اب بیورو کریٹ پیش ہوتا ہے بھگوان میں اب بوڑھا ہو رہا ہوں صنف نازک میں دلچسپی نہیں رہی، زندگی کی چاشنی ختم ہو گئی، میں نے روحانیت کی طرف رجوع کیا تو علم ہوا کہ فرعون، شداد اور نمرود تو میرے سامنے معصوم تھے، اب بڑھاپے میں ہی کردار بدل دے، مجھے سیاست میں ایڈجسٹ کر دے۔ تجھے تو پتہ ہے جوں جوں میرا اختیار و مال متاع بڑھتا گیا، میری بھوک بھی بڑھتی گئی کیونکہ سمندر میں پیاس زیادہ لگتی ہے۔ اتنے میں مذہبی روپ دھارے سراپا دھرم بنے ہوئے ایک سینئر بیورو کریٹ آتا ہے اے بھگوان مجھے تو بدعنوانی چھوڑے مدت ہو گئی اب میرے دوست سوامی، پروہت، بھگت ، ملا، سادھو ہیں میں تو چلے بھی کاٹتا ہوں تیرے پیغام کی چرچا کرتا ہوں مگر پھر بھی ہر موڑ پر لوگ مجھے میرا ماضی یاد دلاتے ہیں تو لوگوں کا حافظہ چھین لے میرا ماضی مجھے چین نہیں لینے دے۔ لوگوں کی مت مار دے اُن کو میرا ماضی بھلا دے مگر میرا حال مزید اچھا کر دے۔ مجھے حقیقی دیانت دار بہت برے لگتے ہیں۔ پتا نہیں کیسے گزارا کرتے ہیں میری تو جتنی تنخواہ ہے، میں اُس سے زیادہ پیسوں کا تو اب اپنی داڑھی کو خضاب لگاتا ہوں مجھے تو اب معلوم بنا دے۔ پھر چھوٹا ملازم اسکیل 15-1 تک کا پیش ہوتا ہے، اے بھگوان! ملازم جس بھی درجے کا ہو جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو گا تو صرف جسد خاکی جلایا یا دفنایا جائے گا۔ اس کی انا، ضمیر، اس کا اپنا پن، اس کی ایکتا اسی روز ہی دفن ہو جاتی ہے جب پہلی بار نوکری کی درخواست لے کر کسی کے پاس جاتا ہے، پھر ساری زندگی ٹرانسفر، پوسٹنگ، ترقی، افسر کی خوشنودی، خوشامد، ساتھیوں کی غیبت، منافقت، چغل خوری، مال متاع جمع کرنے اور چھپانے میں گزر جاتی ہے۔ جتنی خوشامد، تعظیم اپنے باس کی کرتا ہوں، اس کو خوش رکھنے کے لیے اس کی نسبتیں تلاش اور زیردست رکھتا ہوں اگر میں اتنا اوپر والے سے ڈرتا تو میرا مرتبہ کسی اوتار سے کم نہ ہوتا۔ مجھے ریڑھی لگوا دے، پہرے داری، پلے داری کروا دے، مگر یہ سپیڈ منی اور رشوت سے نجات دلا دے۔ انسان کی پہلی عزت اس کی اپنی نگاہ میں ہوتی مگر صد افسوس کہ میں اس عزت سے بھی محروم ہوں۔ ابھی یہ روئیداد
سنا رہا ہوتا ہے تو سوامی (ملاں) آ جاتا ہے کہ میرے بھگوان میں نے شیطان سے بڑھ کر تیری پوجا کی ہے، مگر میری پوجا کو عرفان حاصل نہ ہو سکا، میں شیطان رہا نہ انسان ، میرا کردار بدل دے مجھے طوائف ہی بنا دے جس کا ظاہر باطن ایک ہے اس کے بھی چار حمایتی ہیں مگر میرا کوئی نہیں۔ پھر بنیاد پرست پجاری طالبان آتا ہے تو بھگوان کہتا ہے اس کی تلاشی لو پھر اس کی بات سنو۔ وہ ان سب پیش ہونے والے نمائندوں کے قتل کا مشورہ دیتا ہے جس کی بات پر سب احتجاج کرتے ہیں تو صدر صاحب مداخلت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھگوان اس سے میں نمٹ لوں گا اس کی فکر نہ کریں میری گزارش ہے کہ مجھے ماضی پر اختیار نہیں میرے وزیراعظم کو ماضی یاد دلا دیں یا مجھے ماضی کے فیصلے بدلنے کا اختیار دے دیں، میرے کردار میں وزیراعظم کے اختیارات کو بھی شامل کر دے اور سپہ سالار کے دل میں میرے لیے محبت پیدا کردے۔ عدالتی آفیسر! بھگوان میں جانتے ہوئے کہ فلاں شخص بے گناہ ہے سزا دے دیتا ہوں اور گناہ گار چھوڑ دیتا ہوں کہ مثل مقدمہ اور گواہان کا پابند ہوں مجھے ساری دنیا کے عیب نظر آ جاتے ہیں محض اپنے ریڈر کو نہیں دیکھ سکتا میری بے بسی پر رحم کر۔ ڈاکٹر آتا ہے بھگوان میں بیمار انسانوں کو دیکھ دیکھ کر خود بیمار پڑ گیا ہوں گو کہ میں 3000 روپے سے کم فیس نہیں لیتا، تنخواہ بھی کھاتا ہوں، لاکھوں روپے پرائیویٹ ہسپتال سے روزانہ کماتا ہوں لیبارٹری اور میڈیسن والوں سے کمیشن الگ لیتا ہوں مگر میری بھوک ختم نہیں ہوتی، میرے اندر کا انسان مر گیا اور صرف ایک کاروباری تاجر میرے بدن میں روح بن کر راج کر رہا ہے، میں را کشس بن گیا ہوں پیسے کے سوا میرا کچھ اپنا نہیں جو جمع کر رہا ہوں، مریضوں کو گاہک سمجھتا ہوں انسانوں کو جنس سمجھتا ہوں میں آئینہ دیکھوں تو مجھے گھن آتی ہے ،اسی کمائی کے عوض کوئی اور اچھا سا کردار عنایت کر دے، پھر ڈان آ جاتا ہے۔ ”میں سمجھتا تھا کہ انڈر ورلڈ کا بے تاج بادشاہ بنوں گا، مجرم بنوں گا، قتل و غارت گری اور لوٹ مار کروں گا، عیاشی بدکاری کروں گا، لیکن میں نے تو صرف دکھ ہی اٹھائے ہیں، میرا کوئی کام پولیس عدالت، سیاستدانوں، بیورو کریٹس اور سرمایہ داروں کی آشیر باد کے بغیر نہیں ہوتا، میں ان کا محتاج ہوں مجھے ان میں سے کوئی ایک کردار دے یا مجھے زرد صحافت کرنے والا کارکن بنا دے۔ بہت سے دیگر طبقوں کے نمائندے جن میں نوجوان پہلی نسل کی کرپشن، بچے والدین کی نااہلیت، والدین بچوں کی نافرمانبرداری، عورتیں آزادی اور خود مختاری کا رونا رو رہی ہوتی ہیں جبکہ جاگیردار، چوہدری، خان وڈیرے، پیر اور سردار اپنے خدا ہونے کی درخواست لیے کھڑے ہیں تو وزیراعظم نمودار ہوتا ہے کہ ان کی کہانی لمبی ہے میرے کردار میں صدر کے اختیار کو بھی شامل کر دے اور سپہ سالار کو میرا ہمدرد رکھنا۔ پولیس والے کو ساتھ لے کر سیاستدان آتا ہے اے بھگوان میں اور پولیس والا ایک لمحہ عزت کا نہیں دیکھ سکتے ہماری بڑی کردار کشی ہوئی ہمیں عالم دین (ملاں) بنا دے اور ہمیں الٰہ دین کا چراغ عطا کر دے۔ جج صاحب تشریف لاتے ہیں کہ بھگوان مجھے کسی طرح سے شہنشاہ بنا دے اور کوئی ایسا سلسلہ کر دے کہ تمام ٹی وی چینلز اور اخبار صرف مجھے ہی چھاپتے اور دکھاتے رہیں۔ مجھے ماضی پر بھی دسترس عطا کر دے۔ اب سپہ سالار آتے ہیں تو بھگوان اپنے منبر کو غور سے دیکھتے ہیں کہ کھسک تو نہیں رہا اتنی شکایات عوام کر رہے ہیں، پسینے میں شرابور بھگوان پوچھتے ہیں کہ آپ کا کیا کرنا ہے وہ کہتے ہیں بشمول اپنوں کے میرے پاس ان سب کی اتنی گھناﺅنی رپورٹس ہیں مگر میرا اختیار اور کردار مجھے ایک حد سے بڑھنے کی اجازت نہیں دیتا تو میری مدد کر یا میرا بھی کردار بدل دے۔ آخر میں سائنسدان شکایت کرتا ہے کہ کئی دہائیوں سے میرے پاس کرنے کو کچھ نہیں، مجھے موت ہی دے دے۔ آنسو بہاتے ہوئے بھگوان اپنی منبر نما کرسی سے اٹھتے ہیں اپنے گلے کی مالا (جو ایکٹر کے گلے میں بھگوان ہونے کی علامت کے طور پر ہے) اتارتے ہوئے کہتے ہیں، میں خود اپنے کردار سے مطمئن نہیں بے بس ہوں آپ لوگوں کی چکر بازیوں سے چکرا گیا ہوں،آپ میں سے جو چاہے بھگوان بن جائے مجھے ہی کوئی اور کردار دے دیا جائے۔ تو گرا ہوا مزدور اٹھتا ہے بھگوان تو خالق نہیں ہم نے تجھے بھگوان بنایا ہم اصلی اور حقیقی رب کی طرف رجوع کریں گے جو سب کا خالق اور مالک ہے، پالنے والا اور نگہبان ہے جو مکافات عمل کا ایک نظام رکھتا ہے وہی دکھوں کا مداوا کرے گا۔ اطمینان کہیں بھی نہیں۔ (ختم شد)
بھگوان
08:54 PM, 7 Mar, 2025