ریاستوں کی تاریخ میں بعض ادوار ایسے آتے ہیں جب حالات، قیادت اور عالمی تقاضے ایک ہی نقطے پر آکر جمع ہو جاتے ہیں۔ انہی لمحات میں قوموں کی سمت متعین ہوتی ہے، حکمرانوں کی صلاحیت آزمائی جاتی ہے اور طاقت کے اصل مراکز اپنی حکمت عملی سے تاریخ کے دھارے موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا کی بڑی سیاسی و عسکری شخصیات کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ محض عہدہ، اختیار یا طاقت کسی کو تاریخ کا مرکزی کردار نہیں بناتے بلکہ اصل فیصلہ کن عنصر وہ بصیرت، تدبر اور بروقت فیصلہ سازی ہوتی ہے جو غیرمعمولی حالات میں اپنی تاثیر دکھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افراد زمانے کے ہجوم میں گم ہوجاتے ہیں جبکہ بعض شخصیات بحرانوں کے گردوغبار سے ابھر کر ریاستی استحکام اور عالمی سیاست کی علامت بن جاتی ہیں۔
عالمی سیاست کا حالیہ منظرنامہ بھی اسی نوع کی تبدیلیوں سے عبارت ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، غزہ کی جنگ، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال، عالمی معیشت پر منڈلاتے خطرات اور بڑی طاقتوں کے باہمی مفادات نے ایک نئے سفارتی توازن کو جنم دیا ہے۔ ان پیچیدہ حالات میں پاکستان کا نام ایک بار پھر بین الاقوامی سفارت کاری میں نمایاں ہونا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ خطے کی جغرافیائی اہمیت اب بھی غیرمعمولی حیثیت رکھتی ہے۔ چند برس قبل تک جس پاکستان کو سیاسی انتشار، معاشی بدحالی اور سلامتی کے بحرانوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، آج اسی ریاست کا کردار علاقائی استحکام اور حساس سفارتی رابطوں میں زیرِ بحث ہے۔ یہ تبدیلی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی حکمتِ عملی کا نتیجہ دکھائی دیتی ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عسکری قیادت اسی تناظر میں غیرمعمولی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ ان کے منصب سنبھالنے کے وقت ملک داخلی خلفشار، دہشت گردی، معاشی ابتری اور شدید سیاسی تقسیم کا شکار تھا۔ ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور پڑ چکا تھا جبکہ بیرونی دنیا بھی پاکستان کو غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں دیکھ رہی تھی۔ ایسے ماحول میں عسکری قیادت کے لیے سب سے بڑا چیلنج صرف سرحدی سلامتی نہیں بلکہ ریاستی اعتماد کی بحالی بھی تھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں عسکری ادارے نے نسبتاً خاموش مگر نتیجہ خیز حکمتِ عملی اختیار کی۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی شدت، سرحدی نگرانی کا ازسرِنو نظام، علاقائی روابط میں توازن اور عالمی طاقتوں کے ساتھ محتاط سفارتی ہم آہنگی نے بتدریج پاکستان کے تاثر کو تبدیل کرنا شروع کیا۔
ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمت میں پاکستان کے کردار سے متعلق عالمی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی اطلاعات اسی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں۔ اگر واقعی اسلام آباد نے پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں معاونت کی ہے تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم پیش رفت تصور ہوگی۔ اس عمل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی براہِ راست مشاورت اور اعلیٰ سطحی رابطوں میں شرکت اس امر کو واضح کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کی عسکری قیادت کو خطے کے ایک مو¿ثر اور قابلِ اعتماد فریق کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں اعتماد محض عسکری قوت سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے استحکام، تسلسل اور حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے، اور بظاہر پاکستان نے حالیہ عرصے میں یہی تاثر دینے کی کوشش کی ہے۔
تاہم ریاستی کامیابیوں کا دوسرا رخ داخلی صورتحال سے جڑا ہوا ہے، اور یہی وہ پہلو ہے جہاں پاکستانی حکمرانی کو شدید سوالات کا سامنا ہے۔ ایک طرف عالمی سفارتی حلقوں میں پاکستان کے کردار کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، دوسری طرف عام شہری مہنگائی، بے روزگاری، توانائی بحران، ٹیکسوں کے بوجھ اور معاشی بے یقینی سے نبرد آزما ہے۔ حکومتی سطح پر استحکام کے دعوے اپنی جگہ، مگر عوامی سطح پر اضطراب مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہی تضاد اس وقت پاکستان کے سیاسی و سماجی منظرنامے کا سب سے نمایاں مسئلہ بن چکا ہے۔ ریاست اگر عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوانے میں کامیاب بھی ہوجائے لیکن داخلی سطح پر عوامی مشکلات کم نہ ہوں تو ایسی کامیابیاں دیرپا سیاسی اطمینان پیدا نہیں کرتیں۔
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قسمت ہمیشہ ایک جیسی مہربان نہیں رہتی۔ حالات کا موافق ہونا ایک نعمت ضرور ہے، لیکن اسے پائیدار قومی کامیابی میں تبدیل کرنا قیادت کی اصل آزمائش ہوتی ہے۔ نپولین، صلاح الدین ایوبی اور قائداعظم محمد علی جناح جیسے کردار اس لیے تاریخ میں زندہ ہیں کہ انہوں نے وقت کے تقاضوں کو محض سمجھا نہیں بلکہ انہیں ایک بڑے قومی مقصد میں ڈھال دیا۔ آج پاکستان بھی ایک ایسے ہی موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں ریاستی استحکام، سفارتی کامیابیاں اور عسکری اعتماد ایک نئی سمت متعین کرسکتے ہیں، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ داخلی نظم و نسق، معاشی بحالی اور عوامی فلاح کو بھی اسی سنجیدگی کے ساتھ ترجیح دی جائے۔
اگر عالمی سطح پر حاصل ہونے والی حالیہ اہمیت کو قومی معیشت کی مضبوطی، ادارہ جاتی استحکام اور عوامی خوشحالی میں تبدیل نہ کیا جاسکا تو یہ موقع بھی ماضی کے کئی ضائع شدہ امکانات کی طرح تاریخ کے صفحات میں تحلیل ہوسکتا ہے۔ ریاستوں کی عظمت صرف عالمی کانفرنسوں، سفارتی بیانات یا عسکری طاقت سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ ان کے عوام خود کو کتنا محفوظ، باوقار اور پرامید محسوس کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے اصل امتحان اب یہی ہے۔
وقت کا نیا سکندر
09:12 AM, 7 Jun, 2026