حکومت نے کابینہ میں توسیع کر تو ڈالی لیکن اسے اس فیصلہ پر شدید قسم کی تنقید کا سامنا ہے۔ متعدد نقادوں نے اس فیصلہ کے ممکنہ منفی اثرات کے بارے میں کافی زیادہ خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ ایک توسیع شدہ کابینہ کے حامیوں کا استدلال ہے کہ اس سے حکومت کو زیادہ مہارت اور نمائندگی ملے گی اور حکومت کی کارکردگی میں اضافہ ہو گا۔
کابینہ میں توسیع پر سب سے بڑا اعتراض قومی خزانہ پر بڑھتا ہوا بوجھ ہے۔ زیادہ وزراءاور مشیروں کے ساتھ، حکومت کو زیادہ تنخواہوں، سہولیات اور انتظامی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایک ایسے ملک میں جہاں وسائل پہلے سے ہی محدود ہوں اور مالی خسارہ پریشان کن حد تک زیادہ ہو، اس طرح کے اخراجات معاشی چیلنجوں کو بڑھا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک اور اہم مسئلہ جو اکثر بڑی کابینہ کے ساتھ درپیش ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں جتنے زیادہ افراد شامل کیے جاتے ہیں، پالیسی پر عمل درآمد اتنا ہی پیچیدہ اور سست ہوجاتا ہے۔ ایک بڑی کابینہ سازشوں، الجھنوں اور آپس کے ٹکراو کا باعث بن سکتی ہے۔ ذمہ داریوں کے ٹکڑے ہونے کے نتیجے میں اکثر وزرا اپنے محکموں کو م¶ثر طریقے سے سنبھالنے سے قاصر رہتے ہیں، کیونکہ ان کی توجہ مختلف امور میں تقسیم ہوجاتی ہے۔
پاکستان جیسے غریب ملک، جس کے بجٹ کی بنیاد ہی آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والے قرضہ پر رکھی جاتی ہے، کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ اس کا نظم و نسق چلانے کے لیے کابینہ کا سائز انتہائی مختصر رکھا جائے ، لیکن سیاسی عدم استحکام اورمخلوط حکومت جیسی مجبوریوں میں شائد ناچاہتے ہوئے بھی کابینہ کے حجم بے ہنگم حد تک بڑھانا پڑجاتا ہے ۔اس کے علاوہ افسر شاہی کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر میںبھی ہر طرح کا پریشر قبول کرنا پڑتا ہے۔ وفاقی کابینہ میں حالیہ توسیع پر عوامی سطح پر اعتراض کیا جائے یا میڈیا کی جانب سے تنقید کی جائے تو بات قابل قبول ہے لیکن یہاں تو وہ لوگ بھی انقلاب کا جھنڈا اٹھائے سرگرم نظر آتے ہیں کہ جن کی پارٹی کی حکومت کے دور میں کابینہ کا سائز اس توسیع شدہ کابینہ سے بھی زیادہ تھا ۔یعنی انقلاب یا ملکی مسائل اسی وقت یاد آتے ہیں جب آپ اپوزیشن میں ہوں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کابینہ میں توسیع کئی اہم سیاسی، انتظامی، اور حکمرانی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ضروری تھی۔ اس توسیع کی بنیادی وجوہات میں سے ایک یہ تھی کہ ملک کے اندر مختلف خطوں، جماعتوں اور مفاداتی گروہوں کی بہتر نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کابینہ کی توسیع میںکی وجہ بہتر انتظامی کارکردگی کی ضرورت بھی تھی۔ پاکستان میں گورننس کا ماڈل کافی پیچیدہ ہے اور اس ملک کے مسائل، معاشی چیلنجوں سے لے کر سلامتی کے امور تک، کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ فنانس، صحت، تعلیم، خارجہ امور، امن واماں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی جیسے کلیدی شعبوں میں مہارت کے ساتھ مزید وزراءکی تقرری کرکے، حکومت اس بات کو یقینی بناسکتی ہے کہ ان اہم شعبوںمیں مزید ترقی کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ حکومتی موقف یہ بھی ہے کہ ایک توسیع شدہ کابینہ حکومت کے بوجھ کو زیادہ موثر انداز میں تقسیم کرنے میں بھی مدد کرے گی اور فیصلہ سازی کے عمل کو بہتر بنائے گی۔ چونکہ پاکستان کو تیزی سے بدلتی دنیا کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس میں عالمی طاقتوں کی حرکیات، تجارتی تعلقات اور تکنیکی ترقیوں میں تبدیلی شامل ہے، لہذا اس دلیل میں کافی وزن ہے کہ زیادہ متحرک افراد کی کابینہ میں شمولیت سے پرانے بیوروکریٹک ڈھانچے کی اصلاح، جدید پالیسیاں متعارف کروانے اور مزید فعال حکمت عملی پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ چونکہ پاکستان افراط زر، بے روزگاری، غربت اور بدعنوانی جیسے معاملات سے دوچار ہے اس لیے شہری توقع کرتے ہیں کہ ان کی حکومت فیصلہ کن اور موثر انداز میں کام کرے گی۔ ایک بڑی کابینہ کے ساتھ، حکومت مخصوص امور پر توجہ مرکوز کرنے اور ٹارگٹڈ حل تیار کرنے کے لئے سرشار وزراءکو تفویض کرکے ان خدشات کو بہتر طور پر حل کرسکتی ہے۔
موجودہ حکومت کے قیام کے وقت کئی غیرمنتخب شدہ افراد کو کابینہ کا حصہ بنانے پر اس وقت یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ٹیکنوکریٹس کو حکومت میں شامل کرنے سے ملک کے بگڑے ہوئے حالات کو درست کرنے میں مدد ملے گی۔ جانے وہ بگڑے ہوئے حالات درست ہوئے ہیں یا نہیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ کابینہ کے توسیع شدہ حصے میں کسی بھی ٹینکو کریٹ کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ تمام تر نمائندگی سیاستدانوں کو دی گئی ہیں۔ اس سارے عمل میںایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس توسیع میں بھی کابینہ کا حصہ نہیں بنی ہے ۔ یعنی آنے والے دنوں میں ، ممکن ہے بجٹ سے پہلے، پیپلزپارٹی کو اس کا حصہ دینے کے لیے کابینہ میں ایک اور توسیع کی جائے۔ دیکھا جائے تو کابینہ میں توسیع جیسے اقدامات دراصل سیاسی اتحادیوںکی حمایت برقرار رکھنے اور حکمران اتحاد کے اندر مختلف دھڑوں کی وفاداری کو محفوظ بنانے کے لئے ایک اسٹریٹجک ٹول کے طور پر کام کرتے ہیں۔ بظاہر تو اپوزیشن کے گرینڈ الائنس بنانے کی کوششوں کے جواب میں حکومت خاصی پراعتماد نظر آتی ہے لیکن عین ممکن ہے کہ کابینہ میں توسیع جیسی سیاسی ہلچل کے پیچھے کسی قسم کے خوف یا عدم تحفظ کا عنصر کارفرما ہو۔ کیونکہ حکومت کا یہ خیال ہو سکتا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں یا دھڑوں سے مزید وزراءلے کر حکومتی اتحاد کو مزید قوت بخشی جا سکتی ہے ۔ کمزور بنیادوں پرکھڑی ہوئی حکومت سے کابینہ میں توسیع اور اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں بے پناہ اضافہ کے علاوہ اور کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ حکومت یہ سب اللے تللے ضرور کرے لیکن کچھ گنجائش نکال کر اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ مہنگائی سے پسے ہوئے اور بدامنی کا شکار عوام کو بھی ریلیف کا کچھ حصہ پہنچ سکے۔
کچھ ریلیف عوام کے لیے بھی!
08:57 PM, 7 Mar, 2025