ماہ مقدس کاآج سے آغاز ہو چکا۔ رمضان المبارک یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مسلمانوں کے لئے وہ عظیم تحفہ اور نعمت ہے جس میں شروع سے لیکر آخر تک انوارات وبرکات کی بارش ہوتی ہے۔ اس مبارک مہینے میں نہ صرف شیاطین قید کر دئیے جاتے ہیں بلکہ اس ماہ میں پروردگارعالم کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے ہرجانی ومالی عبادت کااجربھی دوگناکردیاجاتاہے۔اس لئے باہرکی دنیامیں جب بھی رمضان کانادرموقع اوربابرکت مہینہ آتاہے توتمام کلمہ گومسلمان اس مبارک مہینے کی خصوصی تیاریاں شروع کردیتے ہیں اور اکثر مسلمان پھر اس مبارک مہینے کوصرف اورصرف عبادات اوراللہ کی رضاحاصل کرنے کے لئے خاص کر دیتے ہیں مگرافسوس ہمارے ہاں ایسانہیں ہوتا۔یہاں جب بھی رمضان کامہینہ آتاہے تو ہمارے ہاں انسانیت کے لبادے میں چھپے شیطان فوراًکھل جاتے ہیں۔اللہ سے ڈرنے اورقیامت وآخرت کی فکرکرنے والے مسلمان تواس کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ ثواب کماکرآخرت کی تیاری کی جائے لیکن یہ شیطانی صفت والی مخلوق رمضان کانام سنتے ہی گرانفروشی،ذخیرہ اندوزی اورلوٹ مارکے ایسے ایسے طریقے ڈھونڈنکالتی ہے کہ اللہ کی پناہ۔اس مخلوق کی فکر،سوچ اورکوشش پھریہ ہوتی ہے کہ کس طرح سوروپے کی چیزپانچ سواورپانچ سوروپے کی شئے ہزار میں بیچ کراللہ کی مخلوق کودونوں ہاتھوں سے لوٹاجائے۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی رمضان المبارک کامقدس مہینہ آتاہے تواس ملک اور معاشرے میں مصنوعی مہنگائی اورگرانفروشی کے سابقہ تمام ریکارڈیکدم ٹوٹ جاتے ہیں۔باہرکی دنیا میں جس طرح رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ عبادات،ذکرواذکارکرنے اورثواب کمانے کی تیاریاں شروع ہوتی ہیں اس سے بڑھ کر رمضان کی تیاریاں ہمارے ہاں بھی ہوتی ہے لیکن ہماری تیاریوں اورباہرکی دنیاکے مسلمانوں کی تیاریوں میں زمین وآسمان کافرق ہوتاہے۔باہرکی دنیامیں تیاریاں رمضان المبارک کے اندرزیادہ سے زیادہ عبادات اورثواب کمانے کے لئے ہوتی ہیں مگرہمارے ہاں یہ تیاریاں اللہ کی بے زبان مخلوق اورغریب روزہ داروں کوزیادہ سے زیادہ لوٹنے کے لئے ہوتی ہیں۔یہاں کے بازاروں، مارکیٹوں اوردکانوں میں تورمضان المبارک کے اندرروزہ داروں کوزیادہ سے زیادہ لوٹنے کے مقابلے ہوتے ہیں۔بازاروں میں بیٹھے ہرشخص اورفردکی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کس طرح دوسرے تاجر اور دکاندارسے بڑھ کروہ پا¶آٹا،سبزی اور پکوڑے لینے کے لئے آنے والے روزہ دار کو لوٹے۔رمضان المبارک پچھلے گیارہ مہینوں کے گناہ دھونے،مٹانے اورآخرت کی تیاری کرنے کامہینہ اورموقع ہے لیکن افسوس ہم نے اس مہینے اوراہم موقع کولوٹ مارکاذریعہ سمجھ لیاہے۔ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ شائد رمضان المبارک لوگوں کوزیادہ سے زیادہ لوٹنے کامہینہ ہے مگر ایسا ہرگز نہیں۔ یہ تووہ عظیم اوربابرکت مہینہ ہے جس میں شروع سے لیکر آخرتک انوارات ہی انوارات اور برکات ہوتی ہیں۔یہ لوٹ مار،دھوکہ وفراڈاورلڑائی وجھگڑوں کانہیں بلکہ یہ توصبر وشکرکا مہینہ ہے اوریہ سب جانتے ہیں کہ صبر وشکرکا بدلہ جنت ہے۔ رمضان گرانفروشی اورذخیرہ اندوزی کانہیں بلکہ یہ ہمدردی اور خیرخواہی کا مہینہ ہے، اس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، اس میں نہ صرف روزہ رکھنے والے بلکہ روزہ افطار کرانے والوں کی بھی مغفرت، گناہوں کی بخشش اور جہنم سے آزادی کے پروانے کے علاوہ روزہ دار کے برابر ثواب دینے کا وعدہ ہے۔ چاہے وہ افطار ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی اورلسی سے ہی کیوں نہ کرائے۔ایک اوراہم بات جوروزہ دارکی افطاری کے حوالے سے ہے کہ اگرکوئی شخص روزہ دار کو پیٹ بھرکرکھانا کھلائے اورپلائے تو اللہ تعالیٰ اسے حوضِ کوثر سے ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا۔اللہ کے پیارے حبیبﷺ نے فرمایاکہ جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں اور ایک روایت میں بجائے ابواب جنت کے ابواب رحمت کھول دیئے جانے کا ذکر ہے۔جنت کے دروازوں کا کھلنا، دوزخ کے دروازوں کا بند ہونا اور شیطانوں کا قید ہونا اس مہینے کی آمد کی اطلاع اور اس کی عظمت اور حرمت وفضیلت کی وجہ سے ہے۔اس مبارک مہینے کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا ہے۔بلاکسی شک وشبہ کے رمضان المبارک اللہ پاک کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے وہ عظیم نعمت اورتحفہ ہے کہ اس میں اگر ایک انسان کوشش کرے تو ایک رمضان سارے گناہ بخشوانے کے لئے کافی ہے۔ جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور یہ یقین کرکے رکھے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام وعدے سچے ہیں اور وہ تمام اعمالِ حسنہ کا بہترین بدلہ عطا فرمائے گاتوآپ یقین کریں وہ شخص کبھی بھی رمضان المبارک کے انوارات، برکات اورانعامات سے محروم نہیں ہو گا۔ یہ تواللہ کے آخری پیغمبرمحسن انسانیت حضرت محمدﷺنے بھی فرمایاکہ جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی امید
رکھتے ہوئے رمضان میں قیام کرے گا (یعنی تراویح اور نوافل وغیرہ پڑھے گا) اس کے پچھلے اور اگلے سب (صغیرہ) گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔اسی وجہ سے تو کہا گیا کہ اگر لوگوں کو رمضان المبارک کی ساری فضیلتوں اور برکتوں کا پتہ چل جائے تووہ تمنائیں کریں کہ کاش۔ سارا سال رمضان ہوجائے۔ اسی لئے توکہاگیاہے کہ رمضان میں بھی اگرکوئی شخص اپنے گناہوں ،غلطیوں اور لغزشوں کی بخشش نہ کروائے توروئے زمین پراس سے بڑابدبخت اوربدقسمت اورکوئی نہیں۔روزہ داروں کولوٹنے کے لئے ہمیں آپس میں گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی، جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی کے مقابلے کرنے کے بجائے عبادات میں ایک دوسرے کامقابلہ کرناچاہئیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں رمضان المبارک کے انوارات وبرکات سے مستفید ہو سکیں۔ اس رمضان میں بھی اگر ہم اپنے غفورورحیم رب سے اپنے گناہوں، جرائم اور غلطیوں کی بخشش نہ کروا سکیں تو ہم سے بڑے بدقسمت اورکوئی نہیں ہونگے۔ اللہ کرے کہ یہ رمضان ہم سب کے لئے ہرلحاظ سے مبارک بہت مبارک ہو۔آمین۔
رمضان سب کو مبارک ہو
08:57 PM, 7 Mar, 2025