اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تمام مطالبات سو فیصد پورے کر دیے ہیں، جس کے بعد اب دوبارہ ہڑتال کی کال دینا آزاد کشمیر میں منصفانہ انتخابات کو سبوتاژ کرنے اور حالات کو دانستہ طور پر بگاڑنے کی کوشش ہے۔
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے حکومتی اقدامات کی تفصیلات بتائیں کہ آزاد کشمیر میں اس وقت 3 روپے فی یونٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے، آٹے پر بھاری سبسیڈی نافذ ہے، محکموں کی تعداد 35 سے کم کر کے 22 کر دی گئی ہے اور گزشتہ احتجاج کے تمام برطرف ملازمین بحال اور ایف آئی آرز ختم کی جا چکی ہیں۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اب مہاجرین کی آئینی نشستیں ختم کرنے کا غیر قانونی مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ 12 لوگ بند کمرے میں بیٹھ کر مہاجرین کے حقوق ختم نہیں کر سکتے اور عدالت بھی اس اقدام کو قانون سازی کے بغیر کالعدم قرار دے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو ہڑتال 10 روز مؤخر کرنے کی درخواست اور مختلف آئینی آپشنز دیے گئے تھے، مگر وہ ہڑتال پر بضد رہے۔
اس موقع پر سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی جنرل بخشی نے اس عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت کی ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس افراتفری اور ڈنڈے و پستول کے زور پر مطالبات منوانے کے پیچھے کس کا بیانیہ کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کا معاملہ بنیادی انسانی حقوق کا ہے اور کسی کو بھی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے یا معصوم جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔