روس یوکرائن ڈیل.... شیر اور بکری کے مابین معاہدہ 

08:51 PM, 7 Mar, 2025

آج کا دن یوکرائن روس جنگ کے خاتمے کیلئے ایک تاریخی دن ہے کیونکہ یوکرائنی صدر زیلنسکی کی امریکی وائٹ ہاو¿س میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات ہونے جا رہی ہے جس میں ایک معاہدے پر دستخط ہوں گے جس کے بعد روس یوکرائن جنگ بندی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ امریکہ یوکرائن کے مذکورہ معاہدے کی تفصیلات کو ابھی تک منظر عام پر نہیں لایا جا رہا۔ اس سارے منظر کو سمجھنے کیلئے ہمارے پاس ایک سادہ سی مثال ہے کہ ایک طاقتور ترین ریاست کا ایک کمزور ترین ریاست کے ساتھ معاہدہ شیر اور بکری کے درمیان معاہدہ ہے جس میں شیر جو بکری کے بچے پہلے ہی کھا چکا ہے بکری سے عہد کر رہا ہے کہ وہ اب اُسے نہیں کھائے گا۔معاہدہ کرانے والوں نے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ شیر کی طاقت اس کے خونی پنجوں اور نوکیلے دانتوں ں پر پر کوئی قدغن تو نہیں ہوگی البتہ بکری کو پابند کیا جارہا ہے کہ اس کے سر پر جو چھوٹے چھوٹے سینگ ہیں معاہدے کی کامیابی کیلئے انہیں کاٹنا لازمی ہے کیونکہ شیر ان کو اپنے لئے خطرے کا باعث سمجھتا ہے۔ البتہ معاہدے میں ایسی کوئی شق نظر نہیں آرہی کے ہی بات کی کیا گارنٹی ہے کہ شیر بکری کو نہیں کھائے گا۔ 
صدر ڈونالڈ ٹر مپ جب سے اقتدار میں آئے ہیں وہ روسی صدر پیوٹن کے ساتھ دوستی کیلئے بے چین ہیں۔ یہ دوستی یوکرائن جنگ بندی کے بغیر ممکن نہیں اس لئے امریکہ نے تاریخ کا سب سے بڑا یوٹرن لیتے ہوئے دنیا کو سرپرائز دیا کہ بقول ڈونالڈ ٹرمپ ان کے سابق صدر بائیڈن نے 350 بلین ڈالر کی خطیر قم جنگ میں یوکرائن کے حق میں جھونک دی جبکہ اس کے بدلے حاصل کچھ نہیں کیا۔ پہلے تو ٹرمپ نے یوکرائن کے ساتھ فاصلے بڑھا لئے امداد بند کر دی پھر کہنا شروع کر دیا کہ یوکرائنی صدر ڈکٹیٹر ہے اور مضحکہ خیز بیان دے د یا گیا کہ صدر زیلنسکی جنگ شروع کرنے کے ذمہ دار ہیں یہ دونوں الزامات قطعی طور پر بے بنیاد ہیں ایلنسکی یوکرائن کے منتخب شدہ صدر ہیں البتہ مدت پوری ہونے پر بھی وہ صدارت اس لئے جاری رکھے ہوئے ہیں کہ یوکرائن نے جنگ کی وجہ سے مارشل لاءنافذ کیا اور آئین کے مطابق مارشل لاءکے دوران نیا الیکشن نہیں ہو سکتا۔ ساری دنیا گواہ ہے کہ یوکرائن پر فروری 2022ءمیں روس نے حملہ کیا تھا جس کا باقائد تاریخ اور وقت پہلے سے اعلان کیا گیا تھا۔ 
اگر آپ ایک دہائی اور پیچھے جائیں تو 2014ءمیں روس نے یوکرائن کے جزیرہ Crimea پر قبضہ کر کے اسے زبر دستی روس کا حصہ بنا دیا جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر صدر پیوٹن کے خلاف انٹرنیشنل کریمینل کورٹ نے ان کا وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھا ہے۔ کریمیا کی 25 لاکھ آبادی کو زبردستی تبدیلی مذہب اور یوکرائنی زبانی ترک کر کے روسی زبان بولنے اور لکھنے پڑھنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ امریکا کی یوکرائن میں دلچسپی کی بڑی وجہ Rare Earth Mineral یا نایاب زمینی معدنیات ہیں جو کمپیوٹر موبائیل فون اور مہنگے الیکٹرانک اور خلائی ہارڈویئر بنانے میں استعمال ہوتی ہیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ یوکرائن معدنیات کے اس معاملے پر دستخط کرے جس کی رو سے ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی معدنیات نکالنے کی ذمہ داری امریکا کے ہاتھ آجائے گی اور امریکہ اور یوکرائن اس میں 50-50 کے حصہ دار ہوں گے ٹرمپ اعلانیہ کہتے ہیں کہ بائیڈن نے جو امریکی عوام کا 350 بلین بلا سوچے سمجھے یوکرائن کو دیا ہے ہم اس کی واپسی چاہتے ہیں۔ معدنیات کا معاہدہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ 
2022 میں روس کے یوکرائن پر حملے کی فوری وجہ یہ تھی کہ یوکرائن 32 رکنی مشترکہ دفاعی میں الائینس یعنی NATO کا ممبر نینا چاoتا تھا اور روس نے کہا تھا کہ وہ ایسا نہیں ہونے دے گا۔ دنیا بھر میں امن معاہدے کیلئے فریقین کو ایک دوسرے کو رعایتیں دینی پڑتی ہیں مگر روس نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے واپس نہیں کرے گا۔ یوکرائن کو نیٹو کی رکنیت نہیں لینے دلے گا اور کسی بھی دوسرے ملک کی فوج کو یوکرائن میں قدم نہیں رکھنے دے گا۔ دوسری طرف صدر زیلنسکی کہتے ہیں کہ ہمیں امریکا اس بات کی گارنٹی دے کہ روسی دوبارہ ہمارے اوپر حملہ نہیں کرے گا تو ہم جنگ بندی کیلئے تیار ہیں وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ یوکرائن کو نیٹو کی رکنیت دے دیں تو میں مستعفی ہونے کیلئے تیار ہوں۔ نیٹو رکنیت وہ یوکرائن کو روس سے بچانے کیلئے مانگتے ہیں لیکن ان کی کوئی نہیں سنتا۔ 
روسی صدر پیوٹن دنیا بھر کو اور خصوصاً صدر ٹرمپ کو ایک سبز باغ دکھارہے ہیں کے اگر یوکرائن روس جنگ بندی ہو جائے تو روس امریکہ کے باہر تخفیف اسلحہ کا معاہدہ کرے گا جس کی رو سے دونوں سپر پاورز اسلحہ کی دوڑ کے خاتمے اور 50 فیصد کمی کر دیں گے۔ ایک دفعہ 50 فیصد کمی کا معاہدہ ہو گیا تو پیوٹن کے مطابق چائنا پر بھی زور دیا جائے گا کہ وہ اس میں شامل ہو جائے تا کہ دنیا کو جنگوں سے محفوظ بنایا جاسکے۔ 
دلچسپ بات یہ ہے کہ 18 فروری کو امریکی اور روسی وزرائے خارجہ کی جو ملاقات سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہوئی تھی ان مذاکرات میں یوکرائن موجودہی نہیں تھا ۔ روس اور امریکہ نے یکطرفہ فیصلے کر لئے تھے۔ اس میں نیٹو کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔ یہ معاہدہ اگر ہو بھی جاتا ہے تو یوکرائن کی مشکلات اور خطرات پھر بھی بر قرار رہیں گے اور اس کی خود مختاری روسی من مانی کی محتاج ہوگی روس کا جب دل چاہے گا وہ کسی بھی وقت اس پر دوبارہ قبضہ کرلے گا۔ لیکن ٹرمپ بضد ہیں کہ معاہدہ ہوگا کیونکہ امریکا نے یوکرائن پر ”لمیاں رقماں خرچ کیتیاں نیں“ اور اب رقم واپسی کا وقت ہے۔ 

مزیدخبریں