پاکستان میں ہر حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ بیرونی سرمایہ کاری لائے گی، معیشت کو مستحکم کرے گی، روزگار پیدا ہوگا اور ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔ اسی مقصد کے لیے مختلف ادارے بھی قائم کیے گئے، لیکن حالیہ برسوں میں جس ادارے سے سب سے زیادہ امیدیں وابستہ کی گئیں، وہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل ہے۔ اس ادارے کو سول اور عسکری قیادت کی مشترکہ سرپرستی حاصل ہے اور اسے سرمایہ کاری کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا ایک موثر پلیٹ فارم قرار دیا جاتا ہے۔
گزشتہ دنوں ایس آئی ایف سی کے نمائندوں سے ڈومیسٹک کامرس کے حوالے سے ملاقات میں ادارے کے ورکنگ پیٹرن پر بات چیت ہوئی۔ اس ملاقات میں بتایا گیا کہ ریگولیٹری اصلاحات کے لیے قوانین کا جائزہ تین بنیادی اصولوں پر لیا جا تاہے۔ معاملے کی قانونی حیثیت، ضرورت اور کاروبار دوستی۔ اس عمل میں قوانین کا تفصیلی جائزہ، کاروباری عمل کا تجزیہ، لاگت کا حساب اور عالمی سطح پر بہترین طریقہ کار سے موازنہ کیا جاتا ہے۔جس کے بعد سفارشات خصوصی کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کو پیش کی جاتی ہیں۔اگر دیکھا جائے تو یہ منصوبہ بندی متاثر کن محسوس ہوتی ہے۔ لیکن ایک سوال جو پاکستان کا دانشور طبقہ مسلسل پوچھ رہا ہے کہ اگر اتنی محنت ہو رہی ہے تو نتائج کہاں ہیں؟ کیونکہ دی نیوز میں شائع شدہ اعداد و شمار تلخ حقیقت بیان کرتے ہیں۔ مالی سال 2025-26 کے پہلے گیارہ ماہ میں پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پچھلے سال کے مقابلے میں اٹھائیس اعشاریہ چار فیصدکمی ہوئی جو 1.623 ارب ڈالر رہ گئی۔ یہ صرف ایک معاشی انڈیکیٹرنہیں بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کا پیمانہ بھی ہے۔ جب سرمایہ کاری مسلسل کم یا نہ ہونے کے برابر ہو تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں بنیادی مسئلہ اب بھی موجود ہے۔اگر سرمایہ کاری کم ہوئی ہے تو یہ بنیادی سوال پوچھنا بہت ضروی ہے کہ کیا بیرونی سرمایہ کار پاکستان کو اس لیے نظر انداز کر رہے ہیں کہ انہیں معلومات کم ہیں یا اس لیے کہ وہ یہاں کے مقامی سرمایہ کاروں کی حالت دیکھ رہے ہیں؟۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی غیر ملکی سرمایہ کار کسی
ملک میں سرمایہ لگانے سے پہلے وہاں کے مقامی سرمایہ کاروں کی حالت دیکھتا ہے۔ اگر مقامی صنعت کار، تاجر اور سرمایہ کار خود نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہوں، تو بیرونی سرمایہ کار بھی یہی سمجھتا ہے کہ شاید اس ملک میں کوئی بنیادی مسئلہ موجود ہے۔ اگرچہ ایس آئی ایف سی پاکستان میں سرمایہ کاری لانے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن جب تک مقامی سرمایہ کاری میں اضافہ نہیں ہوگا، بیرونی سرمایہ کار پاکستان کو پرکشش منزل نہیں سمجھیں گے۔ دنیا میں سرمایہ ہمیشہ مقامی سرمایہ کار کی پیروی کرتا ہے۔ جہاں مقامی سرمایہ اعتماد کے ساتھ بڑھ رہا ہو وہاں بیرونی سرمایہ خود راستہ تلاش کر لیتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سہولتوں کی بات ہوتی ہے، دوسری طرف مقامی سرمایہ کار کو روز بروز پیچیدہ قوانین، غیر یقینی فیصلوں اور ریگولیٹری دبا¶ کا سامنا کر رہے ہیں۔صرف آرگنائزڈ ریٹیل سیکٹر کی مثال لے لیجیے۔ یہ وہ کاروبار ہیں جو باقاعدہ ٹیکس دیتے ہیں، ملازمین کو قانونی حقوق فراہم کرتے ہیں، ڈیجیٹل نظام اپناتے ہیں اور ہر ضابطے کی پابندی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود گزشتہ چند برسوں میں انہیں مسلسل نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
کبھی مارکیٹوں کے اوقات کار پر پابندیاں لگا دی جاتی ہیں، کبھی پری ازمپٹو انکم ٹیکس، ودہولڈنگ اور ایڈوانس ٹیکس کے نئے بوجھ سامنے آ جاتے ہیں۔ بصورت دیگر کاروباری بندشیں۔ صوبائی اور بلدیاتی اداروں کی الگ الگ ریگولیشنز کاروبار کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ ایف بی آر کے پوائنٹ آف سیل کے ٹیکنیکل نظام میں معمولی تکنیکی خرابی کی بنیاد پر کاروبار سیل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ سیلز ٹیکس کی شرح صرف چند برسوں میں 6 فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ سب کچھ ان کاروباروں کے ساتھ ہو رہا ہے جو ریاست کے ساتھ مکمل طور پر دستاویزی تعلق رکھتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں جو کاروبار ٹیکس نظام سے باہر ہیں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ریاست مقامی سطح پر قانونی دائرے میں موجود سرمایہ کاروں کے لئے آسانیاں پیدا نہیں کرے گی تو دنیا کا سرمایہ کار اس ریاست پر کیوں اعتماد کرے گا؟۔
اصل مسئلہ شاید اداروں سے زیادہ نظام چلانے والے ذہن کا ہے۔ ایس آئی ایف سی کا قیام اور مقصد درست ہے کیونکہ پاکستان کو سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن تین برس کی بھرپور کوششوں کے باوجود بھی اگر بیرونی و اندرونی سرمایہ کاری میں اضافہ نہیں ہورہا تو دیکھنا ہوگا کہ نئے خطوط پر قائم ادارہ نتائج کیوں نہیں دے پا رہا؟ کہیں بابو کریسی کا روایتی طریقہ کار ہی تو اس اہم ادارے کی کارکردگی میں آڑے تو نہیں آرہا؟ ۔
سرمایہ کار صرف پرکشش پریزینٹیشنز پر مکمل اعتماد نہیں کرتا، وہ پالیسی کا تسلسل اور عمل پذیر ی کا طریقہ کار دیکھتا ہے۔ وہ صرف وقتی مراعات نہیں دیکھتا بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ کیا قوانین کل بھی یہی رہیں گے؟ کیا کوئی نیاافسر اچانک نئی تشریح کرکے پورا کاروباری ماڈل تبدیل تونہیں کر دے گا؟ کیا عدالتوں، ریگولیٹرز اور حکومتی اداروں کا رویہ قابلِ پیش گوئی ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کے جواب سرمایہ کاری کے فیصلے طے کرتے ہیں۔
ایس آئی ایف سی اگر واقعی پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے صرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے دروازے کھولنے پر توجہ نہیں دینی چاہیے بلکہ مقامی سرمایہ کاروں کے لیے رکاوٹیں ہٹانی ہوں گی۔ اگر پاکستان کا صنعت کار، ریٹیلر اور کاروباری شخص خود اعتمادی کے ساتھ سرمایہ کاری کرنا شروع کر دے تو بیرونی سرمایہ کار کو قائل کرنے کے لیے الگ مہم چلانے کی شاید اتنی ضرورت ہی نہ پڑے۔
جب پاکستان میں مقامی سرمایہ کار کو یہ یقین دلا دیا جائے گا کہ اس کی سرمایہ کاری محفوظ ہے، قوانین مستقل ہیں، ادارے سہولت کار ہیں اور ریاست اسے شک کی نگاہ سے نہیں بلکہ ترقی کے شراکت دار کے طور پر دیکھتی ہے، تب ہی دنیا بھی پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد سرمایہ کاری کی منزل سمجھے گی۔کیونکہ بیرونی سرمایہ کار سب سے پہلے یہی دیکھتا ہے کہ جس ملک کے اپنے لوگوں میں ہی سرمایہ ڈوبنے کا خوف موجود ہے تو وہ کیوں اس کنوئیں میں چھلانگ لگائے؟۔
ایس آئی ایف سی اور ڈرے ہوئے سرمایہ کار؟
09:29 AM, 8 Jul, 2026