حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظمت اور قربانی

09:51 AM, 7 Jun, 2025

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام بہت بلند ہے اُن کا لقب خلیل اللہ بھی ہے جس کا مطلب ہے اللہ کا خاص دوست ۔آپ نے زندگی بھر دعوتِ توحید کا سلسلہ جاری رکھااِ س دوران کسی قربانی سے دریغ نہ کیا تاریخ میںاللہ کی بندگی ،سچائی اور قربانی کی ایسی درخشندہ مثال بہت کم ملتی ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسے ماحول میں جنم لیا جب بت پرستی عام تھی اجتماعی عبادات کے لیے نہ صرف بڑے بڑے بت خانے تھے بلکہ خیر وبرکت کے لیے گھروں میں بھی لوگوں نے بت سجا رکھے تھے جن کی پوجا کی جاتی اور منتیں مانگی جاتیں حضرت براہیم کے والد آزرخود ایک ماہرپیشہ وربت تراش اور بت فروش تھے مگر حضرت ابرہیم علیہ السلام کیونکہ اللہ کے نبی تھے اِس لیے نہ کبھی شرک کیا اور نہ ہی بتوں کے آگے جھک کرکبھی تعظیم کی بلکہ بچپن سے ہی نورِ نبوت کی بدولت توحید کی روشنی پہچان گئے آپ نے جب اپنی قوم کو سمجھاناشروع کیا کہ یہ بے جان بت جو نہ سُن سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں اور نہ نفع نقصان کا باعث بن سکتے ہیں تو تم اپنے ہاتھوںسے بنائے اِن بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو؟آپ کی دلیل اور حکمت والی باتوں کا کسی کے پاس جواب نہ ہوتاآپ اِس طرح چاہتے تھے کہ قوم خود سوچ سمجھ کر حق قبول کرلے مگر لوگ کہتے ہم اپنے باپ داداکے بتائے طریقے کوصرف آپ کے لیے نہیں چھوڑ سکتے ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب بے باکی سے حق گوئی کا آغاز کیا تو ابتدامیں اپنے والدکونرمی اور شائستگی سے سمجھایا کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں اور بتوں کی پرستش شرک ہے صرف اللہ کی عبادت کریں جو ہر چیز پر قادر ہے زندگی اور موت بھی اُسی کے اختیارمیں مگر والد نے بھی انکار کر دیا آپ مایوس نہ ہوئے اور مسلسل دعوتِ توحید دیتے رہے جہاں بھی موقعہ ملتا آپ معبودِ برحق کی طرف لوگوں کو بلاتے لیکن قوم آپ کی بات ماننے پر آمادہ نہ ہوئی حالانکہ آپ کی پاکیزگی ،راست گوئی اور سچائی کے سبھی معترف تھے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مسلسل تبلیغ کا عمل جاری رکھا تو قوم آپ کے خلاف ہوتی گئی آپ کے والدسے آپ کے متعلق کو شکایات کی جاتیں پھربھی دعوتِ توحید پر ثابت قدم دیکھا تو لوگ انھیں بستی سے نکالنے اور سزا دینے کے طریقے سوچنے لگے ایک روز جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم شہر سے باہر تہوار پر گئی ہوئی تھی تو آپ نے بت خانے میں داخل ہوکر بتوں کو توڑ دیااور بڑے بت کے کندھے پر کلہاڑارکھ دیا جب لوگ واپس آئے اور بت خانے میں توڑپھوڑ دیکھی تو آگ بگولا ہو گئے اور شورمچانے لگے کہ ذمہ دار کو عبرت ناک سزا دی جائے گی کیونکہ آپ دیگر لوگوں کی طرح جانے کی بجائے رُک گئے تھے اسی بناپر شک کیا گیا کہ ہو نہ ہو یہ سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کا کیا دھرا ہے لوگوں نے جب دریافت کیا کہ اے ابراہیم کیا تو نے ہمارے خداﺅں کو توڑا ہے ؟ تو آپ کا جواب تھا کہ اسی بڑے بت سے پوچھو جس کے کندھے پر کلہاڑا ہے اِس جواب نے لوگوں کو لاجواب کر دیا کچھ لوگوں نے جب کہا کہ یہ بت نہ بول سکتا ہے نہ سن سکتا اور نہ ہی حرکت کر سکتا ہے تو یہ بھلا کیسے یہ سب کچھ سکتا ہے؟جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ جو اپنی حفاظت کرنے سے قاصرہیں اور سننے ،بولنے اور حرکت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ تمہاری حاجت روائی کیسے کر سکتے ہیں ؟اب بھی وقت ہے دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے توحید پر ایمان لے آﺅ لیکن کوئی ایمان نہ لایا بلکہ لوگوں نے شدتِ طیش میں آکر آپ کوایسی سزا دینے کا فیصلہ کرلیا جس کے بعد کوئی بھی بتوں کی بے حرمتی کے بارے سوچ بھی نہ سکے۔ سزادینے کے مختلف طریقوں پر طویل غوروخوض کے بعدبت پرستوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نذرِ آتش کرنے پر اتفاق کر لیا اِس مقصد کے لیے ایک میدان میں لکڑیوں کا ڈھیر لگاکر آگ لگائی اور منجیق کے ذریعے اللہ کے بنی کو آگ میں پھینک دیا اِس آزمائش میں بھی حضرت ابراہیم ثابت قدم رہے اور مسلسل لوگوں کو دعوت ِ توحید دیتے رہے آپ ابھی منجیق میں ہی تھے اور آگ سے دور کہ اللہ کا حکم آگیا اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی والی بن جا ۔اِس معجزے کے زریعے یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ اللہ کبھی اپنے سچے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا بلکہ دستگیری فرماتا ہے۔
 قوم کی مسلسل نافرمانی کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مصر،شام اور مکہ مکرمہ کی طرف ہجرت فرمائی اورہر جگہ اللہ کی واحدنیت کا پیغام پہنچاتے رہے یہ دعوت زبان کے ساتھ کردار و عمل سے بھی تھی آپ کو اللہ رب العزت نے بڑھاپے میں حضرت اسماعیل کی صورت میں فرزند عطا فرمایاجو آپ کوازحد عزیز اور پیارے تھے مگر ابھی ایک اور امتحان تھا ایک شب آپ نے خواب دیکھا کہ آپ اپنے پیارے بیٹے کو اللہ کی رضا میں قربان کررہے ہیں اِس خواب نے آپ کو پریشان کردیا جب اپنے فرزند کوخواب کے متعلق بتایاتو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا اے والدِ محترم آپ کو جو حکم ہوا ہے اُس پر عمل کریں انشااللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے لختِ جگر کو زمین پر لٹاکر آنکھوں پر پٹی باندھی اور چھری چلادی تواللہ کے حکم سے جنت سے ایک مینڈھا آیا اور ذبح ہو گیا اِس طرح اللہ کی رضا پر راضی رہنے اور صبر کرنے پر حضرت اسماعیل علیہ السلام کوآنچ تک نہ آئی اللہ نے اِس تابعداری پر فرمایا اے ابراہیم تو نے خواب سچ کر دکھایا اسی واقعہ کی یادمیں حجاج عید الاضحیٰ پر قربانی کرتے ہیں اپنے نبی کی اداخالقِ کائنات کو اتنی پیاری لگی کہ حج کا لازمی حصہ بنا دیا۔
اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعلیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیرکی اور یہ دعافرمائی کہ اے اللہ ہماری یہ خدمت قبول فرما اور ہماری نسل سے ایک ایسی اُمت پیدافرما جو تیری بندگی کرے اللہ نے یہ دعاقبول فرمائی ہمارے پیارے نبی آخر الزماں اسی دعاکے نتیجے میں معبوث ہوئے یہ اللہ کا ہم پر وہ احسان ہے جس کے لیے جتنی بھی شکرگزاری کی جائے کم ہے آئیے دعا کریں اے اللہ ہم آج حج پر نہیں جا سکے لیکن تیرے خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں ہماری عبادات قبول فرما اور حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کی توفیق دے آمین بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

مزیدخبریں