (لعنتی کون ہوا) تردیدی بیان صرف 264 افراد نے پڑھا مہر شرافت کا مقصد پورا ہو گیا۔ کیا پیکا ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا؟ شنید ہے کہ خان عید کے بعد ایک اور لانگ مارچ کی کال دینے جا رہے ہیں، با خبر حلقے اس قسم کی خبریں بھی دے رہے ہیں کہ ایک اور 9 مئی کی پلاننگ کی جا رہی ہے۔ جلاﺅ گھیراﺅ سے ہی حضرت کا کلیجہ ٹھنڈا ہو گا۔ خان کی متلون مزاجی خود انہیں حکومت بلکہ پوری قوم کو چین نہیں لینے دیتی ”ہر لمحہ ہے مرشد کی نئی شان نئی آن“ صبح کے بیانیہ سے لگا معافی پر آمادہ ہو گئے شام کو بقائمی ہوش و حواس فرمایا مجھے گود سے اتار پھینکنے والے مجھ سے معافی مانگیں۔ گود سے اتارنے والے معافی کیوں مانگیں کیا خان کی حکومت کسی مارشل لائی حکم پر ختم کی گئی؟ آئین اور قانون کے تحفظ کے نعرے لگانے والے ”مریدین با صفا“ بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ خان اپنا اقتدار نہ سنبھال سکے ”معماروں“ کو اپنے تجربے کی ناکامی کا احساس ہوا تو انہوں نے بوجھ اتار پھینکا، کھونٹے سے بندھے ”گھوڑے“ بگٹٹ دوڑ پڑے اور ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور ہو گئی۔ اقتدار چھن جانے پر ان سے یکے بعد دیگرے جو غلطیاں ہوئیں ان کی وجہ سے اقتدار کی دیوی روٹھی، ذاتی منفعت کے جرائم نے جیل پہنچا دیا بقول صدر زرداری جیل ایک دو سال میں اپنے وجود کا احساس دلاتی ہے۔ تمام تر سہولتوں کے باوجود انہیں احساس ہو گیا کہ وہ کسی کے زلف گرہ گیر کے نہیں 190 ملین پاﺅنڈ کیس میں 14 سال کے لیے سزا یافتہ قیدی ہیں، وہ گھبرا گئے بے ہوش ہو کر گر پڑے علیمہ باجی نے کہا بے ہوش نہیں ہوئے گرنے کی تردید نہیں کی، افسوس کس قدر گرے ہیں کہ اپنی پارٹی قابو میں نہیں رہی، جیل میں آ کر گنڈا پور بھی آنکھیں دکھانے لگے۔ با خبر ذرائع کے مطابق استعفیٰ جیب سے نکال کر خان کے ہاتھ میں دیا بڑھک بھی لگائی۔ ”مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو مجھے تم کبھی بھی بھلا نہ سکو گے“ میں وزیر اعلیٰ نہ رہا تو کوئی کٹھ پتلی یا کسی اور کا وزیر اعلیٰ ہو گا۔ خان نے خاموشی سے دراز گیسو وزیر اعلیٰ کی باتیں سنیں ان کا استعفیٰ چپکے سے جیب میں رکھا ان کے جانے کے بعد انہیں پارٹی کے تمام امور سے فارغ کر دیا۔ خان مسائل کے بھنور میں پھنس گئے ہیں۔ محسنوں کو جن القابات سے نوازا اس کے بعد ان ہی سے امید وفا، ناں بابا ناں، عوام سے امیدیں لگائیں 37 جلسے 37 کالیں عوام کا سمندر سڑکوں پر نہ آ سکا۔ اسلام آباد پر حملے ناکام ہو گئے تو عید بعد گرینڈ الائنس کے تحت ملک گیر تحریک 
کی ہدایت کر دی، جیل سے باہر کی قیادت الائنس کو گرینڈ بنانے میں ناکام، ڈیڑھ جماعتی اتحاد نے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں کانفرنس کے نام پر جی بھر کر تقریریں کیں دوسرے دن پھر آ دھمکے ہوٹل سیل پایا تو دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوئے لابی میں جگہ ملی وہیں مورچہ سنبھال لیا۔ مولانا اپنی تین شرائط دے کر عمرہ کرنے چلے گئے۔ جے یو آئی کے وفد نے بطور مبصرین شرکت کی۔ پی ٹی آئی چند سو وکلائ، دو چار درجن کارکنوں اور ن لیگ سے نکلے یا نکالے گئے تین چار لیڈروں کو ساتھ لے کر محمود اچکزئی کے انتہا پسند ایجنڈے پر عمل کر کے سوائے ”پھینٹی“ کے کچھ حاصل نہ کر سکے گی۔ خان کو بخوبی اندازہ ہو گیا ہے کہ وہ اکیلے عوام کو سڑکوں پر نہیں لا سکتے اسی لیے انہوں نے گرینڈ الائنس کی تجویز دی مگر شومئی قسمت کوئی پارٹی بچی ہی نہیں ساری پارٹیاں طاقتور مقناطیس سے جڑ گئیں، جی ڈے اے اور سندھ کے قوم پرست بھی اسی دربار کے نیاز مند ہیں۔ محمود خان اچکزئی کی عقل بھی خان کی طرح 73 سال کی ہو گئی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں پی ٹی آئی کو الٹی پٹی پڑھائی کہ اسٹیبلشمنٹ سے سارے رابطے منقطع کر کے پارلیمنٹ سے استعفے دے کر سڑکوں پر نکل آﺅ، رابطوں کے لیے تو سارے پاپڑ بیلے جا رہے ہیں، بقول عارف علوی کنڈی اندر سے لگی ہوئی ہے۔ جہاں تک استعفوں کا تعلق ہے پی ٹی آئی والے دوبارہ بے روزگار ہونا پسند نہیں کریں گے دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت، اچکزئی ابھی تک رکن قومی اسمبلی ہیں ابھی ابھی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ ہوا ہے۔ پی ٹی آئی والوں کو نعرہ اور بائیکاٹ پر بھی 5 لاکھ 19 ہزار تنخواہ اور 5 کروڑ کی مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ ”کون جائے ذوق اب دلّی کی گلیاں چھوڑ کر“ گفتار کے غازی دھواں دھار تقریروں سے خان کا دل بہلا رہے ہیں یا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ مگر 9 مئی کے مقدمات میں سخت سزاﺅں کی بازگشت پارٹی میں فارورڈ بلاک اور کمپرومائز قیادت نے خان کے حوصلے پست کر دئیے ہیں ان کے کانوں میں سنسناہٹ ہونے لگی ہے (نامعلوم کرنل کی آوازیں آتی ہوں گی) کسی نے مبینہ طور پر لندن سے خبر سنائی کہ ولدیت کے حق سے محروم ٹیریان کی شادی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن ہایو کے خاندان میں ہو رہی ہے۔ خان نے گھبرا کر کان بند کر لیے ہر طرف سے مایوسی، طاقتوروں کے فیصلے یہی فائنل کال ہے اصلی تے وڈی کال، خان کی رہائی نہیں ہو گی۔ 26 ویں ترمیم ختم نہیں ہو گی، مڈ ٹرم الیکشن نہیں ہوں گے، کھیل ختم۔

مزیدخبریں