بھارتی مسلح افواج کے سربراہ کی تعیناتی پر بداعتمادی

09:09 AM, 7 Jun, 2026

بھارت کے نو منتخب چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل این ایس راجہ سبرامنی کی تعیناتی بھارتی مسلح افواج میں کسی قسم کی خوشگوار تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے۔ سی ڈی ایس کے مسلح افواج کے سربراہ کے طور تعیناتی فوجی افسران کے مابین ناپسندیدگی کی وجہ بن گئی ہے۔ فوج کا مزاج دنیا بھر میں یکساں ہے۔ اور برصغیر پاک و ہند میں فوج نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے بھارت میں چیف آف ڈیفنس سٹاف (سی ڈی ایس) کے عہدے پر ایک ریٹائرڈ فوجی جنرل کی تعیناتی کو پذیرائی نہیں مل رہی ہے۔ 
بھارتی فوجی افسر کھلم کھلا کہ رہے ہیں کہ تینوں افواج بری، بحری اور فضائیہ کا سربراہ عہدے میں سب سے طاقتور اور سینیئر افسر ہوتا ہے۔ مگر یہاں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سینیر ترین جرنیلوں کو نظر انداز کیا گیا ہے اور یہ ایسا فیصلہ سیاسی وابستگی کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ بعض فوجی افسران چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل این ایس راجہ سبرامنی کے فوجی وردی پہننے پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ بھارتی فوجی جرنیلز سی ڈی ایس کے لئے سینیئر ترین جنرلز کو سپر سیڈ کرنے پر ناراض ہیں۔ 
ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل جس کو ریٹائر ہوئے ایک سال مکمل ہو گیا ہو اسے چیف آف ڈیفنس سٹاف بنا دیا گیا ہے۔ یعنی ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ نوکری وہ بھی وردی اور ترقی کے ساتھ۔ تھری سٹار ریٹائرڈ جنرل کو فور سٹار سی ڈی ایس بنایا گیا یے۔ دوسری جانب بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ اس عہدے پر جنرل این ایس راجہ سبرامنی افواج کی اسٹراجیک کمزوری کو دور کرنے کے لئے کردار ادا کریں گے۔ اس سے قبل وہ نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکرٹریٹ میں ملٹری ایڈوائزر کے عہدے پر تعینات تھے۔ 
بھارت کے سب سے پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت تھے۔ جنہیں سال 2020 میں تعینات کیا گیا تھا جو 2021 میں تامل ناڈو ہیلی کاپٹر کریش میں جاں بحق ہونے تک سی ڈی ایس تھے۔ جنرل بپن راوت کو آرمی چیف کے عہدے پر ترقی ملتے وقت بھی اس وقت کے دو سینیئر جنرلز کو سپر سیڈ کیا گیا تھا۔ 
جنرل انیل چوہان مسلح افواج کے دوسرے چیف آف ڈیفنس سٹاف تھے۔ جنرل انیل چوہان کو سال 2022 میں ریٹائرمنٹ سے واپس بلایا گیا اور سی ڈی ایس مقرر کیا گیا۔ جنرل انیل چوہان بھارتی فوج کے پہلے تھری سٹار جنرل تھے جنہیں چیف آف ڈیفنس سٹاف کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ سی ڈی ایس جنرل انیل چوہان کو ستمبر 2025 میں آٹھ ماہ کی توسیع بھی دی گئی تھی۔ جو 30 مئی 2026 کو انکی ریٹائرمنٹ پر ختم ہوئی۔ 
بھارت میں سال 1999 میں کارگل ری ویو کمیٹی نے دفاعی نظام میں اصلاحات کی سفارش کی تھی 2001 میں ایک نئے انتظامی عہدے کیلئے سیاسی جماعتوں سے روابط کئے مگر اس پر بیس سال یعنی دو دہائیوں تک اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔ ملکی مفاد اور دفاعی قوت بڑھانے کے پیچیدہ مسئلے پر بھی بھارت میں سیاسی اتفاق رائے قائم نہ ہونا تشویش ناک عمل ہے۔ 
بھارتی فوجی افسران نے جنرل این ایس راجہ سبرامنی کے ماتحت مسلح افواج بری، بحری اور فضائیہ کے چیفس کے رول کو نامناسب قرار دیا ہے۔ تینوں افواج کے سربراہان اب ایک ریٹائرڈ جنرل کے ماتحت ورکنگ ریلیشن بحال رکھنے کے پابند ہوں گے۔
پاکستانی افواج میں جنرل عاصم منیر ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے پر خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ اور اس تعیناتی پر افواج سمیت پوری قوم کو مکمل اعتماد حاصل ہے۔ جبکہ بھارتی افواج میں تیسرا چیف آف ڈیفنس سٹاف تعینات کیا گیا ہے۔ جسے وردی، یونٹ اور سیاسی وابستگی سے جوڑا جا رہا ہے۔ 
حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسا فیصلہ بھارتی حکومت نے کیوں کیا۔ ایک ایسے وقت میں جب بھارتی فورسز میں جدت اور ٹیکنالوجیکل اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ اس نازک دور میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ایک ریٹائرڈ فوجی جنرل کو بری، بحری اور فضائیہ افواج پر مسلط کیا گیا یے۔ جس سے فوج میں مزید بد اعتمادی کا خدشہ ہے۔ جس انداز میں سی ڈی ایس کی تعیناتی کی گئی ہے یہ بھارتی افواج کے اعتماد کی عکاسی نہیں کرتا۔ کیونکہ یہ پوزیشن فوجی عہدے کے بجائے سیاسی اور بیوروکریٹک سسٹم کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو بھارتی مسلح افواج کو ناقابل قبول ہے۔

مزیدخبریں