برلن:افغانستان میں برسرِاقتدار طالبان رجیم نے بین الاقوامی سطح پر سفارتی تسلیمیت حاصل کرنے کے لیے ایک نیا پتا کھیلتے ہوئے جرمنی سے اپنے ہی شہریوں کو واپس لینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ طالبان کے اس سخت مؤقف کے بعد جرمنی سے افغان باشندوں کو کابل منتقل کرنے والی خصوصی پرواز منسوخ کر دی گئی ہے۔
جرمن نیوز ایجنسی 'ڈی پی اے' نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جرمن حکام کی جانب سے افغان شہریوں کی بے دخلی کے تمام انتظامات مکمل تھے، لیکن کابل انتظامیہ کے عدم تعاون کے باعث فلائٹ آپریشن معطل کرنا پڑا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کا یہ انکار ایک گہری سفارتی چال کا حصہ ہے۔ طالبان رجیم کی اصل دلچسپی اس وقت جرمنی میں قائم افغان سفارت خانے اور قونصل خانوں کا انتظامی کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ کابل حکومت چاہتی ہے کہ جرمنی ان کے نامزد کردہ سفارت کاروں کو قبول کرے، اور اسی مقصد کے لیے وہ اپنے ڈی پورٹ ہونے والے شہریوں کی واپسی کو جرمن حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے بطورِ ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔