سندھ طاس معاہدہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، پاکستان آبی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم

12:25 AM, 7 Jul, 2026

اسلام آباد: سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے اقدامات پر پاکستان کی سیاسی قیادت نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔

وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے بھارت کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا بلکہ اسے عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی آبی، غذائی، توانائی اور قومی سلامتی سے منسلک اہم معاملہ ہے۔ بھارت کی یکطرفہ کارروائی اور دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی قابل قبول نہیں۔

چیئرمین واپڈا نے کہا کہ مغربی دریاؤں پر بھارتی منصوبے خطے کی آبی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

ادھر سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان، ڈاکٹر شرمیلا فاروقی، پلوشہ خان، بیرسٹر عقیل اور بلال اظہر کیانی سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارتی اقدامات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

مزیدخبریں