دنیا بھر میں عید کی خوشیاں، مگر مقبوضہ کشمیر میں عبادت پر پابندیاں برقرار

11:50 AM, 7 Jun, 2025

سرینگر : پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے، لیکن مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے یہ خوشی ادھوری رہی۔ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں مسلسل ساتویں سال بھی عید کی نماز کی اجازت نہیں دی گئی۔

حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے اس صورتحال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر کشمیریوں کو ان کے بنیادی مذہبی حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ جامع مسجد بند ہے، عیدگاہ میں نماز نہیں پڑھنے دی گئی، اور انہیں خود بھی گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ ایک مسلم اکثریتی خطے میں، جہاں عید جیسے اہم موقع پر عبادت کی اجازت ہونی چاہیے، وہاں جان بوجھ کر مذہبی رسومات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خاموش رہنے والے حلقوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جو لوگ کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے ظلم پر خاموش ہیں، وہ بھی اس ناانصافی کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے جامع مسجد سمیت کئی مذہبی مقامات پر سخت پابندیاں عائد ہیں، جس سے کشمیریوں کی مذہبی آزادی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس رویے کو کشمیری عوام اپنی شناخت اور ثقافت پر حملہ قرار دیتے ہیں۔

مزیدخبریں