گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے لیے آج پولنگ ہورہی ہے اور کچھ گھنٹوں میں گلگت بلتستان میں حکومت کا فیصلہ ہوجائے گا ۔ان انتخابات میں پاکستان میں موجود تمام بڑی پارٹیاں حصہ لے رہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ آزاد امیدوارو ں کی ایک بہت بڑی تعداد میدان میں ہے ۔آزاد امیدواروں کا بہت بڑی تعداد میں الیکشن میں حصہ لینا بلتستان کے عوام کا اس انتخابی عمل پر بھرپور اعتماد کا مظہر ہے ۔تین سو کے قریب آزاد امیدواروں کی موجودگی پارلیمانی نظام میں عوام کی حصہ داری کو ظاہر کرتی ہے۔جمعہ کی رات ختم ہونے والی انتخابی مہم کے دوران بھی یہاں سیاسی جماعتوں نے بھرپور مہم چلائی ۔لوگوں کو راغب کرنے کے لیے اپنا منشور اور پروگرام لوگوں کے سامنے رکھا ،وہیں آزاد امیدواروں نے بھی اپنے اپنے حلقوں میں ووٹرزکو قائل کرنے کے لیے محنت کی ۔
گلگت بلتستان میں شرح خواندگی کافی بلند ہے ۔لوگ پرامن اور باشعور ہیں وہ سیاسی عمل میں بڑھ چڑھ کر آگے آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آزاد امیدواروں نے بہت بڑی تعداد میں آج کے انتخابی عمل میں حصہ لیا ہے ۔گلگت میں جب سے موجودہ اسمبلی وجود میں آئی ہے یہ چوتھا الیکشن ہے ۔دوہزار نو سے شرو ع ہونے والا یہ پارلیمانی انتخابات کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔اب سوال ہے کہ آج کا الیکشن کون جیتے گا ؟اس کا تجزیہ تاریخی تناظر میں کیا جاسکتا ہے۔ گلگت ہو یا کشمیر اس میں تاریخی اعتبار سے حکومت اسی پارٹی کی بنتی آرہی ہے جس کی مرکز میں حکومت ہوتی ہے ۔دوہزار نو میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی تو پیپلزپارٹی نے موجودہ سسٹم گلگت میں لاگو کیا اس کو صوبائی طرز پر خود مختاری دی گئی ۔وہاں ایک پارلیمانی نظام متعارف کروایاجس کو” گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈیننس“ کا نام دیا گیا ۔قمر زمان کائرہ کو قائم مقام گورنر لگایاگیا۔بلتستان اسمبلی 33ارکان پر مشتمل ہے 24جنرل نشستیں ہیں جن پر براہ راست آج پولنگ ہورہی ہے ۔تیرہ نشستیں جیتنے والا حکومت بنانے کا اہل ہوجاتا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ چھ خواتین اور تین ٹیکنوکریٹس کی مخصوص نشستیں ہیں۔ جی بی کی اسی طرح پاکستان کی پارلیمنٹ میں کوئی نمائندگی نہیں ہے جس طرح کشمیر کی نہیں کی کیونکہ دونوں علاقوں کا اسٹیٹس ایک جیسا ہی ہے جو آزادبھی ہیں اور خود مختار بھی اور مکمل صوبائی خود مختاری اس لیے ممکن نہیں کیونکہ بین الاقوامی قیود موجود ہیں جن کو نہ ماننے سے ہمارا مقبوضہ کشمیر کا کیس کمزور ہوجائے گا۔
دوہزار نو میں بلتستان میں موجودہ نظام لانے کے بعد الیکشن کروائے تو گلگت بلتستان میں پہلی حکومت پیپلزپارٹی کی قائم ہوگئی ۔ پیپلزپارٹی نے چوبیس میں سے بارہ جنرل نشستوں پر کامیابی حاصل کی ۔مسلم لیگ ن کو دو نشستیں ملیں ۔جبکہ ایم کیوایم کی بھی ایک نشست تھی ۔اس حکومت نے جب مدت پوری کی تو وفاق میں حکومت بدل کر مسلم لیگ برسراقتدار آچکی تھی ۔اس کے بعد اگلاالیکشن 2015میں ہوا جب مرکز میں مسلم لیگ ن حکمران تھی تو گلگت کا الیکشن بھی اسی کے نام رہا۔اس الیکشن میں پوزیشن یکسر بدل گئی اور پاکستان پیپلزپارٹی جو حکمران جماعت تھی وہ صرف ایک نشست تک محدود ہوگئی اور مسلم لیگ ن جس نے گزشتہ انتخابات میں دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی وہ دوہزار پندرہ کے الیکشن میں پندرہ نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آگئی یوں گلگت میں مسلم لیگ ن کی حکومت بن گئی ۔پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک یکسر ختم اور ن لیگ کا یکسر بڑھ گیا کیونکہ وفاق میں حکومت بدل چکی تھی ۔اگلا الیکشن دوہزار بیس میں ہوا تو پاکستان میں حکومت پھر بدل چکی تھی ۔اس وقت پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت تھی اور عمران خان وزیراعظم تھے ۔گلگت میں الیکشن ہوئے تو گزشتہ دونوں ادوار میں جس پارٹی یعنی پی ٹی آئی کا گلگت میں وسیع پیمانے پروجود تک نہیں تھا اسمبلی میں صرف ایک سیٹ تھی وہ پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آگئی ۔اس جماعت کا سیاسی ڈھانچہ پاکستان میں حکومت بننے کے ساتھ ہی تیار ہوا اور الیکشن میں پی ٹی آئی چوبیس میں سے سولہ نشستیں جیت گئی ۔ نتائج حسب معمول ویسے ہی آئے کہ یہاں پی ٹی آئی حکومت میں آئی وہیں سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن صرف دو نشستوں تک محدود ہوگئی ۔پیپلزپارٹی کو تین نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ۔
یہ تین ادوار کی تاریخ اور ووٹرز کا رجحان ہے۔ پاکستان کی تینوں بڑی پارٹیوں کی حکومت گلگت میں اپنے اپنے دورمیں بن چکی ہے ۔اس بار بھی یہی تین جماعتیں میدان میں ہیں اور تینوں ہی جماعتوں نے بھرپور انتخابی مہم چلائی ہے ۔پی ٹی آئی نے حسب معلوم” لیول پلینگ فیلڈ“ نہ ملنے کے الزامات لگائے۔ ”لیول پلینگ فیلڈ“ اب اسی طرح پی ٹی آئی کا انتخابی نعرہ بن چکا ہے جس طرح روٹی کپڑا اور مکان پیپلزپارٹی کا اور ترقی مسلم لیگ ن کا انتخابی نعرہ ہے۔پی ٹی آئی کا ”لیول پلینگ فیلڈ“ والا نعرہ ویسا ہی ہے جس طرح سات بچے پیدا کرنے کے بعد کوئی یہ کہتا سنائی دے کہ اس کو سچا پیار نہیں ملا ۔کیونکہ پوری پی ٹی آئی گلگت میں انتخابی مہم چلانے کے لیے موجود رہی آج بھی ان کے نمائندے پولنگ کے دوران موجود ہیں ۔اس سے بڑا اور کس نے وہاں جانا تھا جب پارٹی کے چیئر مین ہمیں الیکشن مہم چلاتے دکھائی دیے ۔بیرسٹر گوہر نے وہاں ویسے ہی جلسے کیے جیسے بلاول بھٹو اور خواجہ سعد رفیق نے کیے۔ بیرسٹر گوہر نے روڈ شوز بھی کیے اور ریلیاں بھی نکالیں اس کے باوجود بھی ” لیول پلینگ فیلڈ“ نہ ملنے کی باتیں محض سچا پیار نہ ملنے والی کہانی ہی سمجھی جائے گی ۔
بلتستان میں ووٹرز کی تعدادساڑھے نولاکھ سے کچھ زیاد ہ ہے اور تینوں ادوار کی تاریخ دیکھتے ہوئے ہم یہ تجزیہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ گلگت میں کسی بھی سیاسی جماعت کو کوئی مستقل ووٹ بینک ایسا موجود نہیں جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ مرکز میں کسی دوسری پارٹی کی حکومت کے باوجود گلگت میں کوئی خاص جماعت حکومت بناسکتی ہے ۔دوہزار نو سے اب تک جیسے جیسے اسلام آباد میں حکومت بدلتی رہی ویسے ویسے گلگت میں ووٹرز کا رجحان تبدیل ہوتا رہا۔اگر پندرہ سال سے ایک ٹرینڈچلا آرہا ہے تویہ سوال اہم ہے کہ اس بار یہ رجحان کیوں برقرار نہیں رہے گا؟۔
یہ رجحان برقرار رہنے کے تمام تر شواہد اور لوگوں کی دلچسپی بھی گلگت کی ترقی میں ہے ۔ جعلی بیانیے اور جھوٹے نعرے گلگت کے عوام نہیں خریدتے ان کو معلوم ہے کہ ایسی کسی پارٹی کو ووٹ دینے کا کیا فائدہ جو ان کی کوئی مدد ہی نہ کرسکے ؟ کیونکہ گلگت ہو یا کشمیر اس کا سارا بجٹ وفاقی حکومت نے دینا ہوتا ہے ۔اس پر درست غلط کی بحث ہوسکتی ہے لیکن موجودہ حقیقت یہی ہے ۔اس لیے ہم بھی اسی حقیقت کے ساتھ چلتے ہیں ۔ویسے بھی مسلم لیگ ن واحد پارٹی ہے جس نے گلگت میں ترقیاتی ایجنڈے پر مہم چلائی اور لوگوں سے سوال کیا کہ وہ گلگت کو لاہور بنانا چاہتے ہیں یا کراچی ؟ یہ سوال ویسے کسی سے بھی کیا جائے گا تو جواب یہی آئے گا کہ لاہور لاہور اے ۔
لہور لہور اے ....!
09:11 AM, 7 Jun, 2026