سیاست میں دل کو بڑا کرنا پڑتا ہے

08:59 PM, 7 Mar, 2025


 ملکی تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ دوسروں کی ڈکٹیشن اور خواہش نے ہمارے مسائل حل نہیں ہونے دئیے‘ بنیادی صنعت کاری جس سے ملک کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے بھی نہیں ہونے دی گئی لہٰذا اب جب ہمارے بعض سیاستدان وعوام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ ہماری ”آرزوو¿ں“ کی تکمیل کریں گے تو یہ پرلے درجے کی سادگی ہے۔ ہمیں جو بھی کرنا ہے خود ہی کرنا ہے۔
یہ جو نیا قومی سیاسی اتحاد وجود میں آیا ہے اسے چاہیے کہ وہ حکومت سے کہے کہ آئیں متحد ہو کر ملک کی بقا ترقی اور سلامتی کے لئے اپنا کردار اداکریں قانون و آئین کی بالا دستی اور ملکی نظام حیات کو نئے سرے سے ترتیب دیں اور ڈگمگاتی جمہوریت کو سہارا دے کر کھڑا کریں اس پر حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ سنجیدہ فہمی کا مظاہرہ کرے کیونکہ ملک کے عوام کے مسائل بارے غور فکر کرنا اسی کی ہی ذمہ داری ہے۔
اس وقت ملک عزیز کے لوگ سخت پریشان ہیں ان کو پیٹ بھرنے کے لئے بے حد محنت مشقت کرنا پڑ رہی ہے۔ روزگار کے ذرائع روز بروز محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ توانائی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے کیونکہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے سب سے اہم یہ کہ لوگوں کو یہ یقین ہی نہیں کہ وہ شہری ہیں وہ خود کو محکوم و غیر اہم تصور کرنے لگے ہیں کیونکہ پچھلے چند برسوں میں ان کو انتظامی اور معاشی دونوں طرح سے کافی صعوبتیں برداشت کرنا پڑی ہیں لہٰذا حکومت کا اگر یہ خیال ہے کہ وہ اپنے مخصوص ”طرز عمل“ سے ان کو اپنا گرویدہ بنا سکتی ہے تو یہ درست نہیں ایسا ماضی میں ہوا نہ مستقبل میں ہو گا۔ شاید اس خیال کو وہ اپنے ذہن سے جھٹک بھی دینا چاہتی ہے اسی لئے ہی وہ عوامی فلاحی منصوبوں کا آغاز کرنے جا رہی ہے تاکہ اسے لوگوں کے دلوں میں جگہ مل سکے اگرچہ ان منصوبوں میں کچھ ایسے بھی بتائے جاتے ہیں کہ جنہیں گزشتہ ادوار میں شروع کرنے کا پروگرام بنایا گیا تھا کچھ بھی ہو موجودہ حکومت ہی کو ان کا کریڈٹ جائے گا لہٰذا یقینا اس سے متعلق عوامی رائے تبدیل ہو گی مگر یہ بات بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہو گی کہ پی ٹی آئی کا کارکن فلاح و رفاہ ہی نہیں چاہتا وہ اپنے لیڈر کو بھی اپنے درمیان دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ سوچ کے اس دائرے میں داخل ہو چکا ہے کہ جہاں شخصیات کے مقابل حاجات و ضروریات ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں لہٰذا حکومت کو بیک وقت دونوں پہلوو¿ں پر غور کرنا ہو گا اس سے چشم پوشی کا مطلب ایک اور ہیجانی کیفیت کو جنم دینا ہے اب تو حزب اختلاف مزید مضبوط ہو رہی ہے اس میں شامل جماعتیں اگرچہ چھوٹی ہیں مگر ان کی اپنی اہمیت ہے ان کے اکٹھا ہونے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بیداری کی لہر ہے جو عوام سے ہوتی ہوئی سیاسی رہنماو¿ں تک پہنچ گئی ہے جو ان کی نمائندگی کرتے ہوئے آئین و قانون کے تحفظ کی تحریک چلانے نکل پڑے ہیں۔ ہمیں نہیں لگتا کہ حکومت بھی آئین وقانون کی سر بلندی نہیں چاہ رہی ہوگی کیونکہ اس کے بغیر ملک چل ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ حزب اختلاف اور حزب اقتدار جلد یا بدیر اکٹھے نظر آئیں گی اور صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے ”کسی“ کو کوئی موقع فراہم نہیں کریں گی مگر موقع اور مفاد پرستوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ؟ خیر نیا قومی سیاسی اتحاد جس میں منجھے ہوئے زیرک اور دانا و بینا سیاستدان شامل ہیں جمہوریت کو توانائی دینا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ستتر برس گزر جانے کے باوجود وہ خواب پورا نہیں ہوسکا جو ان کے قائدین نے انہیں دکھایا تھا لہٰذا اب ہی اس کی تکمیل کے لئے کوشش کر لی جائے۔
یہاں ہم یہ بھی عرض کرنا چاہیں گے کہ سارے سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ روک دیں کوئی بھی ملک دشمن نہیں کوئی بھی غدار نہیں یہ ضرور ہے کہ کچھ اقتدار کے مزے لوٹنے کے لئے بنیادی اصولوں سے انحراف کر جاتے ہیں مگر یہ بھی ہے کہ آئندہ ایسا نہ بھی ہو کیونکہ عوامی بیداری روایتی نہیں۔ جو ذہن سازی پانچ سات برس میں ہوچکی ہے اس نے سیاست کے کھیل کو یکسر تبدیل کر دیا ہے اب تو وہی عوام کی نگاہوں میں مقدم ہو گا جو صحیح معنوں میں عوامی ہو گا اگرچہ اس وقت جو حکومت موجود ہے اسے عوام کی زیادہ حمایت حاصل نہیں مگر جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ حکومت جن منصوبوں کو متعارف کروا رہی ہے ان پر وہ من و عن عمل درآمد کر گزرتی ہے تو پھر ایک حد تک لوگوں کی سوچ بدل جائے گی اگر ان پر پابندیاں جاری رہتی ہیں تو حکومتی اقدامات مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے لہٰذا گزارش یہ ہے کہ اگر وہ آزادانہ مثبت سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دے دیتی ہے تو 
اسے کافی فائدہ پہنچ سکتا ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے بہت سے کارکنان یہ سوچ رہے ہیں کہ آخر کب تک وہ موجودہ صورت حال سے دوچار رہیں گے ان کے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں ان پر مقدمات قائم ہیں لہذا اگر حکومت انہیں پریشان کرتی ہے تو وہ کسی صورت تبدیل نہیں ہوں گے خواہ اس کے منصوبے کتنے ہی سود مند کیوں نہ ہوں۔ ویسے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر عمران خان معمولی سی بھی لچک دکھا دیں تو سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔خان کو نفسیات کا یہ اصول اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ کسی چیز پر گرفت مسلسل ایک جیسی نہیں رہتی ڈھیلی پڑ جاتی ہے لہٰذا دھیرے دھیرے لوگوں کا مزاج بدل بھی رہا ہے وہ مزید پریشان نہیں ہونا چاہتے چنانچہ اگر کسی کا خیال ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ حل کر سکتے ہیں تو یہ بات درست نہیں فرض کیا وہ حل کرا بھی دیتے ہیں تو اس کے بدلے میں انہیں کچھ چاہیے ہو گا جو ہمارے لئے نقصان دہ ہو گا۔ بہرحال حالات ٹھیک کرنے کی ک±نجی اہل سیاست کے ہاتھ میں ہے اور وہ یہ جواز پیش نہیں کر سکتے کہ ہم مقروض ہیں ہماری معیشت کا انحصار مغرب اور اس کے ذیلی اداروں پر ہے۔ ہم اپنے پاو¿ں پر کھڑا ہو سکتے ہیں اس کے لئے صرف پختہ ارادہ کرنا ہو گا خلوص نیت سے ہاتھوں میں ہاتھ دینا ہوں گے لہٰذاایک دوسرے سے رخ موڑیے نہیں‘ سیاست میں دل کو بڑا کرنا پڑتا ہے اسے سکیڑا نہیں جاتا !۔

مزیدخبریں