خاموشی میں لپٹی ہوئی عید

09:53 AM, 7 Jun, 2025

کچھ جذبے ایسے ہوتے ہیں جو نہ بیان کیے جا سکتے ہیں، نہ مکمل سمجھے جا سکتے ہیں۔ وہ صرف محسوس کیے جاتے ہیں.... خاموشی سے، تنہائی میں، روح کے گہرے دریچوں میں۔ روحانی رغبت ایسا ہی ایک جذبہ ہے، جو بظاہر خاموش، لیکن باطن میں پکار ہوتا ہے۔ یہ تعلق کا وہ زاویہ ہے جس میں لفظوں کی گنجائش نہیں ہوتی، اور جواب کی امید نہیں کی جاتی۔
روحانی رغبت ایک ایسا لطیف احساس ہے جو کسی خاص چہرے، آواز یا وجود سے وابستہ ہو جاتا ہے، بغیر کسی دنیاوی دعوے یا ظاہری تعلق کے۔ یہ نہ دوستی مانگتا ہے، نہ محبت کا نام، نہ رشتہ، نہ وعدہ۔ بس ایک خاموش کشش ہوتی ہے، جو دل کو کسی ایک طرف کھینچتی ہے .... ایسے جیسے کسی ان دیکھے مرکز کی طرف اَن دیکھی کشش ہو۔بعض اوقات یہ رغبت یک طرفہ ہوتی ہے، اور شاید یہی اس کی معراج بھی ہے۔ دنیا کے تعلقات میں تو بدلے کی تمنا ہوتی ہے، اظہار کی ضرورت، موجودگی کی طلب، لیکن روحانی رغبت میں صرف دینے کا جذبہ ہوتا ہے۔ ایسا خالص جذبہ جو کسی مسکراہٹ میں سکون ڈھونڈتا ہے، کسی خاموشی میں اپنا جواب، اور کسی اور کے درد میں اپنا قرار۔
یہ وہ جذبہ ہے جو ہمیں اپنی ذات سے باہر نکال کر کسی اور کی طرف کھینچتا ہے .... بغیر کسی ظاہری اشارے کے۔ ہم اس کے الفاظ میں معنی ڈھونڈنے لگتے ہیں، ا±س کی موجودگی کو اپنی روشنی سمجھنے لگتے ہیں۔ اس کی خوشی، اس کی خیریت، اس کا سکون… سب کچھ ہمارے جذبات کا مرکز بن جاتا ہے۔ یہ کوئی عام کشش نہیں، یہ وہ لمس ہے جو بدن کو نہیں، صرف روح کو محسوس ہوتا ہے۔اور یہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو اس کے باطن سے روشناس کرواتا ہے۔ ایسی رغبت انسان کو تنہا کر سکتی ہے، مگر وہ تنہائی شکوہ نہیں بنتی۔ بلکہ وہ ایک خاموش عبادت جیسی ہوتی ہے .... ایک ایسی عبادت جس میں زبان بند اور دل سراپا ذکر ہوتا ہے۔ وہ تنہائی جہاں انسان خود سے باتیں کرتا ہے، اپنی کمزوریوں کو پہچانتا ہے، اور روح کے اس کرب سے گزرتا ہے جو شاید دو طرفہ تعلقات میں کبھی محسوس نہ ہو۔ یہی جذبہ ہمیں اس روحانی سچائی کی طرف لے جاتا ہے کہ ہر تعلق جسمانی نہیں ہوتا، ہر رشتہ نام کا محتاج نہیں ہوتا، اور ہر وابستگی کا اظہار ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ تعلق بس دل میں ہوتے ہیں.... خاموش، بے نام، مگر مکمل۔ایسا ہی ایک موقع آتا ہے عید کے دن، جب روح کے اندر کے یہ سب جذبے ایک ہی لمحے میں جاگ جاتے ہیں۔عید بظاہر خوشیوں کا دن ہے .... نئے کپڑے، مہندی، عطر، عیدی، دسترخوان، ہنسی، قہقہے، سلام، مصافحے۔ لیکن جو لوگ دل سے جیتے ہیں، ا±ن کے لیے عید صرف یہ سب نہیں۔ عید تو نام ہی دید کا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب دل ا±ن چہروں کو تلاش کرتا ہے جو ہماری زندگی کا حصہ تھے، یا ہیں۔ کبھی ماں کے گلے لگ کر عید بنتی ہے، کبھی باپ کے ہاتھ چومنے سے۔ کسی کے لیے دوست کی آواز عید ہے، کسی کے لیے بہن کی ہنسی۔ ہر کسی کی عید الگ، مگر ا±س کے پیچھے ایک ہی تلاش .... دید۔
لیکن جب یہ چہرے نظروں سے اوجھل ہو جائیں، جب ماں کی آواز صرف یادوں میں گونجے، جب ابو کے قدموں کی چاپ صرف دل میں باقی رہے .... تو عید یادوں کی آندھی بن جاتی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ ہر قہقہے کے پیچھے ایک سناٹا ہے، ہر ملاقات میں ایک کمی ہے، ہر مسکراہٹ کے نیچے ایک نمی ہے۔ جو دسترخوان کبھی مکمل ہوتے تھے، وہ اب کسی ایک خالی کرسی سے ادھورے لگتے ہیں۔ وہ کھڑکیاں، وہ دروازے جن سے وہ چہرے جھانکتے تھے، اب صرف بند رہتے ہیں .... خاموش، سنسان، بے جان۔عید کے دن جب سب تصویریں بنا رہے ہوتے ہیں، کچھ دل ایسے بھی ہوتے ہیں جو پرانی تصویریں چھپ کر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ وہ تصویریں جن میں وقت تھما ہوا ہوتا ہے، اور چہرے ہمیشہ کے لیے وہیں رک گئے ہوتے ہیں۔
ایسے لمحے میں روحانی رغبت کی ایک اور شکل سامنے آتی ہے .... وہ رغبت ا±ن لوگوں سے جو دنیا سے جا چکے ہوتے ہیں، مگر ہمارے دل میں زندہ ہوتے ہیں۔ ا±ن کے لیے دعائیں، ا±ن کی قبروں پر پڑھی جانے والی سورتیں، ان کی یاد میں نکلنے والا ایک آنسو .... سب کچھ ایک خاموش رابطہ ہوتا ہے۔
اور پھر عید صرف خوشی نہیں رہتی، وہ صبر بن جاتی ہے۔ وہ موقع، جب ہم اللہ سے مانگنے کے بجائے شکر ادا کرتے ہیں کہ کبھی وہ چہرے ہمارے پاس تھے۔ جب ہم دنیاوی خالی پن کو روحانی روشنی میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
عید کے دن یہ روحانی لمحے بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ وہ لمحے جب دل خود سے سوال کرتا ہے کہ کیا ہم نے ا±ن لوگوں کے ساتھ وقت گزارا جنہیں ہم نے ہمیشہ کے لیے کھو دیا؟ کیا ہم نے ا±ن کو “دید” دی جب وہ موجود تھے؟ کیا ہم نے ا±ن کو اپنی موجودگی کا احساس دلایا؟ اگر نہیں، تو اب ہمیں یہ موقع ا±ن کے لیے دعاو¿ں، صدقے، اور محبت کے ذریعے جینا ہے۔ اور اگر آپ کے پاس آج بھی وہ چہرے موجود ہیں .... ماں، باپ، بہن، بھائی، دوست.... تو ا±ن کے ساتھ وقت گزاریں۔ ا±ن کو گلے لگائیں، ا±ن کی آنکھوں میں دیکھیں، ا±ن کے سکون کو اپنا شکر بنائیں۔ کیونکہ وقت خاموشی سے سب چھین لیتا ہے، اور پھر صرف یادیں باقی رہ جاتی ہیں.... اور وہ ایک طرفہ روحانی رغبت۔
یہی روحانی رغبت بعض اوقات خدا کی طرف بھی ہو جاتی ہے۔ جو لوگ دنیاوی پیاروں کی دید سے محروم ہو جاتے ہیں، وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں .... اور شاید یہی ا±س جذبے کی معراج ہے۔ جب دنیا کے چہرے غائب ہو جاتے ہیں، تب ایک اور دید باقی رہتی ہے .... دیدِ الٰہی۔
تو اس عید پر، اگر آپ کو وہ چہرے نہ ملیں جن کی دید کی تمنا تھی، تو دل کو شکر سکھائیں۔ ا±ن کے لیے دعا کریں، ا±ن کی یاد کو عبادت بنا دیں۔ اور اگر کسی ایک چہرے سے کوئی روحانی رغبت ہو، کوئی خاموش محبت ہو، جو کبھی اظہار نہ ہو سکی .... تو ا±سے کمزوری نہ سمجھیں۔ وہ رغبت ایک نعمت ہے، ایک آئینہ ہے، جو آپ کو آپ کے باطن سے ملا رہی ہے۔
عید، دید، رغبت، تنہائی، دعا، یاد، اور شکر.... یہ سب ایک ہی دائرے کے جزو ہیں۔ جس دن ہم ان سب کو ایک ساتھ محسوس کر لیں، ا±سی دن ہمیں احساس ہو گا کہ عید تو نام ہی دید کا ہے… اور دید صرف آنکھوں کی نہیں، دل کی بھی ہوتی ہے۔

مزیدخبریں