کراچی میں ایک تقریب میںوزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے بینکنگ نظام کی ڈیجیٹائزیشن کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے درخواست کی کہ وہ کرپٹو کرنسی کے ممکنہ تعارف پر "کھلے ذہن" کے ساتھ غور کریں کیونکہ ملک میں ڈیجیٹل بینکاری کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اورنگزیب نے اس بات کو تسلیم کیا کہ کرپٹو کرنسی پہلے ہی غیر رسمی مارکیٹ میں استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل اثاثوں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے ایک ضابطہ فریم ورک تیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پاکستان مستقبل کی ڈیجیٹل بینکاری میں سبقت حاصل کر سکے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے وضاحت کی پاکستان میں، ہم نقدی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں تاکہ ڈیجیٹل بینکنگ کے حل، پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹمز اور کیو آر کوڈز کے ذریعے نقد سے پاک معاشرہ فروغ دے سکیں۔وفاقی وزیر خزانہ حال ہی میں سعودی عرب میں ہونے والی ایک کانفرنس میں کی گئی بحث سے متاثر ہوئے اوریہ بصیرت حالیہ کانفرنس سے آئی ہیں جو سعودی عرب میں سعودی وزیر خزانہ محمد الجدان اور آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جیورجیوا کی مشترکہ میزبانی میں ہوئی، جہاں جی سی سی، افریقہ، روس، وسطی ایشیا اور لاطینی امریکہ کے مالی وزیروں نے عالمی اقتصادی رجحانات پر کھل کر بات چیت کی۔محمداورنگزیب نے کہا کہ ابھرتی ہوئی مارکیٹیں مالی شمولیت اور ڈیجیٹل بینکاری کو فروغ دینے کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اثاثوں کا استعمال کر رہی ہیں، انہوں نے پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے مستقبل کے بارے میں وسیع نقطہ نظر اپنانے کی اپیل کی۔پاکستان میں پہلی بار ملکی وفاقی وزیر خزانہ نے کرپٹو کرنسی کے حوالے سے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین متنبہ کرتے ہیں کہ اس میں خطرہ موجود ہے اورایسا ہی ایک واقعہ 2023میں آسٹریلیا میں پیش آیا اورآسٹریلین باشندوں کو 2023 میں کرپٹو کرنسی سرمایہ کاری کے ہیر پھیر اور دھوکہ دہی میں 171 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔کرپٹو کرنسی کی کشش یہ ہے کہ یہ حکومت، مرکزی بینکوں اور وفاقی ذخائر سے ہٹ کر کام کرتی ہے۔جرمنی میں موجود ایک پاکستانی نوجوان انجینئر بلال احمد جوکچھ دن کرپٹو کرنسی کے کاروبار کا حصہ بنے لیکن بعد میں ہاتھ کھینچ لئے، انکاکہنا ہے کہ بہت سے لوگ "ایسے نظام میں لین دین کرنے کے قابل ہونے کا خیال پسند کرتے ہیں جو حکومتی مداخلت سے پاک ہو۔" لیکن بظاہر کریپٹو کرنسی میں حکومتی مداخلت نہیں ہے، اور بالآخر اس کے صارفین کی حمایت حاصل ہے لیکن اس سے قانونی نظام میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو جاتا ہے، جہاں کرپٹو دھوکہ دہی کے متاثرین کے پاس رقم کی واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان نقصانات میں سے 96 فیصد کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا اور اس کا نقصان صارف کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کرپٹو کے مضمرات کے بارے میں لوگ کم ہی سمجھ پائے ہیںاورجو سمجھ گئے انہوں نے پیسہ کھونے سے زیادہ کمایا ہے ۔ کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمت تاریخ کی اب تک کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔اگر ہم گزشتہ چندماہ کا جائزہ لیں تو بٹ کوائن کی قیمت میں اس اضافے کے لیے امریکی مالیاتی ادارے کافی حد تک ذمہ دار ہیں۔بلیک روک ، گرے سکیل اور فڈیلیٹی جیسے بڑے سرمایہ کاری بینک اس غیر مستحکم ڈیجیٹل اثاثے کی خریداری میں اربوں ڈالر لگا تے رہے ہیں اور بعض واقعات کے بعد سے ان مالیاتی اداروں کو ’بِٹ کوائن وہیل‘ کہا جانے لگا ۔ایک اندازے کے مطابق تقریباً 30 لاکھ سے 60 لاکھ بٹ کوائنز ہمیشہ کے لیے کھو چکے ہیں۔ بٹ کوائن کے لیے کوئی کسٹمر سپورٹ موجود نہیں۔ اس لیے اگر کوئی اپنے ڈیجیٹل والٹ کی تفصیلات بھول جائے یا کھو دے تو ان بٹ کوائنز تک دوبارہ رسائی کا کوئی طریقہ کار نہیں۔ ویلز کے رہائشی جیمز ہاولز کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا تھا جب ہارڈ ڈرائیو ضائع ہونے کی وجہ سے ان کو 8,000 بٹ کوانز سے ہاتھ دھونا پڑا۔ بات ہورہی تھی کرپٹو کرنسی کی تو کرپٹو کرنسی ایکسچینج کرپٹو صارفین کے لیے بینکوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ یہاں روایتی کرنسی جیسے کہ ڈالر یا پاو¿نڈ کے بدلے بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل ٹوکنز حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اپنے کوائنز کو ایسی ایکسچینج کے پاس چھوڑنا خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے، مثال کے طور پر ایف ٹی ایکس کا خاتمہ جس کے نتیجے میں صارفین اپنی ڈیجیٹل کرنسی تک رسائی سے محروم ہو گئے۔ بٹ کوائن کے بنیادی نظریے پر یقین رکھنے والے اس بارے میں بھی اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہیں کہ بڑے ریگولیٹڈ اور قانون کی تعمیل کرنے والے ایکسچینج اس کرنسی کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ خیال کے خلاف ہے۔بٹ کوائن کے گمنام تخلیق کار کے پاس ایک اندازے کے مطابق 11 لاکھ بٹ کوائنز ہیں جو 2009 میں بنائے گئے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی کوائن کئی برسوں سے منتقل نہیں ہوا ہے اور کوئی نہیں جانتا ہے کہ ساتوشی کون ہے یا وہ زندہ
بھی ہیں یا نہیں۔اگر وہ زندہ ہیں اور ان کے والٹ کے بارے میں اندازے درست ہیں تو اس سے ساتوشی ناکاموتو دنیا کے 22ویں امیر ترین شخص بن چکے ہیں۔ ان کے پاس موجود ذخیرہ تمام بٹ کوائنز کے تقریباً پانچ فیصد کے برابر ہے۔اس کے مطابق اس وقت تقریباً 60 والٹس ایسے ہیں جن میں دس ہزار یا ان سے زیادہ سکے موجود ہیں مگر ان کے مالکان نامعلوم ہیں۔ان میں سے ایک والٹ کا مالک ہونا آپ کو ارب پتی بنا دے گا۔ اندازہ یہی ہے کہ بڑے وہیل اکاو¿نٹس کے پاس بٹ کوائنز کی مجموعی تعداد کا تقریباً آٹھ فیصد موجود ہے۔ویسے تو کرپٹو کرنسی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ کالم بہت چھوٹا پڑ جائے گا اس لئے ہم پاکستان کے وزیر خزانہ کی جانب سے کرپٹو کرنسی کے حوالے سے کی گئی بات چیت پر ہی نظر ڈالتے ہیں اور یہ بھی دکھتے ہیں کہ کیاکرپٹو کرنسی کے بارے میں مثبت بیان سے سرمایہ کار کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی جانب راغب ہونگے؟۔
کرپٹو کرنسی،خطرہ ہے یا نہیں؟
09:01 PM, 7 Mar, 2025