آج ہم عیدالاضحیٰ منا رہے ہیں، عید قرباں، ایثار اور قربانی کا درس دیتی ہوئی عیدالاضحیٰ بنیادی طور پر ابراہیم علیہ السلام کے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو حکم ربی کے تحت قربان کرنے کے واقعہ کی یاد ہے۔ ابراہیم ؑ کو اللہ نے 90سال کی عمر میں ایک بیٹا عطاءکیا۔ وہ جب تھوڑا سا بڑا ہوا تو ابراہیمؑ کو الہام ہوا کہ اللہ رب العزت، اس بیٹے کی قربانی مانگتا ہے۔ آپ نے اپنے فرزند سے اس کا ذکر کیا۔ اسماعیلؑ خوشی خوشی اپنے باپ کے خواب کے ذریعے ملے حکم ربی کو حقیقت کا روپ دینے پر تیار ہو گئے۔ باپ، بیٹے کو لٹا کر چھری چلانے لگا تو چھری کے نیچے مینڈھا آ گیا اور آواز آئی کہ ابراہیمؑ تیری قربانی قبول کر لی گئی ہے۔ اللہ رب العزت نے ابراہیمؑ کو جد الانبیاءبنایا، اپنا دوست قرار دیا۔ اسماعیلؑ کی نسل سے امت وسط اٹھائی، عالمگیر پیغام کے ذریعے امت محمدی کو پوری دنیا میں پھیلایا اور اسماعیلؑ کی اولاد میں سے آخری نبی محمد عربیﷺ کو مبعوث فرمایا۔ محمد عربی کو تمام انبیاءپر فضیلت دی اور پیغام محمد کو حتمی اور آخری قرار دے کر قیامت تک کے لئے معتبر اور محترم بنا دیا۔ یہ اللہ کا انعام ہے، قربانی دینے والے باپ، ابراہیم علیہ الصلوٰة و سلام کا اور یہ انعام ہے قربان ہونے والے بیٹے اسماعیل علیہ الصلوٰة والسلام کا۔ باپ اور بیٹا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محترم اور معتبر قرار پا چکے ہیں۔ صدیاں گزر چکی ہیں لاکھوں نہیں کروڑوں، اربوں انسان اس قربانی کی یاد مناتے ہیں، جانور قربان کئے جاتے ہیں ہر سال لاکھوں حاجی سنت ابراہیمی کی ادائیگی فریضے کے طور پر سرانجام دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ تاابد، قیامت تک جاری رہے گا۔
دنیا میں 169کے قریب ممالک ہیں جہاں ایک ارب چالیس کروڑ یا اس سے زائد مسلمان بستے ہیں جو ہر سال عیدالاضحیٰ مناتے ہیں اور جانوروں کی قربانی کرتے ہیں، قربانی ایک مذہبی تہوار ہی نہیں یہ سماجی روابط کے فروغ کا ذریعہ بنتا ہے۔ معاشرے میں طبقاتی ہم آہنگی پیدا کرتا ہے بلکہ یہ ایک بہت بڑی معاشی سرگرمی بھی ہے۔ تجارتی سرگرمی بھی ہے۔ پاکستان ٹینریز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ عید
قربان کے موقع پر 68لاکھ جانور قربان کئے گئے۔ یاد رہے یہ اعداد و شمار وہ ہیں جو ضابطہ تحریر میں لائے گئے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے 68لاکھ جانوروں کی کھالیں وصول کیں، بہت ساری کھالیں ایسی بھی ہوں گی جو ان تک نہیں پہنچ سکیں اور دیگر استعمالات میں کھپ گئیں۔ بہرحال 68لاکھ جانوروں میں 28لاکھ گائیں، 35لاکھ بکرے، 3لاکھ 85ہزار بھیڑیں 99ہزار اونٹ اور 2لاکھ بھینسیں شامل تھیں۔ ان جانوروں کی مجموعی مالیت 500 ارب روپے یا 2ارب ڈالر بنتی ہے۔ گویا صرف 500ارب روپے کے جانوروں کے لین دین کا کام ہوا۔ یہ ایک پہلو ہے 500ارب روپے کی تجارت جبکہ جدید معاشی قانون ضارب کے مطابق جب ایک روپیہ گردش میں آتا ہے تو وہ کئی گنا زیادہ معاشی سرگرمی کا باعث بنتا ہے۔ جانوروں کی تجارت میں دیکھیں۔ منڈیوں میں لین دین ہوتا ہے، وہیں پر چارہ پہنچنے یا فراہم کرنے والی، پانی مہیا کرنے والے، ٹینٹ لگانے والے، چائے پانی سپلائی کرنے والوں کا کاروبار بھی شروع ہو جاتا ہے۔ جانوروں کے زیورات کا لین دین بھی چل نکلتا ہے۔ چھری، منڈھی، چاپر، سوئے وغیرہ کی صنعت بھی چل نکلتی ہے۔ جانوروں کی ترسیل کے لئے ٹرک، چنگچی، لوڈر وغیرہ والے بھی کمائی کرتے ہیں۔ آلائشوں کا کام بھی چل نکلتا ہے۔ سری پائے بھوننے والے بھی کمائی کرتے ہیں، جانوروں کی ہڈیوں سے جیلاٹین کی صنعت فروخت پاتی ہے، انتڑیوں سے ریکٹسن کی تندی بنتی ہے۔ جانوروں کے بالوں سے اون اور وگیں بنتی ہیں گویا 500ارب روپے کی گردش ضارب کے قانون کے مطابق 3تا 7گنا معاشی سرگرمی کے فروغ کا باعث بنتی ہے گویا گزشتہ عید پر 1500تا 3500ارب روپے کی معاشی سرگرمی معرض وجود میں آئی تھی۔ یاد رہے یہ ایک ملک کا کھاتہ ہے۔ ملک پاکستان جس کی 40فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگیاں گزارنے پر مجبور ہے جہاں بے روزگاری ہے، جہاں بجلی، گیس اور پانی کے بلوں نے عام شہری کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ آمدنی کم اور اضافی آمدنی کے ذرائع معدوم ہو چکے ہیں، بے روزگاری ہے۔ اس کے باوجود 68لاکھ جانوروں کی قربانی، 500ارب روپے کا خرچ، 1500تا 3500ارب روپے کی معاشی سرگرمی ایک ایسی حقیقت ہے جو مسلمانوں کے جذبہ قربانی و ایثار کی عکاس ہے۔ یہ ایک ایسی سرگرمی ہے یعنی جانوروں کی قربانی جس کے لئے کسی قسم کی منظم تحریک نہیں چلائی جاتی ہے یعنی لوگوں کو قربانی کرنے کی ترغیب نہیں دی جاتی ہے، انہیں ابھارا نہیں جاتا ہے بلکہ یہ سب کچھ رضاکارانہ طور پر ایک مذہبی جذبے کے تحت کیا جاتا ہے۔ قربانی اگر سنت ابراہیم ہے لیکن یہ اتباع محمد عربی ﷺ کے تحت کیا جاتا ہے۔ ہمیں تو معلوم نہیں تھا کہ قربانی کا واقعہ کیا ہے، ہمیں تو مخبر صادق، پیغمبر آخر الزماں محمد عربی ﷺ نے بتایا کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔ ہم نے نبی کریم ﷺ کو قربانی کرتے دیکھا اور سنا اور پھر سنت ابراہیمی، اتباع محمدﷺ کے ذریعے قربانی کا سلسلہ چل نکلا۔ سینکڑوں سالوں سے یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ قربانی کی یاد اب قربانی کا جذبہ بن کر مسلمانوں میں، مسلم معاشروں میں دوران خون کی طرح جاری و ساری ہے۔ اس کے لئے کسی ترغیب یا مہم کی ضرورت نہیں ہے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قربانی، گو سنت ابراہیمی کی یاد ہے لیکن محمد عربی ﷺ نے ہمیں جذبہ قربانی کو معاشرے میں پھیلانے کی ترغیب بھی دی ہے۔ ایثار و قربانی، محمد عربی ﷺ کا فرمان ہے دین اسلام کی روح ہے۔ تہذیبی اسلامی کا طرہ امتیاز ہے۔ دنیا کے تمام مسلمان ہر سال اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے احکامات اور رسول عربی ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ روزہ اور عیدالفطر جسمانی قربانی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ خواہشات کی قربانی، اللہ و رسول ﷺ کے احکامات اور اسوہ حسنہ کے مطابق زندگی گزارنے کا عہد کیا جاتا ہے۔ ماہ رمضان اس کی ایک پریکٹس ہوتی ہے۔ عہد کی تجدید ہوتی ہے۔ اسی طرح مالی و قربانی کا عہد، عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قربانی کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح مسلم معاشرہ پاکیزگی کی طرف بڑھتا ہے۔ اللہ کے احکامات، جیسے محمد عربی ﷺ نے بتائے، جس طرح ان پر عمل کیا، ہم بھی اسی طرح زندگی گزارنے کا عہد کرتے ہیں۔ ہر سال اس اتباع کی ریہرسل کرتے ہیں۔ اللہ ہماری قربانیاں قبول فرمائے۔ آمین۔ یا رب العالمین۔
عیدالاضحی: سنت ابراہیمی و اتباع محمدﷺ
09:49 AM, 7 Jun, 2025