واشنگٹن: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی تخریبی سرگرمیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔
واشنگٹن میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے، تاہم بھارت کی جانب سے جارحانہ پالیسیاں اور مداخلت آمیز رویہ خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارتی نیول افسر کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت ریاستی سطح پر پاکستان کے اندر دہشت گردی کی معاونت کر رہا ہے۔ انہوں نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، اور 24 کروڑ پاکستانیوں کو پانی سے محروم کرنے کی کوشش ایک سنگین انسانی اور قانونی خلاف ورزی ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے واضح کیا کہ کوئی ملک یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کر سکتا۔ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی خلاف ورزی عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے انکشاف کیا کہ ماضی میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان نے بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرائے، جبکہ مزید 20 طیارے نشانے پر تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی کے باوجود ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور جنگ کی شدت کو کم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کشیدہ صورتحال میں اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کا مؤثر کردار ادا کیا۔ بلاول نے بھارتی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے کشیدگی کے دوران جھوٹا پروپیگنڈا پھیلایا، جبکہ پاکستان نے تحمل اور تدبر سے کام لیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے، تاہم مذاکرات صرف باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر ہی ممکن ہیں۔