سکڑتی ہوئی مڈل کلاس تنقید کا شکار ؟

09:01 PM, 7 Mar, 2025

پاکستان میں مہنگائی کے مہیب سائے میں ہماری بچی کھچی مڈل کلاس کے لیے محدود بجٹ میں مینج کرنا بلاشبہ بہت مشکل ہو گیا ہے کیونکہ جب تک ہم اپنے وسائل بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں مہنگائی چار قدم آگے نکل چکی ہوتی ہے۔متوسط طبقے کے لیے غیر ضروری اخراجات تو ویسے بھی نہیں ہوتے،سیونگز تو بہت دور کی بات ہے اور ہمارے طبقے میں خواہشات چہ معنی ہیں صاحب۔ مگر مڈل کلاس ہمت والی ہے لڑتی خوب ہے کیونکہ اس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ مڈل کلاس پر تو اچانک ایمرجنسی اترتی ہے کسی کالے بادل یا وبال کی طرح اور سب کچھ اتھل پتھل ہو کر رہ جاتا ہے پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں ؟ وہ تو اللہ کا کرم ہو جائے تو ٹھیک ہے ورنہ خود داری کو رخصت کر کے خواری کو ٹالنے کی کوشش میں جت جاتے ہیں۔ مگر عزت نفس داو¿ پر لگانے کے وجہ سے جن رویوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے اسی کے پس منظر میں لوگ خود کشی بھی کرتے ہیں ، ڈاکے بھی ڈالتے ہیں مجھے تو جسم فروشی کا پس منظر بھی ذلت آمیز رویے کا ہی شاخسانہ لگتا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ احسان لینے کے باوجود ان کی محنت کرنے کی لگن کبھی بھی کم نہیں ہوتی۔ بس قصور انہیں اپنی عینک سے دیکھنے والی چھوٹی سوچ کا ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ مڈل کلاس جھوٹی اور دغا باز ہوتی ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ مڈل کلاس گھرانوں میں تعلیم اور ہنر دونوں ہی پائے جاتے ہیں۔
 معاشی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کی مڈل کلاس یا درمیانی طبقے کو معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی قوتِ خرید کی وجہ سے پیسہ گردش میں رہتا ہے۔ یہ لوگ صنعت کے پہیے کو بھی چلاتے ہیں۔اگر مڈل کلاس کا حجم بڑا ہو گا تو یہ ظاہر کرے گا کہ خطِ غربت سے نیچے رہنے والے لوگوں کی تعداد کم ہو رہی ہے یعنی وہ لوگ ’مڈل کلاس‘ میں داخل ہو رہے ہیں۔ماہرینِ اقتصادیات کے خیال میں ایسا سوچنا غلط نہیں ہو گا خاص طور پر اس وقت جب پاکستان میں مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے اور زر مبادلہ کے ذخائر کا حجم کبھی اوپر کبھی نیچے ہو رہا ہے۔پاکستان میں ’مڈل کلاس‘ سکڑ رہی ہے یعنی ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ساری تگ و دو کے باوجود مڈل کلاس گھرانوں کے لیے اپنا بھرم قائم رکھنا مشکل ہو گیا ہے جبکہ سوشل میڈیا کے " دانشوڑ" ان کے لیے کچھ اچھا لکھنے کی بجائے ان پر تنقید کرنے میں زیادہ وقت گزار رہے ہیں، کہ یہ طبقہ سکڑ تو رہا ہے مر کیوں نہیں جاتا اور دلچسپی کا پہلو یہ ہے کہ ان دانشوروں کی اکثریت خود اسی کلاس سے تعلق رکھتی ہے، آسمان سے نہیں اتری۔ بس مسئلہ ہے اشرافیہ سے تعلق کی آبیاری کا ہے اس لیے عام پر تنقید کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
 سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ایسی پوسٹ کی نفی کرنا ضروری ہے، جس میں حقیقی مستحق افراد کی بے بسی بھی بیان کی گئی ہو اور آگے چل کر ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہو۔ ہماری اوقات کسی کو ایک گلاس پانی پلانے کی بھی نہیں ہے کسی کی مدد کرنا تو بہت دور کی بات ہے، اوپر سے کمنٹ کرنے والے بھی ساری انسانی اقدار کو پس پشت ڈال دیتے ہیں کہ "باجی" "محترم" کی خوشنودی حاصل ہو جائے گی۔یاد رکھئیے کہ نیکی صرف ایک توفیق ہے عطا ہے جو اللہ تعالیٰ ہر کسی کو نہیں دیتے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو چن لیے گئے نیکی کرنے کے لیے۔ اس لیے کوشش کیا کریں کہ اگر آپ کے بس میں ہے تو جہاں تک ممکن ہے کر دیا کریں۔ توفیق سمیٹنے کی کوشش کریں۔برائی تو کہیں نہیں جاتی ہر وقت ہر لمحہ ساتھ چمٹی رہتی ہے نیکی تلاش کیا کریں اور لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے رہیں ناکہ انہیں روکنے کے لیے تاویلیں گھڑیں۔
قرآن مجید فرقان حمید "الحمد" سے "والناس" تک رحمت ،ہدایت ، نیکی اور کرم ہے۔ سورت عصر سماجی موضوعات کا احاطہ کرتی ہے بلکہ کئی سماجی مخالطوں کی نفی بھی کرتی ہے۔ نیکی کے حوالے سے واضح حکم ہے۔ 
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔
زمانے کی قسم ! کہ بے شک ہر انسان یقینا گھاٹے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔ 
وقت کی قسم کھانے کے بعد اللہ تعالٰی بیان فرماتے ہیں کہ انسان نقصان میں، ٹوٹے میں اور ہلاکت میں ہے، ہاں اس نقصان سے بچنے والے وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان ہو، اعمال میں نیکیاں ہوں، حق کی وصیتیں کرنے والے ہوں یعنی نیکی کے کام کرنے کی، حرام کاموں سے روکنے کی ایک دوسرے کو تاکید کرتے ہوں۔قسمت کے لکھے پر، مصیبتوں کی برداشت پر صبر کرتے ہوں اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کرتے ہوں۔ ساتھ ہی بھلی باتوں کا حکم کرنے اور بری باتوں سے روکنے میں لوگوں کی طرف سے جو بلائیں اور تکلیفیں پہنچیں تو ان کو بھی برداشت کرتے ہوں اور اسی کی تلقین اپنے ساتھیوں کو بھی کرتے ہوں یہ ہیں جو اس صریح نقصان سے مستثنیٰ ہیں۔مگر آج لوگ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر اہم ترین کام ایک دوسرے کو کسی کی مدد روکنے کے لیے پوسٹنگ کرتے ہیں۔ اچھے برے تو ہر جگہ ہیں مگر محروم طبقات جو محنت کر سکتے ہیں کے لیے لوگوں کو آگے بڑھ کر منع کرنا غلط بات ہے۔بس جب ہم نے اس پہلو کو سمجھ لیا تو ہماری حیات کے تاریک لمحوں کو روشن ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

مزیدخبریں