مال .... اولاد .... اور فتنہ

09:27 AM, 8 Jul, 2026


قرآن کریم میں ارشادِ ربِ کریم ہے کہ مال اور اولاد میں تمہارے لیے ایک فتنہ ہے۔ قرآن عربی میں نازل ہوا .... اور اسے عربی ہی میں نازل ہونا چاہیے تھا، کہ اگرکسی اور زبان میں نازل ہوتا تو معانی میں اِس قدر بلاغت اور تنوع پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ لفظ ”فتنہ“ کے اگر معانی کھولیں جائیں تو یہ ایک الگ فتنہ ہو گا۔ ”فتنہ“ اُردو زبان میں بھی استعمال ہوتا ہے، لیکن فی الاصل عربی ہے۔ ہم نے یہ لفظ عربی زبان سے مستعار لیا ہے، اس کے معانی نہیں لے سکے۔ دراصل جب ایک زبان کا کوئی لفظ کسی دوسری زبان میں ہجرت کرتا ہے تو بہت سے معانی اپنے آبائی علاقے میں چھوڑ آتا ہے، اور نئی جگہ پر یہ ایک مختصر اور محدود معانی کے ساتھ پہنچتا ہے۔ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ لفظ کی ساخت وہی رہتی ہے، لیکن اس کے معانی دوسری زبان میں کچھ اس طرح کھو جاتے ہیں کہ مقامی لوگ اِس درآمد شدہ لفظ کے وہ معانی اپنا لیتے ہیں جو وہاں مستعمل نہیں ہوتے جہاں سے لفظ برآمد ہوا ہے۔ اگر معانی کسی طرح برقرار بھی رہیں تو معانی کی شدت اور اس کے مثبت اور منفی ہونے کے رخ میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ اس کی ایک کلاسیکل مثال لفظ ”شادی“ ہے، یہ فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کے معانی وہاں خوشی کے ہیں۔ یہاں ہماری زبان میں یہ لفظ محض بیاہ کے معنوں تک محدود ہو گیا ہے۔ اگرچہ بیاہ میں بھی خوشی کے آس پاس کا کوئی واقعہ ہوتا ہے، لیکن لازم نہیں کہ خوشی کا متبادل بھی ہو۔
اب لفظ ”فتنہ“ کی طرف لوٹتے ہیں۔ اُردو زبان کی ایک مرکب ترکیب میں ”فتنہ و فساد“ بھی بولا جاتا ہے، اور یہاں یہ لفظ سرتاپا منفی معانی کا حامل ہو جاتا ہے۔ جس طرح ہمارے ہاں ”نفس“ کا لفظ ہر حال میں منفی معنوں میں استعمال ہوتا ہے، دراں حالے کہ منفی ہونا تو نفس کی محض ایک حالت ہے، یہ لوّامہ بھی ہوتا اور مطمئنّہ بھی۔ عرفانِ رب کے لیے بھی عرفانِ نفس کی شرط رکھی گئی ہے، ظاہر ہے کہ تزکیہ شدہ نفس ہی کے لیے دعوتِ عرفان ہے، اور نفسِ مطمئنہ کا عرفان ہی عرفانِ رب میں ڈھلتا ہے۔ اسی طرح ادیبانہ اسلوب میں ”فتنہ سامان“ بھی ایک ترکیب ہے، محجوب کے حسن کی حشر سامانی کے لیے استعمال یہ ترکیب استعمال ہوتی ہے۔ اُردو میں مثبت ترین انداز میں یہ لفظ آزمائش کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے اکثر مترجمین نے اس آیت کا ترجمہ یوں ہی کیا ہے کہ مال اور اولاد میں تمہارے لیے آزمائش ہے۔ چلیں! کسی حد تک معنی منتقل ہوئے لیکن کما حقہ نہ ہو سکے۔ ”آزمائش“ بجائے خود ایک امتحان یا مصیبت کے معنوں میں مستعمل ہے۔ آزمائش ”فتنہ“ کا حصہ ضرور ہے، مکمل 
فتنہ نہیں۔ فتنہ کا مادہ ”فتن“ ہے۔ ”فتنہ“ کے معانی کے قریب پہنچنے کے لیے ذرا دامنِ زعم و فہم سمیٹنا پڑے گا۔ فتنہ اُس عمل کا نام ہے جو کسی دھات کو پگھلانے والی بھٹی میں ہوتا ہے۔ یعنی سخت حرارت میں لوہا، یا سونا پگھل جاتا ہے، اس کا میل کچیل نکل جاتا ہے اور وہ ایک نئی شکل و صورت میں صاف شفاف باہر نکل آتا ہے۔ فتنہ کے عمل میں ڈالنے سے پہلے سونے کی قدر و قیمت بہت کم ہوتی ہے، کہ یہ خام ہوتا ہے، اور اس فتنے میں سے گزرنے کے بعد یہ چمکدار سنہری ڈلیوں کی صورت میں جوہری کے ہاتھ اپنی صحیح قدرو قیمت پاتا ہے۔ گویا اُردو میں ”فتنہ“ کا قریب ترین ترجمہ ”آزمائش کی بھٹی“ ہو سکتا ہے۔
قرآن میں ارشادِ باری ہے کہ ہم نے انسان کی بہت تکریم کی۔ بس یہ اسی تکریم کا تقاضا ہے کہ وہ اِسے مال اور اولاد کے فتنوں میں سے گزارے تا آن کہ وہ ایسا کندن بن جائے کہ فرشتے اِس کی آب و تاب دیکھ کر اَش اَش کر اُٹھیں اور اِس کے بارے میں اپنی پہلی رائے سے تائب ہو جائیں .... ممکن ہے دوبارہ سجدے میں گر جائیں .... پہلا سجدہ اضطراری تھا، اب اختیاری ہو گا۔
مال اور اولاد کا فتنہ اگر انسان کو مغرور نہ کرے، اور مایوس نہ کرے تو اس کی ساری روحانی ریاضت گھر میں طے ہو جاتی ہے۔ اس کی ساری مسافت گھر میں کٹ جاتی ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ نے کیا خوب سنگِ میل نصب کیا ہے:
ہم اپنے آپ میں ہی تجھے ڈھونڈتے رہے
تیرے مسافروں کا سفر گھر میں کٹ گیا
جذبوں سے نمٹنے سے زیادہ ریاضت کیا ہو گی۔ اپنے اور اپنے ارد گرد انسانوں کے دھڑکتے ہوئے دلوں میں زلزلے پیدا کرنے والے جذبات میں خود کو مقیم و مستقیم رکھنا ایک مسلسل ریاضت ہے۔ یہاں اپنے افکار کی دنیا میں سفر کرنے والا ہی مسافر کہلاتا ہے۔ راہِ سلوک اپنے آس پاس کے انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے طے ہوتی ہے۔
 مال کی ہوس سے راستہ کھو کھو جاتا ہے، منزل کھوٹی ہوتی ہے۔ مال کی ہوس اور راہِ سلوک میں وہی فرق ہے جو ظلمت اور نور میں ہوتا ہے۔ وہ دل جو خانہ کعبہ قرار پاتا ہے، اور جس دلِ ِ مومن کے لیے عرشِ ربِ عُلیٰ ہونے کی سند جاری کی جاتی ہے، اُس دل میں لالچ، حسد، بغض اور کینے کے بت نصب ہوں؟ .... یہ کیسے ممکن ہے؟ صحن ِ حرمِ کعبہ کو بتوں سے پاک کرنے کے لیے ذوالفقارِ حیدری درکار ہوتی ہے۔ شانہِ نبوّت پر شانِ ولایت استویٰ ہو تو کعبہِ دل بیت اللہ ہی نہیں عرش اللہ بن جاتا ہے۔ شریعت کے ہمراہ طریقت ہو جائے تو درجہ¿ ایمان کے ساتھ ساتھ درجہ¿ احسان بھی میسر آ جاتا ہے۔
مال بقدرِ ضرورت ہے، اور ضرورت کا تعین بقدرِ تزکیہ نفس! ضرورت کو بس ضرورت کی حدتک رہنا چاہیے، اسے خواہش اور پھر حسرت نہیں بننا چاہیے۔ وگرنہ انسان اپنے ہی مال کا قیدی ہو کر رہ جائے گا۔ ایک طرف مال اور دوسری طرف انسان .... یہ آزمائش ہے، ظاہری بھی اور باطنی بھی .... اگر وہ کسی انسان کو چھوڑ کر مال کی طرف بڑھ گیا تو دنیا میں رہ گیا، اور اگر اُس نے مال کی قیمت پر انسان کا دل جیت لیا تو دنیا سے نکل عقبیٰ میں داخل ہو گیا۔ مال اور انسان .... انسان اور مال .... بس یہی دوراہا ایک آزمائش ہے .... یہی فتنے کا عمل ہے .... اصل کو کندن بنا دے گا .... اور نقل کو میل کچیل میں بہا دے گا۔
یہی حال اولاد کا ہے۔ اولاد کے فتنے سے گزرتے ہوئے ہم کامیاب ٹھہرتے ہیں یا ناکام .... ہمارے فیصلے سے پہلے وقت فیصلہ کر دیتا ہے۔ ہم اپنی اولاد کی محبت میں دین کے اصول سے باہر ہو جاتے ہیں یا اپنی اولاد کو دین کے اصول پر قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں .... یہ فیصلہ بھی اولاد کا فتنہ کر دیتا ہے۔ جہاں ہم اَولاد کے ہاتھوں مجبور ہو کر دین کے اصول نظر انداز کر گئے، وہاں ہم ناکام ہو گئے۔ اپنی اولاد کو برسرِ روزگار کرنے کے لیے اگر رشوت کا راستہ اختیار کر لیا تو گویا دین کے اصول کو اَولاد پر قربان کر دیا۔
اکثر اوقات ہم اپنی ناآسودہ خواہشات کی تکمیل اپنی اولاد کی ترقی کی شکل میں دیکھتا چاہتے ہیں۔ ہم اگر یورپ نہیں جا سکے تو اپنے بچوں کو بھیج دیتے ہیں، اگر ہم خود بیوروکریسی میں نہیں جا سکے تو چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے بیوروکریٹ بن جائیں۔ الغرض اپنی خواہشات کو اولاد کی ضروریات کا نام دیتے رہتے ہیں .... معلوم نہیں کسے بیوقوف بناتے ہیں .... خود کو یا کسی اور کو۔ اولاد کی ضروریات پوری کرنا فرض ہے، ان کی تعیشا ت کی فہرست پوری کرنا ہم پر لازم نہیں۔ اولاد کے مستقبل کے متعلق تشویش کے باب میں باب العلم حضرت علی وجہہ اللہ الکریم کا کیا خوب فرمان ہے: ”اپنے اہل و عیال اور اولاد کو اپنی فکر و مشغولیت کا سب سے بڑا موضوع نہ بنا لو۔ اگر وہ اللہ کے دوست ہیں تو اللہ اپنے دوستوں کو ضائع نہیں کرتا، اور اگر وہ اللہ کے دشمن ہیں تو پھر تمہیں اللہ کے دشمنوں کی کیا فکر اور کیا مشغولی؟
ہم ابراہیمؑ اور آلِ ابرہیم کو مانتے ہیں .... ابراہیمؑ اور آلِ ابراہیم پر درود بھیجتے ہیں .... لیکن اپنے طرزِ فکر و عمل میں شیوہِ آذری پر ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ، آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کی سنّت اپنی اولاد کو دین پر قربان کرنا ہے .... اور ایک ہم ہیں کہ دینی احکام و اقدار کو اولاد پر قربان کر دیتے ہیں۔ حرم کا رخ کرنے والے داستانِ حرم بھلائے بیٹھے ہیں:
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حُسینؓ، ابتدا ہے اسمٰعِیلؑ

مزیدخبریں